کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ قدیم اہلِ علم بعض کاموں کے آغاز کے لیے مخصوص اوقات کا انتخاب کیوں کرتے تھے؟ کسی اہم شخص سے ملاقات، تجارت شروع کرنے، سفر پر روانہ ہونے یا کسی معاملے میں صلح و موافقت کی کوشش کے لیے ایک خاص ساعت کو کیوں اہم سمجھا جاتا تھا؟
ان سوالات کا تعلق ایک ایسے روایتی علم سے ہے جسے علمِ ساعت کہا جاتا ہے۔
علمِ ساعت میں وقت کو صرف گھڑی کی سوئیوں سے نہیں دیکھا جاتا، بلکہ دن اور رات کے مختلف حصوں کو سات سیاروی حاکموں کے ساتھ منسوب کیا جاتا ہے۔ ہر حاکم کی مخصوص روایتی خصوصیات سمجھی جاتی ہیں اور انہی نسبتوں کی بنیاد پر مختلف کاموں کے لیے اوقات کا انتخاب کیا جاتا ہے۔
یہ علم محض سیاروں کے نام یاد کرنے کا نام نہیں۔ اس کے اپنے حسابی اصول، مخصوص ترتیب، تاریخی استعمالات اور تعبیر کے طریقے ہیں۔
اس مضمون میں ہم یہ سمجھیں گے کہ علمِ ساعت کیا ہے، اسے کیوں استعمال کیا جاتا ہے، اس کے ذریعے انسان کیا جان سکتا ہے، اس کے روایتی فوائد کیا ہیں اور کسی بھی دن یا رات کی ساعت کیسے معلوم کی جاتی ہے۔
علمِ ساعت کیا ہے؟
عربی زبان میں ساعت کا لفظ وقت کی ایک مقررہ مقدار یا گھڑی کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔
روایتی سیاروی حساب میں علمِ ساعت سے مراد ایسا طریقہ ہے جس کے ذریعے طلوعِ آفتاب سے غروبِ آفتاب تک کے وقت کو بارہ حصوں میں اور غروبِ آفتاب سے اگلے طلوعِ آفتاب تک کے وقت کو مزید بارہ حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔
اس طرح دن اور رات کی مجموعی چوبیس ساعات بنتی ہیں۔
ہر ساعت کو سات معروف سیاروی حاکموں میں سے کسی ایک سے منسوب کیا جاتا ہے۔
یہ سات حاکم درج ذیل ہیں:
۱۔ شمس — سورج
۲۔ قمر — چاند
۳۔ مریخ
۴۔ عطارد
۵۔ مشتری
۶۔ زہرہ
۷۔ زحل
قدیم اصطلاح میں سورج اور چاند کو بھی ان سات حاکموں میں شمار کیا جاتا ہے۔
علمِ ساعت کا بنیادی اصول یہ ہے کہ ہر ساعت کا ایک مخصوص حاکم ہوتا ہے اور اس حاکم کے ساتھ بعض روایتی اوصاف، نسبتیں اور کام وابستہ سمجھے جاتے ہیں۔
مثلاً عطارد کو تحریر، تجارت، تعلیم اور گفتگو سے منسوب کیا گیا ہے، جبکہ زہرہ کی نسبت محبت، موافقت، خوشی اور حسن سے بیان کی جاتی ہے۔
انہی نسبتوں کو سمجھنا علمِ ساعت کے مطالعے کی بنیاد ہے۔
علمِ ساعت کا استعمال کیوں کیا جاتا ہے؟
اس علم کا بنیادی مقصد وقت کی روایتی خصوصیات کو سمجھنا اور کسی کام کے لیے مناسب ساعت کا انتخاب کرنا ہے۔
قدیم اہلِ فن کے سامنے مختلف سوالات ہوتے تھے۔
مثلاً:
- کسی اہم شخص سے ملاقات کے لیے کون سی ساعت دیکھی جائے؟
- کاروباری گفتگو یا لین دین کے لیے کس ساعت کی نسبت مناسب سمجھی جاتی ہے؟
- سفر شروع کرتے وقت کن روایتی اصولوں کو دیکھا جاتا تھا؟
- صلح یا باہمی موافقت کے معاملات میں کون سی ساعات زیرِ غور آتی تھیں؟
- مخصوص روایتی روحانی اعمال کے اوقات کا تعین کس طرح کیا جاتا تھا؟
- کسی خاص وقت پر کون سا سیارہ حاکمِ ساعت ہوتا ہے؟
ان سوالات کے جواب تلاش کرنے کے لیے اہلِ فن دن، ساعت اور بعض صورتوں میں دیگر نجومی نسبتوں کو بھی دیکھتے تھے۔
مثلاً کسی شخص کو اہم خط لکھنا ہو تو وہ عطارد کی ساعت کو زیرِ غور لا سکتا تھا، کیونکہ عطارد کے ساتھ لکھنے، گفتگو کرنے اور پیغام رسانی کی نسبت بیان کی جاتی ہے۔
اسی طرح کسی بزرگ، صاحبِ اختیار یا بااثر شخصیت سے ملاقات کے لیے مشتری کی ساعت کو اہم سمجھنے کی مثالیں روایتی کتب میں ملتی ہیں۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ ساعت معلوم ہوتے ہی کسی کام کا نتیجہ لازماً طے ہوگیا۔ ساعت کا انتخاب ایک مخصوص روایتی طریقے کا حصہ ہے، جبکہ اس کی تعبیر اور کسی عمل کے انجام کے متعلق رائے الگ معاملہ ہے۔
