کیا آپ نے کبھی ایسا مربع دیکھا ہے جس کے ہر خانے میں الگ عدد لکھا ہو، لیکن آپ کسی بھی قطار، ستون یا دونوں بڑی ترچھی لکیروں کے اعداد جمع کریں تو جواب ایک ہی آئے؟ مثلاً نو خانوں میں ایک سے نو تک اعداد اس طرح رکھ دیے جائیں کہ ہر سمت سے مجموعہ ۱۵ بنے۔

یہ معمولی ترتیب نہیں، بلکہ باقاعدہ حساب سے بنایا گیا مربع ہے۔ قدیم اہلِ علم نے ایسے مربعات کے اصول مرتب کیے، ان کے مختلف طریقے دریافت کیے اور بعض روحانی روایات میں انہیں حروف، اسماء اور مخصوص مقاصد سے بھی متعلق سمجھا۔ اسی موضوع کو علمِ اوفاق کہا جاتا ہے۔

اس مضمون میں ہم صرف تعریف نہیں پڑھیں گے؛ یہ بھی جانیں گے کہ علمِ اوفاق کیوں استعمال کیا جاتا تھا، اس سے کیا جاننے یا حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی تھی، اس کے روایتی فوائد کیا سمجھے جاتے تھے، اور صحیح وفق خود کیسے بنایا اور جانچا جاتا ہے۔ مثالوں میں تین در تین، چار در چار، حرفی مربعات اور لفظ کے ابجدی عدد سے بننے والی ترتیبیں شامل ہیں۔

علمِ اوفاق کیا ہے؟

عربی کا لفظ وفق موافقت اور مطابقت کے مفہوم سے تعلق رکھتا ہے؛ اس کی جمع اوفاق ہے۔ عددی اصطلاح میں وفق ایک ایسی منظم ترتیب کو کہا جاتا ہے جس میں اعداد یا بعض طریقوں میں حروف مخصوص خانوں میں رکھے جائیں۔ اس کی سب سے معروف صورت عدد کا متوازن مربع ہے، جس کی ہر قطار، ہر ستون اور دونوں مرکزی ترچھی سمتوں کا مجموعہ برابر ہوتا ہے۔

یہ مثال دیکھیے:

۸۱۶
۳۵۷
۴۹۲

پہلی قطار: ۸ + ۱ + ۶ = ۱۵

دوسری قطار: ۳ + ۵ + ۷ = ۱۵

تیسری قطار: ۴ + ۹ + ۲ = ۱۵

یہی نتیجہ تینوں ستونوں اور دونوں بڑی ترچھی سمتوں سے بھی حاصل ہوتا ہے۔ لہٰذا یہ تین در تین کا درست عددی وفق ہے۔

علمِ اوفاق میں دو پہلو الگ سمجھنے چاہییں: مربع بنانے اور اس کا حساب جانچنے کا طریقہ اور اس مربع سے کسی مخصوص روحانی یا علامتی معنی کی تعبیر۔ بعض تاریخی کتابیں پہلے پہلو پر زیادہ بحث کرتی ہیں، بعض دوسرے پہلو پر، اور بعض میں دونوں ملتے ہیں۔

علمِ اوفاق کیوں استعمال کیا جاتا تھا؟

اس علم کی طرف رجوع کرنے کے مقاصد ہر دور اور ہر مکتب میں یکساں نہیں رہے۔ بعض اہلِ حساب کے سامنے سوال یہ تھا کہ مختلف اعداد کو خانوں میں رکھ کر یکساں مجموعہ کیسے پیدا کیا جائے۔ اس کے لیے انہوں نے باقاعدہ طریقے وضع کیے۔

بعض روحانی اہلِ فن نے اعداد کی اس ہم آہنگی کو حروف اور اسماء کی عددی نسبتوں سے جوڑ کر دیکھا۔ ان کے ہاں کسی مربع کی اہمیت صرف اس بات سے وابستہ نہیں ہوتی تھی کہ وہ حسابی اعتبار سے درست ہے، بلکہ یہ بھی دیکھا جاتا تھا کہ اس میں کون سے اعداد آئے، ان کے ساتھ کون سے حروف منسوب ہیں، اور متعلقہ روایت میں اس ترتیب کا مقصد کیا بتایا گیا ہے۔

یوں اہلِ فن مختلف سوالات پر غور کرتے تھے:

  • کسی عدد یا مجموعے کے لیے درست مربع کس قاعدے سے بنے گا؟
  • اسم یا لفظ کے ابجدی اعداد مربع میں کس حیثیت سے استعمال ہوں گے؟
  • اعداد کی برابر تقسیم اور درمیانی خانے میں کیا تعلق ہے؟
  • ایک ہی عدد کے ساتھ مختلف درست مربعات کیوں بن سکتے ہیں؟
  • قدیم کتب میں مخصوص اوفاق کو تحفظ، موافقت یا خیر و عافیت سے کیوں منسوب کیا گیا؟
  • بعض طریقوں میں سیاروی ساعات یا دوسری روایتی نسبتیں کیوں شامل کی جاتی تھیں؟

ان سوالات کو سمجھنا علمِ اوفاق کے مطالعے کو محض اعداد نقل کرنے سے کہیں زیادہ بامعنی بنا دیتا ہے۔

تاریخی پس منظر: علمِ حساب سے روحانی مخطوطات تک

متوازن عددی مربعات کی مثالیں مختلف تہذیبوں میں ملتی ہیں۔ چین کے مشہور لو شو مربع کا ذکر بھی اس تاریخ میں آتا ہے۔ عربی علمی روایت میں دسویں صدی عیسوی تک ایسے مربعات کی تشکیل سے متعلق باقاعدہ تحریریں موجود تھیں۔ ان کے تاریخی مطالعے میں علی بن احمد الانطاکی اور ابوالوفا البوزجانی سے منسوب مباحث اہم ہیں۔

عربی و اسلامی مخطوطات کی تاریخ میں بعض مربعات صرف حسابی ترتیب کے طور پر نہیں بلکہ خاص روایتی مقاصد کے ساتھ بھی سامنے آتے ہیں۔ امریکا کی نیشنل لائبریری آف میڈیسن کے تاریخی تعارف میں جابر بن حیان سے منسوب تحریروں کے اندر تین در تین کے ایک مربع کا ذکر ہے جسے زچگی میں آسانی کی امید سے استعمال کیے جانے والے تعویذی عمل سے جوڑا گیا تھا۔ یہ اس روایت کے تاریخی استعمال کی مثال ہے، علاج کی ہدایت نہیں۔

احمد البونی سے متعلق روایت

تیرہویں صدی کے معروف عالم احمد البونی کا نام علم الحروف اور علمِ اوفاق کے مباحث میں آتا ہے۔ ان سے متعلق متون میں حروف، اعداد، اسماء اور مربعات کے باہمی تعلق پر بحث ملتی ہے۔ تاہم ان کے نام سے شائع ہونے والی ہر کتاب کو ان کی مستند اصل تصنیف نہیں سمجھا جاسکتا۔ بالخصوص موجودہ مفصل شمس المعارف الکبریٰ بعد کے زمانے کا مرتب کردہ مجموعہ ہے۔ اس فرق پر محقق ژاں شارل کولوں نے ستمبر ۲۰۲۶ء میں شائع ہونے والی تحقیق میں تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔

عثمانی علمی روایت اور ایک محفوظ مخطوطہ

سولہویں صدی کے عثمانی عالم طاش کبری زادہ نے اوفاق کی تعریف میں ایسے مربع جدولوں کا ذکر کیا ہے جن میں اعداد یا ان کی جگہ حروف رکھے جائیں اور اطراف و ترچھی سمتوں کے مجموعے برابر ہوں۔ ان کی بحث سے واضح ہوتا ہے کہ یہ موضوع حسابی ترتیب اور روایتی خواص دونوں حوالوں سے پڑھا جاتا تھا۔

پرنسٹن یونیورسٹی میں محفوظ عربی مخطوطہ کتاب النور الساطع والسر القاطع فی علم الاوفاق، جسے تقریباً ۱۸۲۰ء تا ۱۸۶۰ء کا قرار دیا گیا ہے، تین سے دس خانے فی ضلع والے مربعات کا ذکر کرتا ہے۔ اس کا آخری باب حروف کے خواص سے متعلق ہے۔ یہ علمِ اوفاق کے عددی اور حرفی پہلوؤں کے تاریخی تعلق کی ایک واضح مثال ہے۔

علمِ اوفاق کی اہم قسمیں

عددِی اوفاق: جن کے خانوں میں اعداد رکھے جاتے ہیں۔ ان کا مجموعہ مقررہ حسابی قاعدے کے مطابق جانچا جاسکتا ہے۔

