فرض کریں آپ کسی شخص کا نام لکھتے ہیں اور جاننا چاہتے ہیں کہ اس نام کے اعداد کتنے ہیں۔

پھر آپ کے ذہن میں دوسرا سوال آتا ہے کہ اگر اسی نام کے حروف کی ترتیب بدل دی جائے تو کیا ہوگا؟

اس کے بعد آپ کسی کتاب میں پڑھتے ہیں کہ حروف اور اعداد سے بعض سوالات کی رمزی تعبیر بھی کی جاتی رہی ہے۔

یہ تین الگ کام ہیں، اگرچہ ان کا تعلق ایک دوسرے سے ہے۔

پہلے کام کو سمجھنے میں علمِ ابجد مدد دیتا ہے۔

دوسرے کام کا تعلق علمِ تکسیر کے بعض طریقوں سے ہے۔

جبکہ تیسرے کام کا تعلق علمِ جفر کی بعض روایتوں سے ملتا ہے۔

اکثر لوگ ان تینوں علوم کے نام ایک ساتھ سنتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ شاید ان کا طریقہ اور مقصد بھی ایک ہی ہے۔

حالانکہ ایسا نہیں ہے۔

اس مضمون میں ہم تینوں علوم کو آسان زبان میں سمجھیں گے۔ یہ بھی جانیں گے کہ انہیں کیوں سیکھا جاتا تھا، کہاں استعمال کیا جاتا تھا، ان سے کیا کام لیے جاتے تھے اور ان کے کیا فوائد اور حدود ہیں۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہم مثالوں سے خود حساب کرنا بھی سیکھیں گے، تاکہ صرف تعریف پڑھنے کے بجائے اصل فرق سمجھ میں آ جائے۔

1۔ علمِ ابجد، علمِ جفر اور علمِ تکسیر کیا ہیں؟

تینوں موضوعات کا تعلق کسی نہ کسی صورت میں حروف کے مطالعے سے ہے۔

عربی اور اسلامی تاریخ کی بعض روایتوں میں حروف سے متعلق وسیع موضوع کو علم الحروف کہا گیا ہے۔

لیکن اس کے اندر مختلف طریقوں کے الگ الگ مقاصد ہو سکتے ہیں۔

علمِ ابجد کیا ہے؟

علمِ ابجد ایسا طریقہ ہے جس میں عربی حروف کو مخصوص عدد دیے جاتے ہیں۔

مثلاً:

  • ا = 1
  • ب = 2
  • ج = 3
  • د = 4

کسی لفظ کے تمام حروف کے اعداد جمع کرنے سے اس کا مجموعی ابجدی عدد حاصل ہوتا ہے۔

علمِ تکسیر کیا ہے؟

علمِ تکسیر کی مختلف تاریخی صورتوں میں حروف کو الگ کرنے، ان کے ناموں کو پھیلانے، ان کی درجہ بندی کرنے یا مقرر اصول کے مطابق نئی ترتیب میں رکھنے کے طریقے ملتے ہیں۔

ہر کتاب میں اس کے قواعد ایک جیسے نہیں ہوتے۔

علمِ جفر کیا ہے؟

علمِ جفر کی بعض روایتوں میں حروف، اعداد اور عبارتوں سے رمزی معنی یا مختلف سوالات کی تعبیر اخذ کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔

بعض تاریخی طریقے مستقبل یا پوشیدہ معاملات سے متعلق دعووں کے لیے بھی استعمال ہوتے تھے۔

ان طریقوں میں ابجدی حساب شامل ہو سکتا ہے، مگر علمِ جفر صرف حروف کے اعداد جمع کرنے کا نام نہیں۔

آسان الفاظ میں: علمِ ابجد عدد بتاتا ہے، علمِ تکسیر کے بعض طریقے حروف پر مخصوص عمل کرتے ہیں، جبکہ علمِ جفر میں بعض روایات ان حروف و اعداد سے رمزی تعبیر اخذ کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔

یہ ایک ابتدائی وضاحت ہے۔ تاریخی طور پر بعض طریقے ایک دوسرے سے ملتے بھی ہیں۔

2۔ ان تینوں علوم کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

آج ہم اعداد لکھنے، معلومات محفوظ کرنے اور حساب کرنے کے لیے جدید طریقے استعمال کرتے ہیں۔

لیکن قدیم زمانے میں حروف کے استعمال کی کئی صورتیں موجود تھیں۔

لوگ حروف سے عدد ظاہر کرتے تھے، شاعری میں تاریخیں پوشیدہ کرتے تھے اور بعض روایتوں میں حروف کے درمیان رمزی تعلقات بھی تلاش کرتے تھے۔