علمِ ساعت کی تاریخ اور قدیم علمی روایت
سیاروی ساعات کا تعلق ہفتے کے سات دنوں اور ان سے وابستہ سات سیاروی حاکموں کی قدیم روایت سے ہے۔
قدیم نجومی نظام میں ساتوں حاکموں کو ایک خاص ترتیب کے ساتھ ساعات پر مقرر کیا جاتا تھا۔
اسی ترتیب سے ہفتے کے مختلف دنوں کی سیاروی نسبتیں بھی سمجھائی جاتی تھیں۔
سیاروی ہفتے اور ساعات کی وضاحتیں دوسری صدی عیسوی کے نجومی ویٹیئس ویلینس اور بعد کے مؤرخ کیسیئس ڈیو کے مباحث میں ملتی ہیں۔ بعض اس سے قدیم آثار میں بھی سیاروی ساعات کی ترتیب کے شواہد پائے گئے ہیں۔
تاہم اس پورے نظام کی ابتدا کو قطعی طور پر کسی ایک تہذیب سے منسوب کرنا تاریخی لحاظ سے احتیاط طلب معاملہ ہے۔
اسلامی دور کے اہلِ علم میں اس کا ذکر
گیارہویں صدی کے معروف عالم ابوریحان البیرونی نے بھی سیاروں کی ساعات اور دنوں کی نسبت پر گفتگو کی ہے۔
ان کی کتاب تحقیق ما للہند کے انگریزی ترجمے Alberuni's India میں بتایا گیا ہے کہ اتوار کی پہلی ساعت شمس کی ہوتی ہے، اس کے بعد زہرہ، پھر عطارد اور پھر قمر کی باری آتی ہے۔
یہ ترتیب آگے چلتی رہتی ہے اور اگلے دن کی پہلی ساعت قمر کے حصے میں آتی ہے۔
البیرونی نے مختلف علاقوں اور علمی روایات میں ساعات کے حساب کے بعض اختلافات بھی بیان کیے ہیں۔
یہ تاریخی بیان خاص اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ اس سے ہمیں ساعت کی اصل ترتیب اور طریقۂ حساب سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔
بعد کے ادوار میں اہلِ نجوم نے ساعات کو مختلف کاموں کے آغاز اور وقت کے انتخاب کے لیے بھی استعمال کیا۔
مثلاً سترھویں صدی کے مصنف ہنری کولی نے زمین، سفر، خطوط، تجارت، اہم شخصیات سے ملاقات اور شادی کے معاملات میں مختلف سیاروی ساعات کے روایتی استعمالات بیان کیے ہیں۔
اس سے واضح ہوتا ہے کہ علمِ ساعت کا استعمال محض ایک موضوع تک محدود نہیں تھا۔
سات سیارے اور ان کی ساعات کی روایتی خصوصیات
علمِ ساعت کو سمجھنے کے لیے ساتوں حاکموں کے عمومی اوصاف جاننا ضروری ہے۔
۱۔ ساعتِ شمس
شمس یعنی سورج کی نسبت عزت، وقار، سربراہی، اختیار اور نمایاں مقام سے بیان کی جاتی ہے۔
قدیم روایات میں بعض اہلِ فن اس ساعت کو ایسے معاملات کے لیے زیرِ غور لاتے تھے جن کا تعلق صاحبِ اختیار اشخاص سے ملاقات، منصب یا قبولیتِ حیثیت سے ہو۔
اس ساعت کی تعبیر کرتے وقت صرف شمس کا نام نہیں، بلکہ کام کی نوعیت بھی دیکھی جاتی تھی۔
۲۔ ساعتِ قمر
قمر یعنی چاند کی نسبت حرکت، تبدیلی، روزمرہ معاملات اور سفر سے بیان ہوتی ہے۔
روایتی کتب میں بعض سفری معاملات اور نقل و حرکت کے ساتھ قمر کا تعلق ملتا ہے۔
چونکہ قمر کی روایتی تعبیر میں تغیر اور تبدیلی کا پہلو نمایاں ہے، اس لیے اس کی ساعت کو بعض اوقات ایسے کاموں کے تناظر میں دیکھا جاتا تھا جن میں حرکت یا تبدیلی مقصود ہو۔
۳۔ ساعتِ مریخ
مریخ کے ساتھ قوت، مقابلہ، جدوجہد، سختی اور کشمکش کی نسبتیں وابستہ ہیں۔
بعض روایتی تعبیرات میں اسے ہمت اور مقابلے کے معاملات سے جوڑا جاتا ہے۔
تاہم بعض قدیم مصنفین نے مریخ کی ساعت میں پرامن یا اہم نئے کام شروع کرنے سے احتیاط کی تلقین بھی کی ہے۔
اس لیے مریخ کو ہر کام کے لیے موزوں یا ہر صورت میں ناموزوں کہنا درست تاریخی تعبیر نہیں۔
۴۔ ساعتِ عطارد