حرفی اوفاق: جن میں اعداد کی جگہ حروف یا حروف سے وابستہ عددی قدریں استعمال ہوتی ہیں۔ ان کا طریقہ سمجھنے کے لیے متعلقہ ابجدی قاعدہ واضح ہونا چاہیے۔

مختلف درجوں کے مربعات: تین در تین میں نو، چار در چار میں سولہ، پانچ در پانچ میں پچیس خانے ہوتے ہیں۔ اس طرح بڑے مربعات بھی بنائے جاتے ہیں۔

خصوصی تاریخی ترتیبیں: کچھ مخطوطات میں ایسے جدول یا نقش بھی ملتے ہیں جو عام متوازن مربع کی تمام شرائط پر پورے نہیں اترتے، کیونکہ ان کا قاعدہ مختلف ہوتا ہے۔ اس لیے ہر تاریخی نقش کو دیکھتے ہی عام عددی مربع سمجھ لینا درست نہیں۔

درست عددی وفق کو کیسے پہچانیں؟

اگر ہم ایک سے لے کر مربع کے کل خانوں تک مسلسل اعداد کو صرف ایک ایک مرتبہ استعمال کریں تو ایک معیاری متوازن مربع کی تین بنیادی شرطیں ہوں گی:

۱۔ تمام افقی قطاروں کا مجموعہ برابر ہو۔

۲۔ تمام عمودی ستونوں کا مجموعہ بھی وہی ہو۔

۳۔ دونوں بڑی ترچھی سمتوں کا مجموعہ بھی اسی کے برابر ہو۔

اس مشترک مجموعے کو مجموعۂ ثابت کہا جاسکتا ہے۔ اگر ایک طرف خانوں کی تعداد ن ہو تو عام مسلسل اعداد والے مربع کے لیے:

مجموعۂ ثابت = ن × (ن² + ۱) ÷ ۲

تین در تین کے لیے: ۳ × (۹ + ۱) ÷ ۲ = ۱۵

چار در چار کے لیے: ۴ × (۱۶ + ۱) ÷ ۲ = ۳۴

یہ فارمولا ایسے عام مربعات کے لیے ہے جن میں ۱ سے ن² تک کے تمام اعداد ایک مرتبہ استعمال ہوتے ہیں۔ دوسرے اعداد سے بننے والے تاریخی اوفاق کے مجموعے مختلف ہوسکتے ہیں۔

عملی مثال: تین در تین کا وفق خود بنائیں

اس طریقے میں ایک سے نو تک اعداد استعمال ہوں گے۔ پہلے تین قطاریں اور تین ستون بنا لیجیے۔ پھر درج ذیل اصول اپنائیے:

۱۔ عدد ۱ اوپر والی قطار کے درمیانی خانے میں رکھیں۔

۲۔ اگلا عدد رکھنے کے لیے ایک خانہ اوپر اور ایک خانہ دائیں جائیں۔ حد ختم ہوجائے تو دوسری جانب سے گنتی جاری رکھیں۔

۳۔ اگر وہ خانہ پہلے سے بھرا ہو تو پچھلے عدد کے خانے سے ایک خانہ نیچے آجائیں۔

۴۔ یہی سلسلہ عدد ۹ تک جاری رکھیں۔

نتیجہ یہ ہوگا:

۸۱۶
۳۵۷
۴۹۲

یہ طاق تعداد والے مربعات بنانے کا ایک معروف حسابی طریقہ ہے، جسے بعض کتابوں میں سیامی طریقہ کہا جاتا ہے۔ اس تعلیمی مثال کو تمام قدیم اوفاق کی واحد تاریخی ترکیب نہیں سمجھنا چاہیے۔

مکمل تصدیق

قطاریں: ۸+۱+۶=۱۵؛ ۳+۵+۷=۱۵؛ ۴+۹+۲=۱۵۔

ستون: ۸+۳+۴=۱۵؛ ۱+۵+۹=۱۵؛ ۶+۷+۲=۱۵۔

ترچھے رخ: ۸+۵+۲=۱۵؛ ۶+۵+۴=۱۵۔

مجموعۂ ثابت ہر جگہ ۱۵ ہے، لہٰذا مربع درست ہے۔

درمیان میں پانچ کیوں آتا ہے؟

ایک سے نو تک اعداد کا کل مجموعہ ۴۵ بنتا ہے۔ تین برابر قطاروں کا مجموعۂ ثابت ۴۵ ÷ ۳ = ۱۵ ہوگا۔ تین در تین کے درست مربع میں درمیانی عدد اس مجموعے کا ایک تہائی ہوتا ہے: ۱۵ ÷ ۳ = ۵۔

