کیا آپ نے کبھی کسی سے سنا ہے کہ محمد نام کے اعداد 92 ہوتے ہیں یا نور کے اعداد 256 ہیں؟

آپ کے ذہن میں یہ سوال آ سکتا ہے کہ ایک نام کے اعداد کیسے ہو سکتے ہیں؟

اس سوال کا جواب علمِ ابجد میں ملتا ہے۔

علمِ ابجد ایک قدیم حسابی طریقہ ہے جس میں عربی حروف کو مخصوص عدد دیے گئے ہیں۔

مثلاً:

  • ا یعنی الف کا عدد 1 ہے۔
  • ب یعنی بے کا عدد 2 ہے۔
  • ج یعنی جیم کا عدد 3 ہے۔
  • د یعنی دال کا عدد 4 ہے۔

جب کسی لفظ کے تمام حروف کے اعداد جمع کیے جاتے ہیں تو اس لفظ کا ابجدی عدد حاصل ہوتا ہے۔

یہ حساب مشکل نہیں۔ اگر آپ کو عام جمع کرنا آتا ہے تو آپ تھوڑی سی مشق کے بعد خود بھی الفاظ کے اعداد نکال سکتے ہیں۔

اس مضمون میں ہم علمِ ابجد کو بالکل ابتدا سے سیکھیں گے، تمام 28 عربی حروف کے اعداد دیکھیں گے اور آسان مثالوں کی مدد سے حساب کرنا سمجھیں گے۔

1۔ علمِ ابجد کیا ہے؟

علمِ ابجد حروف کو اعداد کے ساتھ منسلک کرنے کا ایک قدیم طریقہ ہے۔

اس کا تعلق حسابِ جمل سے بھی ہے، جسے عربی میں حساب الجمل کہا جاتا ہے۔

اس کا بنیادی اصول بہت آسان ہے:

ہر حرف کا ایک عدد ہوتا ہے۔ کسی لفظ کے تمام حروف کے اعداد جمع کرنے سے اس لفظ کا مجموعی عدد حاصل ہوتا ہے۔

آئیے اسے ایک چھوٹی سی مثال سے سمجھتے ہیں۔

مثال: باب کے اعداد

لفظ باب میں تین حروف ہیں:

  • ب = 2
  • ا = 1
  • ب = 2

اب تینوں کو جمع کریں:

2 + 1 + 2 = 5

اس طرح لفظ باب کا ابجدی عدد 5 ہے۔

یہ علمِ ابجد کا سب سے بنیادی حساب ہے۔

2۔ اسے ابجد کیوں کہتے ہیں؟

اس نام کی وجہ سمجھنے کے لیے ہمیں حروف کی ایک پرانی ترتیب دیکھنی ہوگی۔

اس ترتیب کے پہلے چار حروف یہ ہیں:

ا ب ج د

انہیں ملا کر ابجد کہا جاتا ہے۔

قدیم ابجدی ترتیب اس طرح ہے:

ابجد ہوز حطی کلمن سعفص قرشت ثخذ ضظغ

یہ حروف یاد رکھنے کے لیے بنائے گئے روایتی گروہ ہیں۔

آپ نے اسکول میں جو حروفِ تہجی پڑھے ہیں، ان کی ترتیب اس سے مختلف ہو سکتی ہے۔

اسی لیے یہ سمجھنا غلط ہوگا کہ موجودہ حروفِ تہجی میں کوئی حرف تیسرے نمبر پر آتا ہے تو اس کا ابجدی عدد بھی لازماً 3 ہوگا۔

مثلاً:

  • ب کا عدد 2 ہے۔
  • ت کا عدد 400 ہے۔
  • ث کا عدد 500 ہے۔

اگرچہ یہ تینوں حروف ظاہری شکل میں ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں، لیکن ابجد میں ان کے اعداد بہت مختلف ہیں۔

3۔ ابجدِ کبیر کے تمام 28 حروف اور اعداد

علمِ ابجد میں ایک معروف نظام ابجدِ کبیر کہلاتا ہے۔

مشرقی یا مشرقی اسلامی دنیا میں رائج معروف ابجدی ترتیب کے مطابق حروف کی عددی قدریں درج ذیل ہیں۔