عطارد کی نسبت علم، تحریر، حساب، تجارت، گفتگو اور پیغام رسانی سے بیان کی جاتی ہے۔
روایتی استعمالات میں اس ساعت کو خطوط لکھنے، کاروباری گفتگو، خرید و فروخت اور تعلیم جیسے معاملات کے لیے دیکھا جاتا تھا۔
مثلاً کسی تجارتی معاہدے کے متعلق خط و کتابت مقصود ہو تو عطارد کی ساعت کا انتخاب ایک معروف روایتی مثال ہے۔
۵۔ ساعتِ مشتری
مشتری کے ساتھ وسعت، سخاوت، سرپرستی، بلند مرتبہ افراد اور ترقی کی نسبتیں بیان کی جاتی ہیں۔
روایتی کتب میں اس ساعت کو بااثر اشخاص سے ملاقات، تعاون حاصل کرنے اور بعض معاہدوں کے لیے مناسب سمجھنے کی مثالیں ملتی ہیں۔
کسی اہم درخواست یا باوقار ملاقات کے لیے مشتری کی ساعت کا ذکر بھی اسی وجہ سے کیا جاتا تھا۔
۶۔ ساعتِ زہرہ
زہرہ کی نسبت محبت، خوشی، خوب صورتی، موافقت اور باہمی تعلقات سے بیان کی جاتی ہے۔
قدیم اہلِ فن نے اسے شادی سے متعلق معاملات، میل جول، خوشی کی تقریبات اور بعض موافقت پیدا کرنے والی سرگرمیوں سے منسوب کیا۔
صلح اور خوش گوار گفتگو کے لیے بھی بعض روایات میں زہرہ کی ساعت کا انتخاب زیرِ غور آتا ہے۔
۷۔ ساعتِ زحل
زحل کی نسبت صبر، سنجیدگی، پابندی، دیرپا امور، زمین اور بعض سخت حالات سے بیان ہوتی ہے۔
قدیم کتب میں زحل کی ساعت کو بعض سفر یا نئے کاموں کے لیے ناموافق سمجھنے کی مثالیں بھی ملتی ہیں۔
دوسری طرف زمین، کاشت کاری اور بعض دیرپا معاملات کے ساتھ اس کی مناسبت بھی بیان ہوئی ہے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک ہی سیارے کی مختلف روایتی نسبتیں ہوسکتی ہیں۔
علمِ ساعت سے انسان کیا جان سکتا ہے؟
یہ سوال اس علم کی اصل افادیت کو سمجھنے کے لیے نہایت اہم ہے۔
علمِ ساعت کے بنیادی طریقے سے انسان درج ذیل چیزیں معلوم کرسکتا ہے۔
۱۔ کسی دن کا سیاروی حاکم
ہفتے کے ہر دن کی ایک مقررہ سیاروی نسبت ہوتی ہے۔
مثلاً پیر کا حاکم قمر، جمعرات کا مشتری اور جمعہ کا زہرہ ہے۔
۲۔ کسی خاص وقت کا حاکمِ ساعت
مقام، تاریخ، طلوع و غروب کے اوقات اور سیاروی ترتیب معلوم ہونے پر کسی مخصوص گھڑی کی ساعت نکالی جاسکتی ہے۔
مثلاً صبح نو بج کر بیس منٹ پر کون سا سیارہ حاکم ہے، اس کا حساب کیا جاسکتا ہے۔
۳۔ اس ساعت کی روایتی نوعیت
حاکمِ ساعت معلوم ہونے کے بعد اس کے ساتھ وابستہ روایتی صفات کو سمجھا جاتا ہے۔
مثلاً آیا اس ساعت کا تعلق موافقت، تحریر، اختیار، حرکت یا کسی اور نوعیت کے معاملات سے بیان کیا گیا ہے۔
۴۔ کسی کام کے لیے وقت کا روایتی انتخاب
اہلِ فن کسی کام کی نوعیت اور حاکمِ ساعت کی نسبت کو سامنے رکھ کر وقت منتخب کرنے کی کوشش کرتے تھے۔
مثلاً تحریر و گفتگو کے لیے عطارد اور بعض موافقت کے معاملات کے لیے زہرہ کی ساعت دیکھی جاتی تھی۔
۵۔ دن اور ساعت کی باہمی نسبت
بعض روایات میں دن کے حاکم اور ساعت کے حاکم کو ایک ساتھ دیکھا جاتا ہے۔
مثلاً بدھ کے دن عطارد کی ساعت میں دن اور ساعت دونوں کی نسبت عطارد سے ہوتی ہے۔
اسی طرح جمعہ کے دن زہرہ کی ساعت کو دونوں نسبتوں کا اجتماع سمجھا جاتا ہے۔
۶۔ قدیم روحانی اور نجومی تحریروں کی بہتر سمجھ
بعض قدیم کتابوں میں صرف یہ لکھا ہوتا ہے کہ فلاں کام مشتری یا زہرہ کی ساعت میں کیا جائے۔
جب قاری کو ساعات کا حساب معلوم ہو تو وہ ایسی ہدایات کا تاریخی اور عملی مفہوم زیادہ اچھی طرح سمجھ سکتا ہے۔
اہم فرق: کسی ساعت کا حاکم معلوم کرنا ایک باقاعدہ حسابی عمل ہے، جبکہ اس ساعت سے کسی شخص کی زندگی یا مستقبل کے بارے میں نتیجہ اخذ کرنا ایک الگ تعبیراتی مرحلہ ہے۔