اس ترتیب میں مرکز کے آمنے سامنے والے خانوں کے اعداد بھی ۱۰ بناتے ہیں: ۸+۲، ۱+۹، ۶+۴ اور ۳+۷۔ اس نسبت سے مربع کی داخلی ترتیب کو سمجھنا آسان ہوجاتا ہے۔

بدوح کیا ہے؟

تین در تین کا یہ معروف مربع تاریخی اسلامی تحریروں میں بدوح کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ یہ نام چار حروف ب، د، و، ح سے وابستہ ہے، جن کی مشرقی ابجد میں قدریں بالترتیب ۲، ۴، ۶، ۸ ہیں۔ معروف مربع میں یہی چار جفت اعداد چار کونوں پر ہوتے ہیں؛ مربع کے گھمانے یا الٹنے سے ان کی دکھائی دینے والی ترتیب بدل سکتی ہے۔

بعض روایات میں بدوح کے ساتھ علامتی یا حفاظتی خواص کی نسبت ملتی ہے۔ اس نسبت کو متعلقہ تاریخی روایت کے طور پر سمجھنا چاہیے؛ ایک درست عددی ترتیب بذاتِ خود کسی خاص عمل یا نتیجے کی قطعی ضمانت نہیں ہوتی۔

عملی مثال: عددی مربع کو حرفی مربع میں بدلنا

ابجدِ کبیر کے مشرقی نظام میں ابتدائی نو عدد ان حروف سے متعلق ہیں:

عددحرف
۱ا
۲ب
۳ج
۴د
۵ه
۶و
۷ز
۸ح
۹ط

اگر عددی مربع کے ہر عدد کی جگہ اسی قدر کا حرف رکھ دیں تو:

حاو
جهز
دطب

پہلی قطار کے ابجدی اعداد ۸ + ۱ + ۶ = ۱۵ ہیں۔ باقی تمام مطلوبہ سمتوں میں بھی عددی مساوات برقرار رہتی ہے۔

یہ حروف میں عددی مربع کی نمائندگی ہے؛ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ہر قطار کوئی بامعنی عربی لفظ ہے یا اس ترتیب کا لازماً ایک ہی روحانی استعمال ہے۔ تاریخی حرفی اوفاق کی مخصوص تعبیر کے لیے متعلقہ کتاب کا طریقہ دیکھنا ہوگا۔

عملی مثال: چار در چار کا وفق اور اس کا حساب

چار در چار میں ۱۶ خانے ہوتے ہیں۔ ایک سے سولہ تک اعداد استعمال کیے جائیں تو ہر مطلوبہ سمت کا مجموعہ ۳۴ ہوگا۔

۱۶۳۲۱۳
۵۱۰۱۱۸
۹۶۷۱۲
۴۱۵۱۴۱

اسے بنانے کا ایک آسان طریقہ

پہلے چار قطاروں میں اعداد ۱ سے ۱۶ تک بالترتیب لکھیں۔ اب دونوں بڑی ترچھی سمتوں پر موجود خانوں کے ہر عدد س کی جگہ ۱۷ − س لکھیں، باقی اعداد برقرار رہنے دیں۔ آخر میں درمیانی دوسرے اور تیسرے ستون کی جگہیں آپس میں بدل دیں۔ اس سے اوپر دکھایا گیا درست مربع حاصل ہوتا ہے۔

مکمل تصدیق

قطاریں:

  • ۱۶+۳+۲+۱۳ = ۳۴
  • ۵+۱۰+۱۱+۸ = ۳۴
  • ۹+۶+۷+۱۲ = ۳۴
  • ۴+۱۵+۱۴+۱ = ۳۴

ستون:

  • ۱۶+۵+۹+۴ = ۳۴
  • ۳+۱۰+۶+۱۵ = ۳۴
  • ۲+۱۱+۷+۱۴ = ۳۴
  • ۱۳+۸+۱۲+۱ = ۳۴

ترچھی سمتیں: ۱۶+۱۰+۷+۱=۳۴؛ ۱۳+۱۱+۶+۴=۳۴۔

یوں یہ مربع بھی درست ثابت ہوگیا۔

مختلف سائز کے مربعات کا مجموعۂ ثابت

مربعکل خانےہر سمت کا مجموعہ
۳ × ۳۹۱۵
۴ × ۴۱۶۳۴
۵ × ۵۲۵۶۵
۶ × ۶۳۶۱۱۱
۷ × ۷۴۹۱۷۵
۸ × ۸۶۴۲۶۰
۹ × ۹۸۱۳۶۹

ان تمام نتائج میں فرض کیا گیا ہے کہ ہر مربع میں ۱ سے لے کر کل خانوں کی تعداد تک اعداد صرف ایک مرتبہ رکھے گئے ہیں۔

علمِ ابجد اور اوفاق کا تعلق: لفظِ مَلِک کی مثال

بعض روایتی طریقوں میں کسی اسم یا عبارت کے حروف کی ابجدی قدریں نکال کر انہیں مربع کی تشکیل کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ مثال کے طور پر عربی لفظ ملك (مَلِک) کا حساب دیکھیں:

حرفابجدی قدر
م۴۰
ل۳۰
ك۲۰
کل۹۰

اس لفظ کے اعداد ۴۰ + ۳۰ + ۲۰ = ۹۰ ہیں۔ تاریخی اوفاق سے متعلق بعض متون میں بھی اس اسم کی عددی قدر ۹۰ کو مثال کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔

لیکن یہاں ایک بنیادی سوال ہے: کیا ۹۰ ہر قطار کا مجموعہ ہونا چاہیے؟ یا درمیانی خانے کا عدد؟ یا اس سے کوئی اور ترتیب اخذ ہوگی؟

یہ فیصلہ خود ابجدی جمع نہیں کرتی۔ اس کے لیے واضح کرنا پڑتا ہے کہ کون سا تاریخی یا تعلیمی طریقہ اختیار کیا جارہا ہے۔

عملی مثال: ہر قطار میں نوے کا مجموعہ

اب ہم ایک تعلیمی حسابی مثال بناتے ہیں، جو کسی خاص روحانی نسخے کی نقل نہیں ہے۔

ہمارے پہلے تین در تین کے مربع کا مجموعہ ۱۵ ہے۔ اسے ۹۰ کرنا ہے۔ فرق:

۹۰ − ۱۵ = ۷۵

ہر قطار میں تین خانے ہیں، اس لیے ۷۵ ÷ ۳ = ۲۵۔ اب پہلے مربع کے ہر خانے میں ۲۵ کا اضافہ کردیں:

۳۳۲۶۳۱
۲۸۳۰۳۲
۲۹۳۴۲۷

قطاریں: ۳۳+۲۶+۳۱=۹۰؛ ۲۸+۳۰+۳۲=۹۰؛ ۲۹+۳۴+۲۷=۹۰۔

ستون: ۳۳+۲۸+۲۹=۹۰؛ ۲۶+۳۰+۳۴=۹۰؛ ۳۱+۳۲+۲۷=۹۰۔

ترچھے رخ: ۳۳+۳۰+۲۷=۹۰؛ ۳۱+۳۰+۲۹=۹۰۔

یہ ایک درست عددی مربع ہے جس میں ہر مطلوبہ سمت کا مجموعہ ۹۰ بنتا ہے۔

لفظِ نور کا عدد ۲۵۶ ہو تو کیا ہوگا؟

ابجدِ کبیر کے مطابق:

نور = ن (۵۰) + و (۶) + ر (۲۰۰) = ۲۵۶

اگر ہم ایسا تین در تین کا مربع بنانا چاہیں جس میں ہر قطار کا مجموعہ ۲۵۶ ہو اور خانوں میں صرف صحیح اعداد ہوں تو یہ ممکن نہیں۔ وجہ یہ ہے کہ تین در تین کے درست مربع میں مجموعۂ ثابت مرکز کے عدد کا تین گنا ہوتا ہے؛ ۲۵۶ کو ۳ پر پورا تقسیم نہیں کیا جاسکتا۔

لیکن ۲۵۶ کو درمیانی خانے میں رکھنا بالکل ممکن ہے۔ پہلے مربع کے ہر خانے میں ۲۵۱ جمع کردیں؛ درمیان کا پانچ اب ۲۵۶ بن جائے گا:

۲۵۹۲۵۲۲۵۷
۲۵۴۲۵۶۲۵۸
۲۵۵۲۶۰۲۵۳

اس مربع کی ہر قطار، ہر ستون اور دونوں ترچھی سمتوں کا مجموعہ ۷۶۸ ہے۔ مثلاً:

۲۵۹ + ۲۵۲ + ۲۵۷ = ۷۶۸

۲۵۴ + ۲۵۶ + ۲۵۸ = ۷۶۸

۲۵۹ + ۲۵۶ + ۲۵۳ = ۷۶۸

یاد رکھیے: یہاں ۲۵۶ درمیانی عدد ہے، مجموعۂ ثابت نہیں۔ یہ فرق کسی بھی اسم کے عدد سے مربع بناتے وقت بہت اہم ہے۔

روحانی روایات میں اوفاق کی اہمیت اور فوائد

اب اصل سوال کی طرف آتے ہیں: قدیم روحانی اہلِ فن ان مربعات سے کیا فائدہ حاصل کرنا چاہتے تھے؟

حفاظت اور عافیت

بعض تاریخی متون میں مخصوص مربعات کو حفاظت، خیر و عافیت یا مشکل حالات میں آسانی کی امید سے استعمال کرنے کا ذکر آتا ہے۔ یہ متعلقہ روایت کے مقصود کی وضاحت ہے۔ کسی جسمانی بیماری یا زچگی کی پیچیدگی میں مستند طبی دیکھ بھال اپنی جگہ ضروری ہے۔

صلح اور باہمی موافقت

بعض روایات میں حرفی یا عددی ترتیبوں کو باہمی موافقت، خیر خواہی اور صلح کی نیت سے منسوب کیا گیا۔ تاہم ہر کتاب کا طریقہ، اس کی شرطیں اور اس کے بیان کردہ معانی ایک جیسے نہیں ہوتے۔

روزگار اور معاش

کچھ تاریخی روحانی تحریروں میں معاش، رزق اور تعاون کی خواہش کے ساتھ مخصوص اوفاق کا ذکر ملتا ہے۔ یہاں ضروری ہے کہ ہم اس بات کو سمجھیں کہ اہلِ فن اس عمل سے کیا حاصل کرنے کی امید رکھتے تھے؛ اسے ہر فرد کے لیے یقینی نتیجہ کہنا ایک الگ دعویٰ ہوگا۔

ذکر، اسماء اور روحانی غور و فکر

علم الحروف اور اوفاق سے متعلق بعض تحریروں میں اسمائے الٰہی، حروف اور عددی نسبتوں کو روحانی غور و فکر سے جوڑا گیا۔ لیکن قرآن و سنت سے ثابت اذکار و دعاؤں کی اپنی بنیاد ہے؛ کسی عددی ترتیب کو خودبخود شرعی طور پر مقررہ ذکر یا وظیفہ نہیں کہنا چاہیے۔

حساب، ترتیب اور تاریخی فہم

علمِ اوفاق سے اعداد کی ترتیب بنانا، اسے جانچنا، حرفی و عددی نسبتوں کا فرق سمجھنا اور قدیم مخطوطات میں موجود مربعات کو پڑھنا بھی سیکھا جاسکتا ہے۔ یہ وہ براہِ راست تعلیمی فائدے ہیں جو طالبِ علم عملی مشق سے حاصل کرتا ہے۔

ان روایتی مقاصد کو سمجھنے کے لیے کسی روحانی روایت کو دوسرے میدانِ علم سے کمتر یا برتر ثابت کرنے کی ضرورت نہیں۔ اصل اہمیت یہ ہے کہ ہر طریقہ اپنے اصل ماخذ، اصول اور مقصود کے مطابق بیان ہو۔

علمِ اوفاق سے انسان کیا جان سکتا ہے؟

بنیادی مطالعے سے طالبِ علم واضح طور پر معلوم کرسکتا ہے کہ:

  • کسی مربع میں کون سی عددی ترتیب استعمال ہوئی ہے اور وہ درست ہے یا نہیں؛
  • ہر قطار، ستون اور ترچھی سمت کا مجموعہ کیا نکلتا ہے؛
  • مربع کے درمیانی عدد اور مجموعۂ ثابت میں کیا فرق ہے؛
  • حروف کے ابجدی اعداد کو خانوں میں بدلنے کے کیا امکانات ہیں؛
  • کسی مخصوص مخطوطے میں وفق کو کس مقصد سے بیان کیا گیا ہے؛
  • تاریخی روایت میں حسابی مرحلہ کہاں ختم ہوتا ہے اور تعبیر کہاں شروع ہوتی ہے۔