ابجدِ کبیر کا جدول جس میں تمام 28 عربی حروف اور ان کی عددی قدریں 1 سے 1000 تک دکھائی گئی ہیں۔
ابجدِ کبیر کا مکمل جدول، جس میں الف سے غین تک تمام ۲۸ عربی حروف اور ان کی عددی قدریں درج ہیں۔

ایک سے نو تک کے اعداد

  • ا — الف = 1
  • ب — بے = 2
  • ج — جیم = 3
  • د — دال = 4
  • ه — ہا = 5
  • و — واؤ = 6
  • ز — زے = 7
  • ح — حا = 8
  • ط — طا = 9

دس سے نوے تک کے اعداد

  • ي — یا = 10
  • ك — کاف = 20
  • ل — لام = 30
  • م — میم = 40
  • ن — نون = 50
  • س — سین = 60
  • ع — عین = 70
  • ف — فا = 80
  • ص — صاد = 90

ایک سو سے ایک ہزار تک کے اعداد

  • ق — قاف = 100
  • ر — رے = 200
  • ش — شین = 300
  • ت — تے = 400
  • ث — ثے = 500
  • خ — خے = 600
  • ذ — ذال = 700
  • ض — ضاد = 800
  • ظ — ظا = 900
  • غ — غین = 1000

یہاں عربی رسم الخط کے حروف استعمال کیے گئے ہیں۔ اردو میں ک، ی اور ہ کی بعض شکلیں عربی سے مختلف دکھائی دیتی ہیں، لیکن عام مشرقی حساب میں ان کی متعلقہ عربی شکلوں سے مطابقت قائم کی جاتی ہے۔

یہ مشرقی ابجد کے اعداد ہیں۔ بعض تاریخی مغربی، یعنی مغربی اسلامی دنیا کے نظاموں میں چند حروف کی عددی قدریں مختلف ہیں۔

شروع میں آپ کو تمام اعداد یاد کرنے کی ضرورت نہیں۔

بس یہ فہرست سامنے رکھیں اور مثالوں کے ساتھ مشق کریں۔

4۔ علمِ ابجد سے کسی لفظ کا عدد کیسے نکالتے ہیں؟

کسی لفظ کا عدد نکالنے کے لیے چار کام کریں۔

پہلا مرحلہ: لفظ درست املا کے ساتھ لکھیں۔

دوسرا مرحلہ: اس کے حروف الگ الگ دیکھیں۔

تیسرا مرحلہ: ہر حرف کا ابجدی عدد معلوم کریں۔

چوتھا مرحلہ: تمام اعداد جمع کر دیں۔

بس، لفظ کا مجموعی عدد نکل آئے گا۔

آئیے اب چند معروف الفاظ اور ناموں کا حساب کرتے ہیں۔

5۔ لفظ نور کے اعداد کیسے نکالیں؟

سب سے پہلے ایک آسان لفظ لیتے ہیں۔

نور

اس میں تین حروف ہیں:

  • ن = 50
  • و = 6
  • ر = 200

اب انہیں جمع کریں:

50 + 6 + 200 = 256

اس لیے لفظ نور کا ابجدی عدد 256 ہے۔

یہاں آپ نے دیکھا کہ لفظ میں صرف تین حروف ہیں، لیکن اس کا عدد 256 نکلا۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ ابجد میں بعض حروف کی قدریں سینکڑوں میں ہوتی ہیں۔

6۔ علی نام کے اعداد کیسے نکالیں؟

اب ایک عام نام کا حساب کرتے ہیں۔

علی

اس کے حروف یہ ہیں:

  • ع = 70
  • ل = 30
  • ی = 10

اب جمع کریں:

70 + 30 + 10 = 110

اس طرح علی نام کا عدد 110 ہے۔

یہ نتیجہ نام کی تحریری شکل اور منتخب ابجدی طریقے کے مطابق حاصل ہوا ہے۔

لیکن صرف عدد 110 سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ علی نام کے ہر شخص کی قسمت، شخصیت یا مستقبل ایک جیسا ہوگا۔