علمِ ابجد کی ضرورت

علمِ ابجد نے حروف کے ذریعے اعداد لکھنے اور ان کا حساب کرنے کا ایک طریقہ فراہم کیا۔

بعد میں اسے ادبی تاریخ گوئی اور بعض دوسرے علمی کاموں میں بھی استعمال کیا گیا۔

علمِ تکسیر کی ضرورت

بعض قدیم اہلِ فن کے نزدیک حروف صرف آواز یا تحریر نہیں تھے، بلکہ ان کے درمیان کچھ رمزی نسبتیں بھی تصور کی جاتی تھیں۔

اسی خیال کے تحت حروف کو الگ کرنے، پھیلانے اور مخصوص ترتیب میں رکھنے کے طریقے اختیار کیے گئے۔

علمِ جفر کی ضرورت

بعض تاریخی اہلِ فن مستقبل، پوشیدہ معانی یا غیر یقینی حالات کے بارے میں سوالات کی تعبیر کرنے کی کوشش کرتے تھے۔

ان مقاصد کے لیے انہوں نے حروف اور اعداد پر مبنی مختلف طریقے استعمال کیے۔

یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کسی طریقے کو کسی مقصد کے لیے استعمال کیا جانا، اس مقصد میں اس کی کامیابی کا ثبوت نہیں ہوتا۔

3۔ علمِ ابجد کہاں کہاں استعمال ہوتا رہا ہے؟

علمِ ابجد کے کئی تاریخی استعمال مستند مصادر میں درج ہیں۔

پہلا استعمال: حروف سے عدد ظاہر کرنا

اس نظام میں بعض حروف مخصوص اعداد کی نمائندگی کرتے ہیں۔

مثلاً:

ا = 1، ب = 2، ج = 3

یہ ایک قدیم عددی طریقہ تھا، جسے بعض علمی تحریروں میں استعمال کیا جاتا تھا۔

دوسرا استعمال: کتابوں اور مخطوطات میں نمبر لکھنا

بعض قدیم تحریروں اور کتابوں میں ابجدی حروف کے ذریعے ترتیب یا نمبر ظاہر کیے جاتے تھے۔

اس قسم کا محدود استعمال بعد کے ادوار میں بھی ملتا ہے۔

تیسرا استعمال: مادۂ تاریخ نکالنا

یہ علمِ ابجد کا ایک دلچسپ ادبی استعمال ہے۔

اردو اور فارسی شاعری میں کبھی کسی واقعے کے سال کو ایسے الفاظ میں ظاہر کیا جاتا تھا جن کے ابجدی اعداد جمع کرنے سے وہ سال حاصل ہو جاتا تھا۔

اسے مادۂ تاریخ یا تاریخ گوئی کہا جاتا ہے۔

مثلاً کسی عمارت کی تعمیر یا کسی معروف شخصیت کی وفات کے سال کے لیے مناسب الفاظ منتخب کیے جاتے تھے۔

یہ ایک حسابی اور ادبی مہارت تھی۔

چوتھا استعمال: فلکیاتی جدول اور قدیم علمی تحریریں

تاریخی طور پر بعض فلکیاتی جدولوں میں بھی حروف کی عددی قدریں استعمال کی جاتی تھیں۔

یہاں مقصد معلومات کو ایک مخصوص عددی صورت میں لکھنا ہوتا تھا۔

پانچواں استعمال: روایتی حرفی اور رمزی طریقے

علمِ ابجد کے اعداد بعض تاریخی روحانی اور رمزی روایتوں میں بھی استعمال ہوئے۔

مثلاً بعض جدولوں، نقوش یا مخصوص حرفی حسابوں میں ان عددی قدروں سے کام لیا جاتا تھا۔

ان روایات کا تاریخی وجود اپنی جگہ ہے، جبکہ ان سے منسوب روحانی تاثیر کا ثابت ہونا ایک الگ معاملہ ہے۔

4۔ علمِ ابجد سے ہم کیا کیا کام لے سکتے ہیں؟

آئیے اب اس کا عملی فائدہ سمجھتے ہیں۔

علمِ ابجد کی مدد سے ہم:

  • کسی نام کا عدد نکال سکتے ہیں۔
  • کسی لفظ کا مجموعی عدد معلوم کر سکتے ہیں۔
  • دو ناموں یا الفاظ کے عددی مجموعوں کا موازنہ کر سکتے ہیں۔
  • قدیم شاعری میں درج مادۂ تاریخ کو سمجھ سکتے ہیں۔
  • بعض پرانی کتابوں میں حروف سے لکھے گئے اعداد پڑھ سکتے ہیں۔
  • کسی دوسرے شخص کے ابجدی حساب کی غلطی جانچ سکتے ہیں۔