محض حاکمِ ساعت معلوم ہوجانے سے پوری زندگی کا زائچہ یا ہر آنے والے واقعے کی تفصیل حاصل نہیں ہوتی۔
علمِ ساعت کے روایتی فوائد کیا ہیں؟
مناسب وقت کا انتخاب
اس علم کا نمایاں استعمال کسی کام کے آغاز کے لیے اس کی نوعیت سے منسوب ساعت تلاش کرنا ہے۔
روایتی اہلِ فن وقت کے اس انتخاب کو اپنے طریقۂ کار کا ایک اہم حصہ سمجھتے تھے۔
روحانی روایات میں اوقات کی پہچان
بعض تاریخی روحانی اور نجومی روایات میں مخصوص کاموں کے لیے مقررہ سیاروی ساعات کا ذکر ملتا ہے۔
علمِ ساعت جاننے والا شخص ان اوقات کے حساب کو سمجھ سکتا ہے اور متعلقہ روایت کا مطالعہ زیادہ درست انداز میں کرسکتا ہے۔
تاہم ہر روحانی یا دینی عمل کو سیاروی ساعت کے تابع سمجھ لینا ضروری نہیں۔ ہر عمل کے اپنے اصول اور مستند ماخذ ہوتے ہیں۔
اوقات کی روایتی خصوصیات کو سمجھنا
اس علم کے ذریعے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ قدیم اہلِ فن مختلف اوقات کو کس بنیاد پر الگ الگ خصوصیات سے منسوب کرتے تھے۔
حساب اور مشاہدے کی تربیت
علمِ ساعت سیکھنے والا شخص طلوع و غروب کے اوقات، دن اور رات کی مدت، عددی تقسیم اور مسلسل سیاروی ترتیب کا حساب سیکھتا ہے۔
دیگر روایتی علوم کے مطالعے میں مدد
علمِ ساعت کا تعلق علمِ نجوم کے وسیع تر مباحث سے ہے۔
اسے سمجھ لینے سے روایتی وقت کے انتخاب اور بعض دوسرے نجومی طریقوں کے درمیان فرق واضح ہوجاتا ہے۔
ان فوائد کو سمجھتے وقت یہ بات پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ کسی ساعت کا انتخاب کسی کام کے انجام کی قطعی ضمانت نہیں ہوتا۔
ہفتے کے سات دن اور ان کے حاکم سیارے
| دن | حاکم سیارہ |
|---|---|
| اتوار | شمس |
| پیر | قمر |
| منگل | مریخ |
| بدھ | عطارد |
| جمعرات | مشتری |
| جمعہ | زہرہ |
| ہفتہ | زحل |
ہر دن کی پہلی سیاروی ساعت طلوعِ آفتاب سے شروع ہوتی ہے۔
اس مقام پر ایک اہم بات سمجھنا ضروری ہے۔
عام گھڑی اور تاریخ کے حساب سے نیا دن رات بارہ بجے شروع ہوتا ہے، لیکن علمِ ساعت کے اس روایتی حساب میں دن کے سیاروی حاکم کی نئی ترتیب طلوعِ آفتاب سے شروع ہوتی ہے۔
مثلاً پیر کی رات دو بجے، یعنی عام تاریخ کے اعتبار سے پیر کی صبح، ابھی اتوار کے بعد آنے والی رات کی ساعات کا سلسلہ جاری ہوگا۔
اس لیے ساعت کا حساب کرتے وقت صرف کیلنڈر کی تاریخ دیکھنا کافی نہیں۔
سیاروں کی اصل ترتیب کیا ہے؟
ساعات کے حساب میں ساتوں حاکم ایک مخصوص مسلسل ترتیب سے چلتے ہیں۔
یہ ترتیب درج ذیل ہے:
زحل ← قمر ← عطارد ← زہرہ ← شمس ← مریخ ← مشتری ← زحل
یہاں تیر کی سمت کو دائیں سے بائیں پڑھا جائے، یعنی آغاز زحل سے ہوگا۔
اسے ترتیب وار یوں یاد رکھنا زیادہ آسان ہے:
۱۔ زحل
۲۔ مشتری
۳۔ مریخ
۴۔ شمس
۵۔ زہرہ
۶۔ عطارد
۷۔ قمر
پھر دوبارہ زحل سے یہی ترتیب شروع ہوجاتی ہے۔
اسے عموماً کلدانی ترتیب کہا جاتا ہے۔
یہ بات یاد رہے کہ ساعات کی ترتیب اور ہفتے کے دنوں کی ترتیب ایک جیسی نہیں۔
مثلاً اتوار کا پہلا حاکم شمس ہے، لیکن اس کے بعد دوسری ساعت قمر کی نہیں بلکہ زہرہ کی آتی ہے۔
اتوار کی ابتدائی سات ساعات کی ترتیب یوں ہوگی:
شمس، زہرہ، عطارد، قمر، زحل، مشتری، مریخ۔
پھر یہی سلسلہ دوبارہ شمس سے جاری ہوگا۔
دن کی ساعات کیسے نکالی جاتی ہیں؟
دن کی ساعات نکالنے کے لیے سب سے پہلے متعلقہ مقام پر سورج کے طلوع اور غروب ہونے کا وقت معلوم کیا جاتا ہے۔
اس کے بعد طلوع سے غروب تک کی پوری مدت بارہ برابر حصوں میں تقسیم کی جاتی ہے۔
قاعدہ:
دن کی ایک ساعت = طلوعِ آفتاب سے غروبِ آفتاب تک کی مدت ÷ ۱۲
یہاں ایک اہم نکتہ ہے۔