7۔ محمد نام کے اعداد 92 کیسے بنتے ہیں؟

یہ علمِ ابجد میں ایک مشہور مثال ہے۔

لفظ محمد میں چار حروف ہیں:

  • م = 40
  • ح = 8
  • م = 40
  • د = 4

اب جمع کرتے ہیں:

40 + 8 + 40 + 4 = 92

اس لیے مشرقی ابجدِ کبیر کے مطابق محمد کے اعداد 92 ہیں۔

یہاں ایک بات غور سے دیکھیے۔

میم دو مرتبہ آیا ہے، اس لیے اس کا عدد 40 بھی دو مرتبہ شامل کیا گیا ہے۔

یعنی لفظ میں جو حرف جتنی بار لکھا جائے، عام حساب میں اتنی ہی بار اس کی قدر جمع کی جاتی ہے۔

8۔ بسم اللہ کے ساتھ 786 کا کیا تعلق ہے؟

آپ نے دکانوں، گھروں یا بعض تحریروں میں 786 کا عدد دیکھا ہوگا۔

جنوبی ایشیا کے بعض علاقوں میں اسے بسم اللہ الرحمن الرحیم کے ابجدی حساب سے منسلک کیا جاتا ہے۔

آئیے دیکھتے ہیں کہ یہ عدد کیسے بنتا ہے۔

یہاں ہم درج ذیل املا استعمال کر رہے ہیں:

بسم الله الرحمن الرحيم

پہلا لفظ: بسم

  • ب = 2
  • س = 60
  • م = 40

مجموعہ:

2 + 60 + 40 = 102

دوسرا لفظ: الله

  • ا = 1
  • ل = 30
  • ل = 30
  • ه = 5

مجموعہ:

1 + 30 + 30 + 5 = 66

تیسرا لفظ: الرحمن

  • ا = 1
  • ل = 30
  • ر = 200
  • ح = 8
  • م = 40
  • ن = 50

مجموعہ:

1 + 30 + 200 + 8 + 40 + 50 = 329

چوتھا لفظ: الرحيم

  • ا = 1
  • ل = 30
  • ر = 200
  • ح = 8
  • ي = 10
  • م = 40

مجموعہ:

1 + 30 + 200 + 8 + 10 + 40 = 289

اب چاروں الفاظ کے اعداد جمع کریں:

102 + 66 + 329 + 289 = 786

اس طرح معروف مشرقی حساب میں یہ مجموعہ 786 بنتا ہے۔

لیکن یہ فرق سمجھنا ضروری ہے کہ 786 ایک حسابی عدد ہے، بسم اللہ الرحمن الرحیم کی اصل عربی عبارت نہیں۔

دونوں کو ایک ہی چیز سمجھنا درست نہیں۔ اس عدد کے مذہبی استعمال یا اس کے شرعی حکم سے متعلق سوال کے لیے کسی مستند عالمِ دین سے رجوع کرنا چاہیے۔

9۔ قدیم زمانے میں علمِ ابجد کہاں استعمال ہوتا تھا؟

علمِ ابجد کا استعمال صرف ناموں کے اعداد معلوم کرنے تک محدود نہیں رہا۔

تاریخی طور پر اس کے کئی استعمال ملتے ہیں۔

کتابوں اور پرانے علمی کاموں میں

ماضی میں بعض علمی تحریروں، ریاضی کے کاموں اور فلکیاتی جدولوں میں حروف کو اعداد کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔

اس زمانے میں اعداد لکھنے کے طریقے آج سے مختلف تھے۔

شاعری میں تاریخ ظاہر کرنے کے لیے

قدیم فارسی اور اردو شاعری میں بعض اوقات شاعر کسی واقعے کی تاریخ کو ایک مصرعے یا فقرے کے حروف میں ظاہر کرتا تھا۔

اسے مادۂ تاریخ یا تاریخ گوئی کہتے ہیں۔

مثلاً کوئی شاعر عمارت کی تعمیر یا کسی تاریخی شخصیت کی وفات کے سال کو ایک مناسب فقرے کے عددی مجموعے میں ظاہر کرنے کی کوشش کرتا۔