البتہ صرف کسی مربع کے اعداد سے کسی دوسرے شخص کے پوشیدہ خیالات، پوری زندگی یا مستقبل کے تمام واقعات کا قطعی علم حاصل ہونا بنیادی حساب کا نتیجہ نہیں۔ اس نوعیت کی کسی روایت کا مطالعہ کرتے ہوئے اس کا اصل طریقہ الگ واضح ہونا چاہیے۔

علمِ اوفاق اور متعلقہ روایتی علوم میں فرق

علمبنیادی موضوع
علمِ اوفاقاعداد یا حروف کے متوازن مربعات اور ان کے مخصوص طریقے
علمِ ابجدحروف کی مقررہ عددی قدریں اور ان کا مجموعہ
علم الحروفحروف کی صورت، آواز، عددی اور علامتی نسبتیں
علمِ جفرحروف و اعداد کی مختلف تعبیراتی روایات
علمِ تکسیرحروف کو الگ کرنے، ترتیب دینے یا تبدیل کرنے کے طریقے
علمِ ساعتدن رات کی ساعات اور ان کے روایتی سیاروی حاکم
علمِ رملطاق و جفت نقطوں سے مخصوص اشکال اور نقش تیار کرنا

ان علوم کے بعض تاریخی طریقے ایک دوسرے سے ملتے ہیں، مگر بنیادی حساب کو ایک دوسرے کا مکمل بدل نہیں سمجھنا چاہیے۔ مزید مطالعے کے لیے علمِ ابجد کیا ہے؟، علم الحروف کیا ہے؟ اور علمِ ساعت کیا ہے؟ ملاحظہ کریں۔

عام غلطیاں جن سے بچنا چاہیے

صرف قطاریں جانچنا: عام عددی مربع میں ستونوں اور دونوں مرکزی ترچھی سمتوں کا مجموعہ بھی برابر ہونا ضروری ہے۔

اعداد دہرانا: ایک سے نو تک کے عام تین در تین مربع میں ہر عدد صرف ایک مرتبہ آتا ہے۔

مجموعے اور مرکز کو ایک سمجھنا: لفظ کے ابجدی عدد کو درمیانی خانے میں رکھنا، اسے ہر قطار کا مجموعہ بنانا نہیں ہے۔

مختلف ابجدی قواعد کو ملانا: حرفی مربع کے لیے استعمال ہونے والا جدول پہلے متعین ہونا چاہیے۔

ہر نقش کو عام مربع سمجھنا: کچھ تاریخی نقش اپنے الگ قواعد رکھتے ہیں۔

بلا تحقیق نسبت قائم کرنا: ہر مشہور طریقہ لازماً احمد البونی یا کسی اور قدیم مصنف کی اصل تصنیف سے ثابت نہیں ہوتا۔

حساب کو تعبیر کا مکمل بدل سمجھنا: درست عددی ترتیب اور اس سے منسوب روایتی مقصد دو مختلف سوالات ہیں۔

علمِ اوفاق کے متعلق عام سوالات

وفق اور اوفاق میں کیا فرق ہے؟

وفق واحد ہے اور اوفاق اس کی جمع۔ ایک متوازن مربع کو وفق اور کئی ایسے مربعات کو اوفاق کہا جاسکتا ہے۔

ابتدائی طالبِ علم کون سا مربع سیکھے؟

ایک سے نو تک اعداد والا تین در تین کا مربع بہترین تعلیمی آغاز ہے۔ اس کے بعد چار در چار اور بڑے مربعات کی طرف بڑھنا آسان ہوتا ہے۔

تین در تین میں ہر سمت کا مجموعہ کیا ہوتا ہے؟

عام مربع میں، جب اعداد ۱ سے ۹ تک ہوں، تو ہر قطار، ستون اور دونوں بڑی ترچھی سمتوں کا مجموعہ ۱۵ ہوتا ہے۔

چار در چار میں مجموعہ کیا ہوتا ہے؟

اگر اعداد ۱ سے ۱۶ تک ہوں تو مطلوبہ مجموعہ ۳۴ ہے۔

کیا لفظ یا نام کے اعداد سے وفق بن سکتا ہے؟

بعض روایتی طریقوں میں ایسا کیا جاتا تھا، مگر پہلے یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ اسم کے عدد کو مجموعۂ ثابت بنانا ہے، مرکزی عدد یا کسی اور حساب کا حصہ۔