یہ قابلِ وضاحت حسابی اور تعلیمی کام ہیں۔

عملی مثال: نور کے اعداد

لفظ ہے:

نور

اس میں تین حروف ہیں:

  • ن = 50
  • و = 6
  • ر = 200

اب انہیں جمع کریں:

50 + 6 + 200 = 256

اس طرح لفظ نور کے اعداد 256 ہیں۔

یہ حساب دوسرا شخص بھی اسی جدول سے دوبارہ کر سکتا ہے۔

تاریخ گوئی کی ایک حقیقی مثال

فارسی شاعری میں معروف شاعر حافظ کے حوالے سے خاک مصلی کی عبارت بطور مادۂ تاریخ استعمال ہوئی ہے۔

اس عبارت کے حروف کا حساب دیکھیے۔

خاک

  • خ = 600
  • ا = 1
  • ک = 20

مجموعہ:

600 + 1 + 20 = 621

اب دوسرا لفظ:

مصلی

  • م = 40
  • ص = 90
  • ل = 30
  • ی = 10

مجموعہ:

40 + 90 + 30 + 10 = 170

اب دونوں کو جمع کریں:

621 + 170 = 791

یہ عبارت تاریخی طور پر 791 ہجری کی تاریخ ظاہر کرنے کے لیے استعمال ہوئی۔

حافظ کے اصل سالِ وفات کے بارے میں تاریخی اختلاف موجود ہے، لیکن یہ مثال واضح کرتی ہے کہ مادۂ تاریخ میں حروف کے اعداد کیسے استعمال ہوتے تھے۔

اس کا مقصد سال کو ایک بامعنی عبارت میں ظاہر کرنا تھا، نہ کہ پہلے سے مستقبل کی خبر دینا۔

5۔ علمِ ابجد کے فائدے اور حدود

علمِ ابجد سیکھنے سے حروف کے اعداد، پرانی کتابوں کی بعض علامتیں اور تاریخی تاریخ گوئی سمجھنا آسان ہو جاتا ہے۔

یہ دوسرے حرفی علوم کی اصطلاحات سمجھنے کے لیے بھی ایک اچھی بنیاد فراہم کرتا ہے۔

لیکن صرف کسی نام کے اعداد سے یہ ثابت نہیں کیا جا سکتا کہ متعلقہ شخص کا مستقبل کیسا ہوگا۔

مثلاً ایک ہی املا سے لکھے گئے محمد نام کے اعداد یکساں ہوں گے، مگر محمد نام رکھنے والے تمام افراد کی زندگی ایک جیسی نہیں ہوتی۔

علمِ ابجد ہمیں عددی نتیجہ دیتا ہے؛ اس سے قسمت یا مستقبل کے بارے میں یقینی فیصلہ ثابت نہیں ہوتا۔

علمِ ابجد کو مکمل طور پر سیکھنے کے لیے ہمارا تفصیلی مضمون پڑھیں:

علمِ ابجد کیا ہے؟ حروف کے اعداد معلوم کرنے کا آسان طریقہ

6۔ علمِ تکسیر کہاں استعمال ہوتا رہا ہے؟

علمِ تکسیر کے طریقے علمِ ابجد کے سادہ حساب سے زیادہ متنوع ہیں۔

بعض تاریخی کتابوں میں ان کے مختلف اصول ملتے ہیں۔

پہلا استعمال: حروف کو الگ کرنا

کسی لفظ کے حروف کو الگ الگ لکھ کر ان پر مزید کام کیا جا سکتا تھا۔

مثلاً:

قلم

اس کے حروف:

ق — ل — م

یہ حروف پر کام شروع کرنے کی ایک سادہ صورت ہے۔

دوسرا استعمال: حروف کی ترتیب بدلنا

بعض روایتی طریقوں میں حروف کو مقرر اصول سے نئی ترتیب دی جاتی تھی۔

اس کے نتیجے میں مختلف سطریں بنتی تھیں۔

تیسرا استعمال: حروف کے ناموں کو پھیلانا

علم الحروف کی بعض تاریخی تحریروں میں حرف کے نام کو اس کے اجزائے حرفی میں ظاہر کیا جاتا تھا۔

مثلاً الف کے نام کو:

ا — ل — ف

کی صورت میں دیکھا جا سکتا ہے۔

یہ طریقہ محض ایک حرف کو آگے پیچھے کرنے سے مختلف ہے۔

چوتھا استعمال: حروف کی روایتی درجہ بندی

بعض اہلِ فن حروف کو آگ، ہوا، پانی اور مٹی سے منسوب جماعتوں میں تقسیم کرتے تھے۔

ابنِ خلدون نے اپنی کتاب مقدمہ میں ایسی درجہ بندیوں کا ذکر کیا ہے۔

یہ رمزی نسبتیں تھیں، حروف کی ثابت شدہ طبیعی خصوصیات نہیں۔

پانچواں استعمال: حرفی جدول اور نقوش

بعض تاریخی روایتوں میں تکسیر یا اس سے ملتے جلتے طریقے عددی و حرفی جدولوں اور نقوش کے ساتھ استعمال ہوتے تھے۔

کچھ لوگ ان سے روحانی تاثیر کی امید رکھتے تھے۔

لیکن کسی طریقے کا تاریخی استعمال ہونا اس کے دعویٰ کردہ اثر کی سائنسی تصدیق نہیں۔

7۔ علمِ تکسیر سے کیا کام لیے جا سکتے ہیں؟

علمِ تکسیر کے متعلقہ طریقوں کو سیکھ کر ہم:

  • کسی لفظ کے حروف الگ کر سکتے ہیں۔
  • ایک واضح اصول کے مطابق حروف کی نئی ترتیب بنا سکتے ہیں۔
  • سطروں کا سلسلہ تیار اور جانچ سکتے ہیں۔
  • حروف کی ترتیب میں غلطی معلوم کر سکتے ہیں۔
  • قدیم مخطوطات کی بعض حرفی ترتیبیں سمجھ سکتے ہیں۔
  • مختلف روایتی طریقوں کا موازنہ کر سکتے ہیں۔
  • بسط، تکسیر اور حرفی توسیع میں فرق سمجھ سکتے ہیں۔

عملی مثال: لفظ نور کی تکسیر

ہم دوبارہ لفظ نور استعمال کرتے ہیں۔

اس کے حروف ہیں:

ن — و — ر

اب ایک مخصوص تدریسی ترتیب استعمال کرتے ہیں جس میں پہلے آخری حرف، پھر پہلا حرف اور پھر درمیان والا حرف لیا جاتا ہے۔

اس سے نئی سطر بنے گی:

ر — ن — و

اب اسی طریقے کو دوبارہ استعمال کریں:

و — ر — ن

ایک مرتبہ اور یہی عمل کریں:

ن — و — ر

ہم اصل ترتیب پر واپس آ گئے۔

مکمل نتیجہ

سطرحروف
پہلین — و — ر
دوسریر — ن — و
تیسریو — ر — ن
چوتھین — و — ر

یہ حروف کی ترتیب بدلنے کا ایک طریقہ ہے۔

علمِ تکسیر کی تمام تاریخی روایتوں میں یہی واحد طریقہ استعمال نہیں ہوتا۔

کیا ترتیب بدلنے سے اعداد بھی بدل گئے؟

نہیں۔

حروف وہی تین ہیں، اس لیے مجموعی ابجدی عدد بھی وہی ہے:

50 + 6 + 200 = 256

اس سے ایک اہم بات سامنے آتی ہے۔

اگر حروف وہی رہیں اور صرف ترتیب بدلے تو ان کا مجموعی ابجدی عدد نہیں بدلتا۔

البتہ جن طریقوں میں حروف کے نام پھیلائے جائیں یا نئے حروف شامل ہوں، وہاں نیا حساب کرنا پڑ سکتا ہے۔

8۔ علمِ تکسیر کے فوائد اور حدود

علمِ تکسیر کے بنیادی طریقے سمجھنے سے حروف پر کیے جانے والے روایتی اعمال، ان کی ترتیب اور ان کے حسابی اصول واضح ہوتے ہیں۔

اس سے قدیم کتابوں میں موجود بعض غیر معمولی حرفی جدولوں کو سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔

تاریخی طور پر بعض اہلِ فن نے ان طریقوں کو حفاظت، علاج، روحانی اثرات یا سوالات کی تعبیر جیسے مقاصد سے بھی منسلک کیا۔

لیکن یہ ان روایتوں کے دعوے تھے۔

اس بات کے قابلِ اعتماد سائنسی شواہد موجود نہیں کہ محض کسی لفظ کے حروف آگے پیچھے کرنے سے بیماری دور ہو سکتی ہے، کسی انسان کے جذبات پر اختیار حاصل ہوتا ہے یا مستقبل کے واقعات یقینی طور پر معلوم کیے جا سکتے ہیں۔

علمِ تکسیر کی مزید عملی مثالوں کے لیے ہمارا مضمون پڑھیں:

علمِ تکسیر کیا ہے؟ آسان مثالوں کے ساتھ مکمل رہنمائی

9۔ علمِ جفر کہاں کہاں استعمال ہوتا رہا ہے؟

علمِ جفر کی بعض تاریخی روایتوں میں حروف و اعداد کو رمزی تعبیرات کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔

اس کے مقاصد علمِ ابجد کی عام عددی ترتیب سے مختلف تھے۔

پہلا استعمال: حکمرانوں اور سلطنتوں کے مستقبل کی تعبیر

بعض تاریخی جفری کتابوں میں حکمرانوں، سلطنتوں، سیاسی تبدیلیوں اور آئندہ واقعات کے متعلق پیش گوئیوں کا ذکر ملتا ہے۔

یہ روایتی پیش گوئیاں تھیں؛ ان کی سائنسی صحت ثابت نہیں۔

دوسرا استعمال: تحریری سوالات کی تعبیر

بعض بعد کے طریقوں میں کسی سوال کے الفاظ کو حساب کی بنیاد بنایا جاتا تھا۔

مثلاً کوئی شخص سفر، کاروبار یا کسی دوسرے معاملے کے بارے میں سوال کرتا۔

متعلقہ روایت کے مطابق سوال کے حروف، ان کے اعداد یا دوسرے قواعد استعمال کیے جا سکتے تھے۔

البتہ مختلف کتابوں کے طریقے مختلف ہوتے تھے۔

تیسرا استعمال: عبارتوں کے پوشیدہ معنی تلاش کرنا

بعض تاریخی اہلِ فن نے مذہبی اور دوسری عبارتوں کے حروف و اعداد میں رمزی تعلقات تلاش کرنے کی کوشش کی۔

لیکن کسی حرف کے عدد سے حاصل کردہ رمزی تعبیر کو خودبخود قرآنِ مجید کی مستند تفسیر یا قطعی دینی حکم نہیں سمجھنا چاہیے۔

چوتھا استعمال: حرفی اور عددی جدول

بعض جفری روایتوں میں اوفاق، حرفی ترتیبیں اور دوسرے حسابی طریقے بھی استعمال ہوتے رہے۔

یہاں بھی قواعد کا انحصار مخصوص ماخذ پر ہوتا تھا۔

پانچواں استعمال: تاریخی اور علمی تحقیق

آج ان روایتوں کا مطالعہ اسلامی تاریخ، قدیم مخطوطات اور حروف و اعداد سے متعلق پرانے نظریات سمجھنے کے لیے کیا جا سکتا ہے۔

10۔ علمِ جفر سے کیا کام لیے جا سکتے ہیں؟

اگر ہم قابلِ جانچ علمی کاموں کی بات کریں تو علمِ جفر کا مطالعہ ہمیں یہ مواقع فراہم کرتا ہے:

  • کسی قدیم جفری کتاب کا طریقہ سمجھنا۔
  • اس میں استعمال ہونے والے حرفی اور عددی حساب کی جانچ کرنا۔
  • مختلف کتابوں کے قواعد کا موازنہ کرنا۔
  • قدیم پیش گوئیوں کے تاریخی پس منظر کو سمجھنا۔
  • کسی دعوے کا اصل ماخذ تلاش کرنا۔
  • حسابی عمل اور اس کی رمزی تعبیر میں فرق پہچاننا۔

عملی مثال: نور کے اعداد کو جفری مطالعے میں استعمال کرنا

ہم پہلے ہی جانتے ہیں کہ:

نور = 256

علمِ جفر کی کسی مخصوص روایت میں ممکن ہے کہ لفظ نور، اس کے حروف یا عدد 256 کو مزید حساب یا تعبیر کی بنیاد بنایا جائے۔

لیکن اس کے بعد کیا ہوگا؟

یہ متعلقہ کتاب اور طریقے پر منحصر ہے۔

مثلاً ہم اپنی طرف سے یہ نہیں کہہ سکتے کہ:

256 کا مطلب شادی ہے، کامیابی ہے یا سفر ہوگا۔

ایسا نتیجہ نکالنے کے لیے پہلے کسی واضح روایتی اصول کی ضرورت ہوگی۔

اور اگر وہ اصول کسی کتاب میں موجود بھی ہو تو یہ الگ سوال رہے گا کہ اس کے ذریعے کی گئی پیش گوئی حقیقتاً کتنی درست ہے۔

یہی علمِ جفر کی روایتی تعبیر اور علمِ ابجد کے سادہ حساب میں بنیادی فرق ہے۔

11۔ علمِ جفر کے روایتی فوائد اور ان کی حقیقت

بعض تاریخی اہلِ فن نے علمِ جفر کو ایسے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے دعوے کیے جن میں شامل تھے:

  • شادی یا تعلقات سے متعلق سوالات
  • سفر کے امکانات
  • کاروبار یا روزگار کے معاملات
  • حکمرانوں اور سیاسی حالات کا مستقبل
  • پوشیدہ باتوں کی تلاش
  • مستقبل میں ہونے والی تبدیلیوں کی تعبیر

یہ ان روایتوں کے بیان کردہ مقاصد ہیں۔

لیکن موجودہ سائنسی شواہد اس بات کی معتبر تائید نہیں کرتے کہ ان طریقوں سے شادی کا وقت، ملازمت ملنے کی تاریخ، بیرونِ ملک ویزا یا کسی شخص کی بیماری قابلِ اعتماد طور پر معلوم کی جا سکتی ہے۔

آج ان کا زیادہ واضح تعلیمی فائدہ تاریخی طریقوں، حرفی حساب اور مختلف رمزی روایتوں کو سمجھنا ہے۔

علمِ جفر کا مکمل تعارف یہاں پڑھیں:

علمِ جفر کیا ہے؟ استعمال، فوائد اور آسان مثالیں

12۔ ایک ہی لفظ پر تینوں علوم کا فرق

اب ہم سب سے اہم مثال کی طرف آتے ہیں۔

ہمارا لفظ ہے:

نور

اس لفظ کو تینوں موضوعات کے تحت الگ انداز سے دیکھتے ہیں۔

پہلا طریقہ: علمِ ابجد

ہم حروف کے اعداد معلوم کرتے ہیں:

  • ن = 50
  • و = 6
  • ر = 200

مجموعہ:

256

ہمارا سوال تھا: اس لفظ کا عدد کیا ہے؟

جواب مل گیا۔

دوسرا طریقہ: علمِ تکسیر

ہم حروف کو الگ لکھتے ہیں:

ن — و — ر

پھر اپنے منتخب اصول کے مطابق ترتیب بدلتے ہیں:

ر — ن — و

ہمارا سوال تھا: حروف کی نئی ترتیب کیسے بنے گی؟

ہمیں نئی ترتیب مل گئی۔

تیسرا طریقہ: علمِ جفر

کسی مخصوص تاریخی جفری طریقے میں اسی لفظ یا اس کے اعداد کو مزید رمزی تعبیر کے لیے استعمال کیا جا سکتا تھا۔

مثلاً لفظ نور کے حروف یا عدد 256 کسی مخصوص طریقے کا ابتدائی مواد بن سکتے ہیں۔

لیکن اگلا مرحلہ کتاب اور اس کے قواعد معلوم کیے بغیر طے نہیں کیا جا سکتا۔

اور اس سے کسی مستقبل کے واقعے کا یقینی نتیجہ نکالنا بھی درست نہیں۔

اس مثال کا خلاصہ

  • علمِ ابجد میں ہم نے عدد معلوم کیا۔
  • علمِ تکسیر کی مثال میں ہم نے حروف کی ترتیب بدلی۔
  • علمِ جفر کی روایت میں ان حروف یا اعداد سے رمزی تعبیر اخذ کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔

یوں ایک ہی لفظ تین الگ مقاصد کے لیے استعمال ہو سکتا ہے۔

13۔ تینوں علوم کا ایک جگہ مکمل موازنہ

پہلوعلمِ ابجدعلمِ تکسیرعلمِ جفر
بنیادی کامحروف کے اعدادحروف پر مختلف ترتیبی اعمالرمزی تعبیر
بنیادی سوالعدد کیا ہے؟حروف کی ترتیب یا صورت کیا ہوگی؟روایتی معنی کیا اخذ کیا جائے؟
تاریخی استعمالعدد نویسی، تاریخ گوئیحرفی اعمال، جدولسوالات اور واقعات کی تعبیر
عملی مثالنور = 256ن و ر سے ر ن وکسی ماخذ کے مطابق 256 پر مزید تعبیر
قابلِ جانچ حصہجمع کا حسابمقررہ عمل کی درستگیحساب اور ماخذ سے مطابقت
غیبی اثر کی سائنسی تصدیقنہیںنہیںنہیں

یہ ابتدائی موازنہ ہے۔ بعض قدیم طریقوں میں ان علوم کے اعمال ایک دوسرے سے مل بھی سکتے ہیں۔

14۔ نئے طالب علم کو پہلے کون سا علم سیکھنا چاہیے؟

اگر کوئی شخص ابتدا سے سیکھنا چاہتا ہے تو اس کے لیے ایک مفید تعلیمی ترتیب یہ ہو سکتی ہے۔