یہ ایک ادبی اور حسابی ہنر تھا۔

اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ شاعر نے مستقبل کا واقعہ پہلے سے معلوم کر لیا تھا۔

روایتی روحانی علوم میں

حروف اور ان کے اعداد کو بعض تاریخی روحانی اور رمزی روایات میں بھی استعمال کیا گیا ہے۔

مختلف مکاتبِ فکر نے ان اعداد کے ساتھ الگ الگ معنی اور طریقے منسلک کیے۔

لیکن ایسے روایتی مفاہیم کو تجرباتی سائنس سے ثابت شدہ نتائج کے برابر نہیں سمجھنا چاہیے۔

10۔ اردو کے اضافی حروف کے اعداد کیسے نکالے جاتے ہیں؟

عربی کے معروف ابجدی نظام میں 28 بنیادی حروف ہیں۔

لیکن اردو اور فارسی میں ان کے علاوہ بھی کئی حروف استعمال ہوتے ہیں۔

مثلاً:

  • پ
  • چ
  • ژ
  • گ
  • ٹ
  • ڈ
  • ڑ

یہ حروف اصل 28 حرفی عربی جدول کا حصہ نہیں ہیں۔

بعض بعد کی حسابی روایتوں میں انہیں ان سے ملتے جلتے بنیادی عربی حروف کی قدر دی جاتی ہے۔

مثلاً بعض طریقوں میں:

  • پ کو ب کے برابر، یعنی 2 شمار کیا جاتا ہے۔
  • چ کو ج کے برابر، یعنی 3 شمار کیا جاتا ہے۔
  • گ کو ک کے برابر، یعنی 20 شمار کیا جاتا ہے۔

لیکن یہ ہر تاریخی کتاب اور ہر حسابی نظام کا متفقہ اصول نہیں ہے۔

اسی لیے اردو یا فارسی ناموں کے اعداد نکالتے وقت پہلے یہ معلوم کرنا چاہیے کہ کون سا طریقہ استعمال کیا جا رہا ہے۔

11۔ ایک ہی نام کے اعداد مختلف کیوں نکلتے ہیں؟

کبھی ایسا ہوتا ہے کہ آپ ایک نام کے اعداد کسی کتاب میں دیکھتے ہیں تو کچھ اور لکھے ہوتے ہیں، جبکہ کسی ویب سائٹ پر کچھ اور۔

اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔

مثلاً:

  • نام کی املا مختلف ہو۔
  • ابجدِ مشرقی کے بجائے ابجدِ مغربی استعمال ہوا ہو۔
  • اردو کے اضافی حروف کے قواعد مختلف ہوں۔
  • ہمزہ کے حساب کا طریقہ الگ ہو۔
  • ة یا بعض دوسری تحریری شکلوں کو مختلف انداز سے شمار کیا گیا ہو۔
  • تشدید یا دوسری علامات کے حساب میں فرق ہو۔

ایک آسان مثال

ہم نے پہلے نور کے اعداد نکالے تھے:

نور = 256

اب اس لفظ کے آخر میں الف بڑھا دیتے ہیں:

نورا

الف کا عدد 1 ہے۔

اس لیے نیا حساب ہوگا:

256 + 1 = 257

یعنی صرف ایک اضافی حرف کی وجہ سے عدد بدل گیا۔

اس مثال سے معلوم ہوا کہ علمِ ابجد میں درست املا کتنی اہم ہے۔

اگر دو حساب مختلف آئیں تو سب سے پہلے املا اور استعمال ہونے والے قواعد کا موازنہ کرنا چاہیے۔

12۔ ابجدِ کبیر اور ابجدِ صغیر میں کیا فرق ہے؟

آپ نے علمِ ابجد کی کتابوں میں دو نام سنے ہوں گے:

  • ابجدِ کبیر
  • ابجدِ صغیر

ابجدِ کبیر میں عام طور پر وہ مکمل عددی قدریں استعمال ہوتی ہیں جو ہم نے پہلے بیان کی ہیں۔