علمِ ساعت میں ہر ساعت کا ساٹھ منٹ کی ہونا ضروری نہیں۔
اگر دن لمبا ہوگا تو اس کی ایک ساعت ساٹھ منٹ سے زیادہ بھی ہوسکتی ہے۔
اگر دن چھوٹا ہوگا تو اس کی ایک ساعت ساٹھ منٹ سے کم بھی ہوسکتی ہے۔
اس لیے عام گھڑی کے بارہ گھنٹوں کو براہِ راست بارہ سیاروی ساعات سمجھ لینا بعض تاریخوں میں غلط حساب پیدا کرے گا۔
رات کی ساعات کیسے نکالی جاتی ہیں؟
رات کی ساعات معلوم کرنے کا طریقہ بھی بنیادی طور پر یہی ہے۔
فرق صرف یہ ہے کہ اب غروبِ آفتاب سے اگلے دن کے طلوعِ آفتاب تک کی مدت لی جائے گی۔
قاعدہ:
رات کی ایک ساعت = غروبِ آفتاب سے اگلے طلوعِ آفتاب تک کی مدت ÷ ۱۲
اس طرح رات کی بھی بارہ ساعات حاصل ہوجاتی ہیں۔
البتہ رات کی ایک ساعت کا دورانیہ دن کی ایک ساعت سے مختلف ہوسکتا ہے۔
ایک اور ضروری بات یہ ہے کہ غروبِ آفتاب پر سیاروں کی ترتیب دوبارہ پہلی ساعت سے شروع نہیں ہوتی۔
بلکہ دن کی بارہویں ساعت کے بعد اسی ترتیب کا اگلا حاکم رات کی پہلی ساعت کا حاکم ہوگا۔
عملی مثال: اتوار کی تمام ساعات کا حساب
اب ایک مکمل مثال سے سمجھتے ہیں کہ علمِ ساعت کا حساب کس طرح کیا جاتا ہے۔
فرض کریں کسی مقام پر اتوار کے دن:
طلوعِ آفتاب: صبح ۶ بج کر ۱۰ منٹ
غروبِ آفتاب: شام ۵ بج کر ۴۰ منٹ
اگلے دن طلوعِ آفتاب: صبح ۶ بج کر ۲۰ منٹ
یہ صرف حساب سکھانے کے لیے فرضی اوقات ہیں، کسی خاص شہر کی حقیقی تاریخ کے اوقات نہیں۔
پہلا مرحلہ: دن کی کل مدت
صبح ۶:۱۰ سے شام ۵:۴۰ تک:
کل مدت = ۱۱ گھنٹے ۳۰ منٹ
یعنی:
۶۹۰ منٹ
اب اسے بارہ پر تقسیم کریں۔
۶۹۰ ÷ ۱۲ = ۵۷٫۵ منٹ
اس کا مطلب ہے کہ دن کی ایک ساعت ۵۷ منٹ ۳۰ سیکنڈ ہوگی۔
دوسرا مرحلہ: پہلی ساعت معلوم کرنا
چونکہ دن اتوار ہے، اس لیے پہلی ساعت شمس کی ہوگی۔
صبح ۶:۱۰ سے ۷:۰۷:۳۰ تک — ساعتِ شمس
اس کے بعد اگلا حاکم زہرہ ہے۔
صبح ۷:۰۷:۳۰ سے ۸:۰۵ تک — ساعتِ زہرہ
پھر عطارد کی باری آتی ہے۔
صبح ۸:۰۵ سے ۹:۰۲:۳۰ تک — ساعتِ عطارد
اسی قاعدے سے اگلی ساعات نکالی جائیں گی۔
تیسرا مرحلہ: رات کی مدت
شام ۵:۴۰ سے اگلی صبح ۶:۲۰ تک:
کل مدت = ۱۲ گھنٹے ۴۰ منٹ
یعنی:
۷۶۰ منٹ
۷۶۰ ÷ ۱۲ = ۶۳ منٹ ۲۰ سیکنڈ
اس طرح رات کی ایک ساعت ایک گھنٹہ، تین منٹ اور بیس سیکنڈ ہوگی۔
چوتھا مرحلہ: رات کا پہلا حاکم
اتوار کے دن کی بارہویں ساعت زحل کی ہوتی ہے۔
اس کے بعد مشتری کی باری آتی ہے۔
لہٰذا اتوار کی رات کی پہلی ساعت مشتری کی ہوگی۔
شام ۵:۴۰ سے ۶:۴۳:۲۰ تک — ساعتِ مشتری
اس کے بعد:
شام ۶:۴۳:۲۰ سے ۷:۴۶:۴۰ تک — ساعتِ مریخ
اس طرح رات کی تمام ساعات بھی اسی ترتیب سے نکالی جائیں گی۔
اتوار کے دن اور رات کی بارہ بارہ ساعات
| دن کی ساعت | حاکم | رات کی ساعت | حاکم |
|---|---|---|---|
| پہلی | شمس | پہلی | مشتری |
| دوسری | زہرہ | دوسری | مریخ |
| تیسری | عطارد | تیسری | شمس |
| چوتھی | قمر | چوتھی | زہرہ |
| پانچویں | زحل | پانچویں | عطارد |
| چھٹی | مشتری | چھٹی | قمر |
| ساتویں | مریخ | ساتویں | زحل |
| آٹھویں | شمس | آٹھویں | مشتری |
| نویں | زہرہ | نویں | مریخ |
| دسویں | عطارد | دسویں | شمس |
| گیارہویں | قمر | گیارہویں | زہرہ |
| بارہویں | زحل | بارہویں | عطارد |
رات کی آخری ساعت عطارد پر ختم ہوگی۔
اس کے بعد نئے طلوعِ آفتاب پر قمر کی ساعت شروع ہوگی۔
یہی پیر کی پہلی ساعت ہے۔
ہر اگلے دن کا حاکم کیوں بدل جاتا ہے؟
اس سوال کے پیچھے بھی ایک دلچسپ عددی اصول موجود ہے۔
سیاروی ترتیب میں سات حاکم ہیں جبکہ ایک پورے دن اور رات میں چوبیس ساعات ہیں۔
چوبیس کو سات پر تقسیم کرنے سے تین باقی بچتے ہیں۔