پہلا مرحلہ: علمِ ابجد

سب سے پہلے 28 عربی حروف کی عددی قدریں سمجھیں۔

چھوٹے الفاظ اور ناموں کے اعداد نکالنے کی مشق کریں۔

مثلاً:

محمد = 92

دوسرا مرحلہ: علمِ تکسیر

اس کے بعد حروف کو الگ کرنا، نئی ترتیب بنانا اور مختلف قواعد کا فرق سمجھیں۔

ابتدا میں کسی ایک واضح اور سادہ طریقے کی مشق کافی ہے۔

تیسرا مرحلہ: علمِ جفر

اب تاریخی کتابوں کے الگ الگ طریقے پڑھیں۔

یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ کون سا عمل کس ماخذ سے لیا گیا ہے اور اس میں کون سا حصہ حساب جبکہ کون سا حصہ روایتی تعبیر ہے۔

یہ تعلیمی ترتیب ہماری تجویز ہے، تمام تاریخی مکاتب کے لیے کوئی لازمی قانون نہیں۔

15۔ کون سا علم کس کام کے لیے استعمال کریں؟

اب عام زندگی سے ملتی جلتی چند مثالیں دیکھتے ہیں۔

اگر کسی نام کے اعداد معلوم کرنے ہوں

علمِ ابجد کے قواعد استعمال کریں۔

درست املا اور ابجدی جدول ضروری ہے۔

اگر کسی شعر میں پوشیدہ سال معلوم کرنا ہو

علمِ ابجد اور مادۂ تاریخ کا طریقہ سمجھیں۔

یہاں مقصد تحریر کے اندر موجود تاریخی عدد کو پڑھنا ہے۔

اگر کسی پرانی کتاب میں حروف کی غیر معمولی سطریں ہوں

علمِ تکسیر اور متعلقہ حرفی طریقوں کا مطالعہ کریں۔

اس سے معلوم کرنے میں مدد مل سکتی ہے کہ حروف کس اصول پر ترتیب دیے گئے تھے۔

اگر کسی قدیم کتاب میں کسی سلطنت کے مستقبل کی جفری پیش گوئی ہو

علمِ جفر کی تاریخ کا مطالعہ کریں۔

اس کا مقصد یہ سمجھنا ہوگا کہ مصنف نے اپنی تعبیر کس طریقے سے بنائی تھی۔

اگر کوئی کہے کہ نام کے عدد سے شادی کی کامیابی یقینی معلوم ہو جاتی ہے

صرف ابجدی عدد یا کسی جفری تعبیر سے ایسی سائنسی ضمانت ثابت نہیں ہوتی۔

ازدواجی فیصلے حقیقی حالات، باہمی اعتماد اور ذمہ داری کی بنیاد پر ہونے چاہییں۔

اگر کسی حرفی نقش سے بیماری دور ہونے کا دعویٰ کیا جائے

اس نقش کی تاریخی یا حسابی ساخت کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔

لیکن اسے طبی تشخیص یا علاج کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔

16۔ دینی اور سائنسی اعتبار سے کیا احتیاط ضروری ہے؟

یہاں ایک اہم فرق سمجھنا چاہیے۔

حروف کی تاریخی عددی ترتیب سیکھنا ایک موضوع ہے۔

جبکہ کسی مخصوص تعویذ، نقش، غیر معمولی عمل یا غیب کے یقینی علم کے دعوے کا معاملہ الگ ہے۔

ہر عمل کی شرعی حیثیت اس کے اصل طریقے، الفاظ اور عقائد دیکھ کر متعین کی جانی چاہیے۔

کسی مخصوص عمل کے بارے میں مستند عالمِ دین سے رہنمائی لینا مناسب ہے۔

قرآنِ مجید میں ارشاد ہے:

قُلْ لَا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الْغَيْبَ إِلَّا اللَّهُ

مفہوم: کہہ دیجیے کہ آسمانوں اور زمین میں اللہ کے سوا کوئی غیب نہیں جانتا۔

سورۃ النمل، آیت 65

سائنسی اعتبار سے بھی عددی حساب اور اس کی بنیاد پر کی جانے والی پیش گوئی الگ چیزیں ہیں۔

مثلاً:

50 + 6 + 200 = 256

یہ جمع درست ہے۔

لیکن اس عدد سے کسی شخص کے مستقبل کی یقینی خبر ملنے کا دعویٰ محض اس حساب سے ثابت نہیں ہوتا۔