یعنی الف 1، بے 2، جیم 3 سے لے کر غین 1000 تک۔

دوسری طرف بعض روایتی طریقوں میں چھوٹی یا مختصر عددی قدریں حاصل کرنے کے لیے الگ حساب استعمال کیے جاتے ہیں، جنہیں ابجدِ صغیر کے نام سے بھی بیان کیا جاتا ہے۔

تاہم مختلف روایتوں میں ان مختصر طریقوں کے قواعد یکساں نہیں ہیں۔

اس لیے اگر کسی کتاب میں ابجدِ صغیر استعمال ہو رہا ہو تو پہلے اس کتاب کے اپنے اصول سمجھنا ضروری ہے۔

ابتدا کرنے والوں کے لیے بہتر ہے کہ پہلے ابجدِ کبیر اچھی طرح سمجھیں۔

13۔ کیا علمِ ابجد اور علمِ جفر ایک ہی چیز ہیں؟

نہیں، دونوں کو مکمل طور پر ایک جیسا نہیں کہنا چاہیے۔

علمِ ابجد کا بنیادی تعلق حروف کی عددی قدروں اور ان کے حساب سے ہے۔

علمِ جفر مختلف تاریخی اور روایتی مکاتب میں حروف، اعداد اور ان کی رمزی تعبیرات سے متعلق ایک وسیع تر موضوع کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔

بعض روایتی طریقوں میں ابجدی اعداد کو بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

لیکن صرف کسی نام کے اعداد نکال لینا علمِ جفر کے تمام طریقوں کو سمجھ لینے کے برابر نہیں۔

اسی طرح علمِ تکسیر میں حروف کی ترتیب اور ان سے متعلق مخصوص روایتی طریقے زیرِ بحث آتے ہیں۔

ان علوم کی اپنی الگ اصطلاحات اور طریقے ہیں۔

اس لیے نئے طالب علم کو پہلے حروف کے اعداد اور ان کے بنیادی حساب پر عبور حاصل کرنا چاہیے۔

14۔ کیا علمِ ابجد سے قسمت یا مستقبل معلوم ہو سکتا ہے؟

یہ ایک اہم سوال ہے۔

علمِ ابجد میں کسی لفظ کا مجموعی عدد نکالنا ریاضی کا ایک سادہ عمل ہے۔

مثلاً:

علم = 140

یہ نتیجہ مقررہ حرفی قدروں کو جمع کرکے حاصل کیا جا سکتا ہے اور دوسرا شخص بھی اسے جانچ سکتا ہے۔

لیکن اس عدد سے کسی انسان کی شادی، بیماری، دولت، کامیابی یا مستقبل کا قطعی فیصلہ کرنا ایک الگ دعویٰ ہے۔

موجودہ سائنسی شواہد اس بات کی معتبر تائید نہیں کرتے کہ کسی شخص کے نام کا ابجدی عدد اس کے مستقبل کی قابلِ اعتماد پیش گوئی کر سکتا ہے۔

ایک ہی نام رکھنے والے دو افراد کے اعداد یکساں ہو سکتے ہیں، لیکن ان کے حالات اور زندگی کے تجربات بالکل مختلف ہو سکتے ہیں۔

اس لیے بہتر ہے کہ علمِ ابجد کے تاریخی، لسانی، ادبی اور حسابی پہلوؤں کو سمجھا جائے اور روایتی تعبیرات کو یقینی سائنسی نتائج نہ سمجھا جائے۔

15۔ اب خود مشق کرکے دیکھیں

اب ہم چار چھوٹی مثالوں سے اپنی سمجھ کو آزماتے ہیں۔

مثال نمبر 1: علم

لفظ:

علم

حروف:

  • ع = 70
  • ل = 30
  • م = 40

مجموعہ:

70 + 30 + 40 = 140

جواب: 140

مثال نمبر 2: قلم

لفظ:

قلم

حروف:

  • ق = 100
  • ل = 30
  • م = 40

مجموعہ:

100 + 30 + 40 = 170

جواب: 170

مثال نمبر 3: باب

لفظ:

باب

حروف:

  • ب = 2
  • ا = 1
  • ب = 2

مجموعہ:

2 + 1 + 2 = 5

جواب: 5

مثال نمبر 4: نور

لفظ:

نور

حروف:

  • ن = 50
  • و = 6
  • ر = 200

مجموعہ:

50 + 6 + 200 = 256

جواب: 256

اگر آپ نے یہ چاروں مثالیں سمجھ لی ہیں تو اب آپ علمِ ابجد کا بنیادی حساب خود کر سکتے ہیں۔

16۔ اکثر پوچھے جانے والے سوالات

سوال: کیا علمِ ابجد سیکھنا مشکل ہے؟

نہیں۔ ابتدائی حساب میں صرف حروف کے اعداد دیکھنے اور انہیں جمع کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ دوسرے روایتی اور پیچیدہ طریقے الگ موضوعات ہیں۔

سوال: ابجد میں کتنے بنیادی حروف ہیں؟

معروف عربی ابجدی نظام میں 28 بنیادی حروف ہیں۔

سوال: محمد نام کے اعداد کتنے ہیں؟

مشرقی ابجدِ کبیر میں محمد کے اعداد 92 ہیں۔

سوال: علی نام کے اعداد کتنے ہیں؟

علی کے اعداد 110 ہیں، بشرطیکہ وہی املا اور مشرقی ابجدی قواعد استعمال کیے جائیں جو اوپر بیان کیے گئے ہیں۔

سوال: نور کے اعداد کتنے ہیں؟

لفظ نور کے اعداد 256 ہیں۔

سوال: کیا ایک ہی عدد کئی ناموں کا ہو سکتا ہے؟

جی ہاں۔ مختلف حروف کے مجموعے ایک ہی عدد دے سکتے ہیں۔

سوال: کیا املا بدلنے سے اعداد بھی بدل جاتے ہیں؟

جی ہاں۔ کسی حرف کے بڑھنے، کم ہونے یا بدلنے سے مجموعی عدد بدل سکتا ہے۔

سوال: کیا علمِ ابجد سے مستقبل کی یقینی پیش گوئی کی جا سکتی ہے؟

اس قسم کی پیش گوئیوں کی قابلِ اعتماد سائنسی حیثیت ثابت نہیں ہے۔ ابجدی حساب اور شخصی پیش گوئی دو مختلف چیزیں ہیں۔

خلاصہ

علمِ ابجد حروف اور اعداد کے باہمی تعلق پر مبنی ایک قدیم حسابی طریقہ ہے۔

اس کا بنیادی اصول یہ ہے کہ ہر حرف کی ایک مقرر عددی قدر ہوتی ہے اور کسی لفظ کے تمام حروف کے اعداد جمع کرکے اس کا مجموعہ معلوم کیا جاتا ہے۔

اس نظام کو تاریخی طور پر علمی تحریروں، ریاضی، فلکیاتی جدولوں، شاعری اور بعض روایتی روحانی علوم میں استعمال کیا گیا ہے۔

اس کے بنیادی حساب کو سمجھنا مشکل نہیں۔

اگر آپ ابجدِ کبیر کی فہرست سامنے رکھ کر چند الفاظ کے اعداد خود نکالیں تو تھوڑی مشق کے بعد یہ طریقہ اچھی طرح سمجھ آ سکتا ہے۔

البتہ مختلف حسابی روایتوں اور ناموں کی املا کا فرق ہمیشہ ذہن میں رکھنا چاہیے۔

یاد رکھیے: کسی لفظ کے اعداد کا درست حساب ہونا اور ان اعداد سے کسی انسان کے مستقبل کے متعلق کی گئی تعبیر کا درست ہونا دو الگ معاملات ہیں۔

RohaniGuide کی کوشش ہے کہ علمِ ابجد، علمِ اعداد اور دوسرے روایتی علوم کو آسان اور معلوماتی انداز میں پیش کیا جائے، تاکہ عام قاری بھی بنیادی اصطلاحات اور حسابی اصول سمجھ سکے۔

حوالہ جات اور مزید مطالعہ