بدوح کیا ہے؟

بدوح تین در تین کے معروف روایتی مربع سے وابستہ نام ہے جس کے چار کونوں کے اعداد ۲، ۴، ۶، ۸ ہوتے ہیں۔ ان کے ابجدی حروف ب، د، و، ح ہیں۔

کیا حرفی مربع میں لکھے حروف مل کر لازماً لفظ بناتے ہیں؟

نہیں۔ وہ الگ الگ عددی قدروں کی نمائندگی بھی کرسکتے ہیں۔ معنی اخذ کرنے کے لیے اصل طریقہ جاننا ضروری ہے۔

کیا ہر تاریخی وفق تعویذ ہے؟

نہیں۔ کچھ مربعات حسابی یا تعلیمی نوعیت کے ہیں۔ بعض کو تاریخی روایات میں تعویذی یا روحانی مقاصد سے استعمال کیا گیا۔

کیا ہر مربع کے ساتھ کوئی مخصوص ساعت ضروری ہے؟

نہیں۔ بعض روایات میں ساعات کو شامل کیا گیا، لیکن یہ ہر عددی مربع کا بنیادی حسابی تقاضا نہیں۔

کیا ابجد جاننا ضروری ہے؟

عام عددی اوفاق سیکھنے کے لیے نہیں، مگر حرفی اوفاق اور اسماء کے عددی حساب کو سمجھنے میں ابجد کی واقفیت مفید ہے۔

حاصلِ کلام

علمِ اوفاق میں اعداد اور حروف کی ترتیب کا ایک منظم مطالعہ سامنے آتا ہے۔ اس کی ایک جہت میں درست عددی مربع بنانے، ہر سمت کے مجموعے جانچنے اور مختلف سائز کے خانوں پر کام کرنے کے اصول ہیں۔ دوسری جہت میں وہ روایتی روحانی مفاہیم اور مقاصد ہیں جنہیں بعض تاریخی اہلِ فن نے ان ترتیبوں سے وابستہ سمجھا۔

اس علم کو سمجھنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ پہلے حساب کو درست کیا جائے، پھر متعلقہ ماخذ کے مطابق تعبیر کو سمجھا جائے۔ اس طرح قاری بے بنیاد نسبتوں سے بچتے ہوئے قدیم طریقوں، ان کے مقاصد اور ان کے حقیقی حسابی ڈھانچے سے واقف ہوسکتا ہے۔

ماخذ اور مزید مطالعہ

۱۔ ژاں شارل کولوں (۲۰۲۶ء): Magic Squares, Mathematical Tricks and Angels in Islamicate Occult Sciences: Perspectives from the Būnian Corpus۔ احمد البونی سے منسوب متون اور اوفاق کی تشکیل کے طریقوں پر تازہ تاریخی تحقیق۔ تحقیقی مضمون

۲۔ امریکا کی نیشنل لائبریری آف میڈیسن: Islamic Medical Manuscripts: Astrology, Divination and Magic۔ بدوح، قدیم تین در تین کے مربع اور تاریخی استعمالات کا تعارف۔ اصل حوالہ

۳۔ ژاک سیزیانو (۲۰۱۷ء): Magic Squares in the Tenth Century: Two Arabic Treatises by Antaki and Buzjani۔ ابتدائی عربی عددی مربعات پر تحقیقی کتاب۔

۴۔ پرنسٹن یونیورسٹی لائبریری: کتاب النور الساطع والسر القاطع فی علم الاوفاق۔ انیسویں صدی کا عربی مخطوطہ؛ تین سے دس خانوں فی ضلع والے مربعات اور حروف کے خواص پر مشتمل۔ مخطوطے کا ریکارڈ

ادارتی وضاحت: یہاں اوفاق کے حسابی قواعد اور تاریخی روحانی استعمالات الگ الگ بیان کیے گئے ہیں۔ کسی طریقے کی درست عددی تشکیل اور اس سے منسوب خاص روحانی اثر ایک ہی نوعیت کا دعویٰ نہیں؛ قاری کو ہر تعبیر اس کے ماخذ اور روایت کے ساتھ سمجھنی چاہیے۔