یعنی:
۲۴ = (۷ × ۳) + ۳
اس وجہ سے چوبیس ساعات مکمل ہونے کے بعد اگلے دن کا پہلا حاکم سات سیاروں کی ترتیب میں تین مقام آگے آتا ہے۔
مثلاً اتوار کی پہلی ساعت شمس سے شروع کریں۔
شمس، زہرہ، عطارد، قمر۔
چوبیس ساعات کے بعد اگلے دن کا پہلا حاکم قمر بنتا ہے۔
اسی طرح اگلے دنوں کے حاکم ترتیب وار مریخ، عطارد، مشتری، زہرہ اور زحل بنتے ہیں۔
یوں ہفتے کے ساتوں دنوں کی معروف سیاروی ترتیب واضح ہوجاتی ہے۔
عملی مثال: کاروباری کام کے لیے ساعت معلوم کرنا
فرض کریں ایک شخص کسی اہم تجارتی معاملے میں خط لکھنا یا کاروباری گفتگو شروع کرنا چاہتا ہے۔
روایتی نسبتوں میں عطارد کا تعلق تحریر، پیغام رسانی اور تجارت سے بیان کیا گیا ہے۔
اس لیے وہ شخص عطارد کی ساعت معلوم کرنا چاہتا ہے۔
اب فرض کریں جمعہ کے دن طلوعِ آفتاب صبح ۶:۱۰ اور غروب شام ۵:۴۰ پر ہوتا ہے۔
اس مثال میں دن کی ایک ساعت ۵۷ منٹ ۳۰ سیکنڈ ہوگی۔
جمعہ کا حاکم زہرہ ہے۔
لہٰذا:
| وقت | حاکمِ ساعت |
|---|---|
| صبح ۶:۱۰ تا ۷:۰۷:۳۰ | زہرہ |
| صبح ۷:۰۷:۳۰ تا ۸:۰۵ | عطارد |
| صبح ۸:۰۵ تا ۹:۰۲:۳۰ | قمر |
اس حساب کے مطابق جمعہ کی دوسری ساعت عطارد کی ہوگی۔
اب شخص کو معلوم ہوگیا کہ اس فرضی دن میں عطارد کی پہلی ساعت کب شروع ہورہی ہے۔
یہاں اصل مقصد روایتی طریقے کے مطابق وقت کا تعین کرنا ہے۔ خط کا جواب کیا آئے گا یا کاروبار کا نتیجہ کیا نکلے گا، یہ صرف اس حساب سے قطعی طور پر معلوم نہیں ہوتا۔
عملی مثال: اہم شخصیت سے ملاقات
مشتری کی نسبت قدیم روایات میں عزت دار افراد، سرپرستی، تعاون اور ترقی جیسے معاملات سے بھی بیان ہوتی ہے۔
فرض کریں کسی شخص نے اپنے کاروبار یا ملازمت کے متعلق کسی اہم شخصیت سے ملاقات کرنی ہے۔
وہ علمِ ساعت کی روایتی ترتیب کے مطابق مشتری کی ساعت تلاش کرسکتا ہے۔
پہلے متعلقہ دن کا حاکم معلوم ہوگا۔
پھر طلوع و غروب کے اوقات سے ساعات نکالی جائیں گی۔
اس کے بعد دیکھا جائے گا کہ مشتری کی ساعت کس وقت آرہی ہے۔
یہی علمِ ساعت کے عملی استعمال کی ایک مثال ہے۔
البتہ بعض قدیم اہلِ فن اس طرح کے معاملات میں صرف ساعت کو کافی نہیں سمجھتے تھے، بلکہ دوسرے نجومی احوال کو بھی شامل کرتے تھے۔
دن اور ساعت کے حاکم کا اجتماع کیا ہوتا ہے؟
بعض روایتی طریقوں میں دن اور ساعت کے ایک ہی سیارے سے منسوب ہونے کو خصوصی اہمیت دی جاتی ہے۔
مثلاً:
بدھ اور عطارد: بدھ کا حاکم عطارد ہے۔ اگر اسی دن عطارد کی ساعت آجائے تو دن اور ساعت دونوں کی نسبت ایک ہی حاکم سے ہوگی۔
جمعرات اور مشتری: مشتری کی ساعت میں دن اور ساعت کی مشتری سے مشترک نسبت ہوگی۔
جمعہ اور زہرہ: زہرہ کی ساعت میں دن اور ساعت کی نسبت زہرہ سے ہوگی۔
اس قسم کے اجتماعات کو بعض اہلِ فن خاص اہمیت دیتے ہیں۔
تاہم ان کی تعبیر مختلف روایتی مکاتب میں مختلف ہوسکتی ہے۔ اس لیے ہر اجتماع کے لیے ایک ہی نتیجہ مقرر کردینا مناسب نہیں۔
کیا علمِ ساعت سے مستقبل معلوم کیا جاسکتا ہے؟
اس سوال کا جواب سمجھنے کے لیے ساعت کے حساب اور اس کی تعبیر کے فرق کو جاننا ضروری ہے۔
علمِ ساعت کا بنیادی حساب ہمیں بتاتا ہے کہ فلاں وقت کس سیاروی حاکم کی ساعت ہے۔
اس کے بعد روایتی اہلِ فن اس ساعت کی مناسبت سے کسی معاملے کا جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔
لیکن محض ایک ساعت معلوم ہونے سے کسی شخص کی پوری زندگی، شادی کی قطعی تاریخ، کاروبار کی یقینی کامیابی یا تمام آنے والے واقعات کا مکمل علم حاصل نہیں ہوجاتا۔