17۔ اکثر پوچھے جانے والے سوالات

سوال: کیا علمِ ابجد، جفر اور تکسیر ایک ہی علم کے نام ہیں؟

نہیں۔ ان کا تعلق حروف کی تاریخی روایتوں سے ہے، مگر ان کے بنیادی کام اور مقاصد مختلف ہیں۔

سوال: سب سے آسان علم کون سا ہے؟

ابتدائی حساب کے اعتبار سے علمِ ابجد آسان ہے، کیونکہ اس میں بنیادی طور پر حروف کی عددی قدریں جمع کی جاتی ہیں۔

سوال: کسی نام کے اعداد معلوم کرنے کے لیے کون سا علم استعمال ہوتا ہے؟

علمِ ابجد۔

سوال: حروف کی ترتیب بدلنے کا تعلق کس علم سے ہے؟

علمِ تکسیر کی بعض صورتوں سے، اگرچہ تکسیر کے دوسرے تاریخی طریقے بھی موجود ہیں۔

سوال: قدیم زمانے میں مستقبل کے متعلق سوالات کی تعبیر کے لیے کون سا علم استعمال کیا جاتا تھا؟

علمِ جفر کی بعض تاریخی روایتوں میں اس نوعیت کی تعبیرات اور پیش گوئیوں کی کوششیں ملتی ہیں۔

سوال: کیا تینوں علوم کو ایک ساتھ استعمال کیا جا سکتا ہے؟

بعض تاریخی طریقوں میں ابجدی حساب، تکسیر سے متعلق اعمال اور جفری تعبیرات ایک دوسرے سے ملتی ہیں۔

سوال: کیا علمِ تکسیر سے حروف کے اعداد بدل جاتے ہیں؟

اگر صرف ترتیب بدلی جائے اور حروف وہی رہیں تو مجموعی عدد نہیں بدلتا۔ دوسرے پیچیدہ طریقوں میں حساب الگ ہو سکتا ہے۔

سوال: کیا علمِ جفر سے معلوم ہو سکتا ہے کہ میری شادی کب ہوگی؟

ایسی پیش گوئیوں کی قابلِ اعتماد سائنسی حیثیت ثابت نہیں ہوئی۔

سوال: کیا یہ علوم سیکھنے کے لیے عربی زبان آنا ضروری ہے؟

بنیادی ابجدی حساب کے لیے تمام عربی زبان سیکھنا ضروری نہیں، لیکن حروف کی شناخت اور درست املا جاننا مفید ہے۔ تاریخی کتابوں کے گہرے مطالعے میں عربی اور فارسی سے واقفیت مزید مدد دیتی ہے۔

سوال: کیا ہر قدیم کتاب میں ایک ہی طریقہ درج ہوتا ہے؟

نہیں۔ مختلف مصنفین، ادوار اور روایات میں قواعد اور اصطلاحات بدل سکتی ہیں۔

خلاصہ

علمِ ابجد، علمِ تکسیر اور علمِ جفر حروف سے متعلق تین اہم تاریخی موضوعات ہیں۔

ان میں تعلق ضرور موجود ہے، لیکن ان کے بنیادی استعمال ایک جیسے نہیں۔

علمِ ابجد ہمیں حروف کی عددی قدریں اور ان کا مجموعہ معلوم کرنے کا طریقہ سکھاتا ہے۔

علمِ تکسیر کی مختلف روایتوں میں حروف کی تقسیم، توسیع، درجہ بندی یا نئی ترتیب بنانے کے طریقے شامل ہیں۔

علمِ جفر کی بعض تاریخی صورتوں میں حروف و اعداد سے رمزی معنی اور مختلف واقعات کے متعلق تعبیرات اخذ کرنے کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں۔

ہم نے ایک ہی لفظ نور کے ذریعے دیکھا کہ تینوں موضوعات میں کام کرنے کا انداز کس طرح مختلف ہو سکتا ہے۔

ان علوم کے تاریخی استعمالات کو سمجھنا مفید ہے، لیکن ان سے منسوب ہر روحانی اثر یا غیبی دعوے کو ثابت شدہ حقیقت نہیں سمجھنا چاہیے۔

اصل بات یہ ہے کہ پہلے حساب سمجھیں، پھر طریقے کا ماخذ معلوم کریں، اور آخر میں حسابی نتیجے اور روایتی تعبیر میں واضح فرق رکھیں۔

RohaniGuide پر ہماری کوشش ہے کہ روایتی علوم کو عام فہم اردو، آسان عملی مثالوں، تاریخی حوالوں اور ذمہ دارانہ انداز میں پیش کیا جائے، تاکہ ہر قاری ان کے بنیادی اصول اور حدود سمجھ سکے۔

حوالہ جات اور مزید مطالعہ