ایسی تفصیلی تعبیرات کے لیے بعض روایات میں دوسرے علوم اور طریقے بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔
لہٰذا ساعت کا حساب، ساعت کی تعبیر اور کسی شخص کے مخصوص حالات کا تجزیہ تین الگ مرحلے ہیں۔
علمِ ساعت اور علمِ نجوم میں کیا فرق ہے؟
علمِ نجوم ایک وسیع تاریخی موضوع ہے جس میں اجرامِ فلکی، ان کی حرکات، مقامات اور روایتی نسبتوں سے متعلق مختلف طریقے شامل ہیں۔
علمِ ساعت اس کے مقابلے میں خاص طور پر وقت کی تقسیم اور ساعات کے سیاروی حاکموں سے بحث کرتا ہے۔
مثلاً پیدائشی زائچے میں پیدائش کے وقت مختلف سیاروں کی جگہوں اور برجوں کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔
لیکن علمِ ساعت کے بنیادی حساب میں کسی دن کے طلوع و غروب اور سات حاکموں کی مقررہ ترتیب سے ساعت معلوم ہوتی ہے۔
اس فرق کو سمجھنا ضروری ہے تاکہ ایک طریقے کو دوسرے کا مکمل متبادل نہ سمجھ لیا جائے۔
علمِ ساعت، علمِ ابجد، علمِ جفر اور علمِ تکسیر میں فرق
یہ تمام موضوعات روایتی علمی مباحث میں الگ الگ طریقوں کے حامل ہیں۔
| علم | بنیادی موضوع |
|---|---|
| علمِ ساعت | مختلف اوقات کے سیاروی حاکم |
| علمِ ابجد | حروف کی عددی قدریں |
| علمِ جفر | حروف، اعداد اور ان سے وابستہ تعبیراتی طریقے |
| علمِ تکسیر | حروف کی تفریق، ترتیب، تبدیلی اور توسیع کے روایتی طریقے |
| علمِ نجوم | اجرامِ فلکی، ان کے مقامات اور روایتی تعبیرات |
بعض اہلِ فن ایک سے زیادہ علوم کو اپنے طریقۂ کار میں شامل کرتے تھے۔
تاہم کسی نام کے ابجدی اعداد نکالنا اور کسی وقت کی ساعت معلوم کرنا دو الگ حساب ہیں۔
ان موضوعات کی مزید تفصیل کے لیے علمِ ابجد کیا ہے؟ اور علمِ جفر کیا ہے؟ ملاحظہ کیجیے۔
علمِ ساعت کے حساب میں عام غلطیاں
پہلی غلطی: ہر ساعت کو ساٹھ منٹ سمجھنا
روایتی حساب میں دن اور رات کی طوالت کے مطابق ساعت کا دورانیہ بدل سکتا ہے۔
دوسری غلطی: حساب رات بارہ بجے سے شروع کرنا
اس نظام میں نئی سیاروی روزانہ ترتیب مقامی طلوعِ آفتاب سے شروع ہوتی ہے۔
تیسری غلطی: غروب کے بعد ترتیب دوبارہ شروع کرنا
رات کی پہلی ساعت، دن کی آخری ساعت کے بعد آنے والے حاکم کی ہوگی۔
چوتھی غلطی: ہفتے کے دنوں کی ترتیب سے ساعات نکالنا
ہفتے کے حاکموں اور ساعات کے حاکموں کی ترتیب مختلف ہے۔
پانچویں غلطی: غلط شہر کے طلوع و غروب استعمال کرنا
ہر مقام پر طلوع اور غروب کے اوقات یکساں نہیں ہوتے۔
اسی لیے صحیح مقام اور تاریخ کے اوقات لینا ضروری ہے۔
چھٹی غلطی: تمام روایتی تعبیرات کو ایک جیسا سمجھنا
مختلف قدیم مصنفین اور مکاتب میں بعض ساعات کی مناسبت کے متعلق اختلاف پایا جاتا ہے۔
ساتویں غلطی: ساعت کو مکمل زائچہ سمجھ لینا
حاکمِ ساعت معلوم کرنا ایک مخصوص طریقہ ہے۔ مکمل زائچہ یا وسیع تعبیراتی تجزیہ اس سے الگ موضوع ہے۔
علمِ ساعت کے متعلق عام سوالات
کیا علمِ ساعت صرف روحانی اعمال کے لیے استعمال ہوتا ہے؟
نہیں۔ تاریخی روایات میں اس کا استعمال سفر، تجارت، خط و کتابت، ملاقاتوں، زمین سے متعلق امور اور دیگر کاموں کے لیے وقت کے انتخاب میں بھی ملتا ہے۔
سب سے بہترین ساعت کون سی ہوتی ہے؟
یہ کام کی نوعیت اور اختیار کردہ روایتی طریقے پر منحصر ہے۔ ایک ساعت کی مناسبت ہر معاملے میں یکساں نہیں سمجھی جاتی۔
کیا مشتری اور زہرہ کی ساعات ہمیشہ سعد ہوتی ہیں؟
بہت سی روایات میں مشتری اور زہرہ کے ساتھ موافق اوصاف بیان ہوئے ہیں، لیکن ہر صورت میں ان کی یکساں تعبیر کرنا درست نہیں۔ سیاق اور متعلقہ طریقہ اہم ہوتا ہے۔
کیا مریخ اور زحل کی ساعات ہمیشہ ناموافق ہوتی ہیں؟
نہیں۔ ان دونوں کے ساتھ بعض سخت یا دشوار نسبتیں ضرور بیان ہوئی ہیں، لیکن مختلف امور کے لیے ان کی دوسری مناسبتیں بھی قدیم کتابوں میں موجود ہیں۔
کیا ہر شہر میں ایک ہی وقت کی ساعت یکساں ہوگی؟
ضروری نہیں۔ چونکہ طلوع اور غروب کے اوقات مقام کے مطابق بدلتے ہیں، اس لیے ایک ہی گھڑی کے وقت کی سیاروی ساعت مختلف مقامات پر الگ ہوسکتی ہے۔
کیا ساعت نکالنے کے لیے نام اور تاریخِ پیدائش ضروری ہیں؟
نہیں۔ بنیادی سیاروی ساعت معلوم کرنے کے لیے مقام، تاریخ، ہفتے کا دن اور طلوع و غروب کے اوقات درکار ہوتے ہیں۔
کیا علمِ ساعت سے شادی یا روزگار کا قطعی نتیجہ معلوم ہوسکتا ہے؟
صرف حاکمِ ساعت کا حساب ایسا مکمل نتیجہ نہیں دیتا۔ اس نوعیت کے تفصیلی سوالات الگ تعبیراتی طریقوں سے متعلق ہوتے ہیں۔
کیا علمِ ساعت اور نماز کے اوقات ایک ہی چیز ہیں؟
نہیں۔ نماز کے اوقات شرعی احکام اور مقررہ علامات کے مطابق ہوتے ہیں۔ سیاروی ساعات کا حساب ایک الگ روایتی موضوع ہے۔
کیا کوئی نیا طالبِ علم یہ علم سیکھ سکتا ہے؟
جی ہاں۔ طلوع و غروب کا حساب، بارہ حصوں کی تقسیم اور سات حاکموں کی ترتیب سمجھ لینے کے بعد بنیادی ساعات نکالنا ممکن ہے۔
البتہ قدیم روایات کی تعبیر سمجھنے کے لیے متعلقہ کتابوں اور اہلِ علم کے طریقوں کا مزید مطالعہ ضروری ہے۔
حاصلِ کلام
علمِ ساعت وقت کی روایتی تقسیم اور سیاروی نسبتوں کو سمجھنے کا ایک باقاعدہ موضوع ہے۔
اس کی اہمیت صرف یہ جاننے میں نہیں کہ کس ساعت پر کون سا سیارہ حاکم ہے، بلکہ یہ سمجھنے میں بھی ہے کہ قدیم اہلِ فن ان ساعات کو مختلف انسانی سرگرمیوں، معاملات اور روحانی روایات کے ساتھ کس طرح منسلک کرتے تھے۔
اس علم کے مطالعے سے قاری دن اور رات کی ساعات نکالنے، سیاروی ترتیب سمجھنے، حاکمِ وقت معلوم کرنے اور تاریخی استعمالات کی نوعیت جاننے کے قابل ہوتا ہے۔
علمِ ساعت کو اچھی طرح سیکھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے حسابی اصول اور اس کی تعبیراتی روایات دونوں کو توجہ سے سمجھا جائے۔
یہی فہم اس موضوع کا سنجیدہ مطالعہ کرنے والے طالبِ علم کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے۔
متعلقہ مطالعے کے لیے زائچے کے بارہ گھر اور علمِ ابجد، علمِ جفر اور علمِ تکسیر میں فرق بھی پڑھے جاسکتے ہیں۔
ماخذ اور مزید مطالعہ
۱۔ ابوریحان البیرونی — تحقیق ما للہند
انگریزی ترجمہ Alberuni's India، جلد اول، باب انیس، صفحات ۲۱۳ تا ۲۱۴۔ اس میں سیاروں کی ساعات، دنوں کے حاکموں اور ان کی ترتیب پر تاریخی گفتگو موجود ہے۔
۲۔ ایلاریا بلتریگینی — سیاروی ہفتے کی تاریخی ابتدا
فری یونیورسٹی برلن کی ویب سائٹ پر ۲۰۲۲ء میں شائع ہونے والا تحقیقی مضمون، جس میں سیاروی ہفتے کے تاریخی شواہد اور ساعات کی ترتیب پر گفتگو موجود ہے۔
۳۔ ایلاریا بلتریگینی اور ساچا اسٹرن — رومی سلطنت میں سات روزہ ہفتہ
۲۰۲۱ء میں شائع ہونے والی تاریخی تحقیق، جس میں ہفتے کے نظام کی ابتدا، تشکیل اور پھیلاؤ پر تفصیلی بحث کی گئی ہے۔
۴۔ ہنری کولی — کلیوس آسٹرولوجیے ایلیماٹا
۱۶۷۶ء کی تصنیف، دوسری کتاب، چوتھی فصل۔ اس میں مختلف سیاروی ساعات کے روایتی استعمالات اور متعدد عملی مثالیں موجود ہیں۔
ادارتی وضاحت: اس مضمون میں بیان کردہ سیاروی نسبتیں اور استعمالات متعلقہ تاریخی و روحانی روایات کے تناظر میں پیش کیے گئے ہیں۔ مختلف اہلِ فن کی تعبیرات میں فرق ہوسکتا ہے، اس لیے کسی ایک ساعت کی بنیاد پر ہر معاملے کا قطعی نتیجہ مقرر نہیں کیا گیا۔