فرض کریں آپ کسی شخص کا نام لکھتے ہیں:

محمد

ایک کتاب میں اس نام کے اعداد 92 لکھے ہوئے ہیں، جبکہ کسی دوسری جگہ اسی نام کا عدد 2 بتایا جا رہا ہے۔

آپ سوچیں گے کہ ایک ہی نام کے دو مختلف اعداد کیسے ہو سکتے ہیں؟

اس کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ پہلے حساب میں ابجدِ کبیر استعمال ہوا ہو، جبکہ دوسرے میں اعداد کو مختصر کرنے کا ایک ایسا طریقہ اپنایا گیا ہو جسے بعض روایتوں میں ابجدِ صغیر کہا جاتا ہے۔

لیکن یہاں ایک اہم بات جاننا ضروری ہے۔

ابجدِ کبیر کے معروف حروف اور اعداد بڑی حد تک متعین ہیں، جبکہ ابجدِ صغیر کے نام سے مختلف کتابوں اور روایات میں مختلف حسابی اصول ملتے ہیں۔

اس مضمون میں ہم دونوں کو آسان الفاظ میں سمجھیں گے۔ یہ بھی جانیں گے کہ انہیں کیوں استعمال کیا جاتا ہے، ان سے کیا کام لیے جا سکتے ہیں، ان کے فوائد کیا ہیں اور خود حساب کیسے نکالا جاتا ہے۔

ہم محمد، علی، نور اور علم جیسے عام الفاظ کی عملی مثالیں بھی حل کریں گے۔

1۔ علمِ ابجد کیا ہے؟

علمِ ابجد ایک قدیم طریقہ ہے جس میں عربی حروف کو مخصوص عددی قدریں دی جاتی ہیں۔

مثلاً:

  • الف کا عدد 1 ہے۔
  • بے کا عدد 2 ہے۔
  • جیم کا عدد 3 ہے۔
  • دال کا عدد 4 ہے۔

کسی لفظ کے تمام حروف کی قدریں جمع کرکے اس لفظ کا مجموعی عدد معلوم کیا جاتا ہے۔

اس طریقے کا تعلق حسابِ جمل سے بھی ہے۔

ابجد کی پرانی ترتیب یوں ہے:

ابجد ہوز حطی کلمن سعفص قرشت ثخذ ضظغ

یہ ترتیب حروفِ تہجی کی عام جدید ترتیب سے مختلف ہے۔

علمِ ابجد کا استعمال تاریخی طور پر اعداد ظاہر کرنے، علمی تحریروں اور شاعری میں تاریخیں لکھنے کے لیے بھی ہوتا رہا ہے۔

بعد کی بعض روایتی روحانی اور رمزی تحریروں میں بھی حروف کے ان اعداد کو استعمال کیا گیا۔

اگر آپ علمِ ابجد کو بالکل ابتدا سے سیکھنا چاہتے ہیں تو پہلے ہمارا یہ مضمون پڑھ سکتے ہیں:

علمِ ابجد کیا ہے؟ حروف کے اعداد معلوم کرنے کا آسان طریقہ

2۔ ابجدِ کبیر کیا ہے؟

ابجدِ کبیر حروف کے اعداد نکالنے کا ایک معروف طریقہ ہے۔

اس میں عربی کے 28 بنیادی حروف کی قدریں 1 سے لے کر 1000 تک ہوتی ہیں۔

مثلاً:

  • ا = 1
  • ب = 2
  • ی = 10
  • ل = 30
  • م = 40
  • ر = 200
  • غ = 1000

اس نظام کی خاص بات یہ ہے کہ ہر حرف کی اپنی مقرر عددی قدر ہوتی ہے۔

کسی لفظ کا عدد نکالتے وقت ان قدروں کو مکمل صورت میں جمع کیا جاتا ہے۔

اسے کبیر کیوں کہتے ہیں؟

عربی لفظ کبیر کا مطلب بڑا ہے۔

اس طریقے میں بعض حروف کی قدریں سینکڑوں یا ایک ہزار تک پہنچتی ہیں، اس لیے اسے بڑے اعداد والا ابجدی حساب سمجھنا آسان ہے۔

مثلاً حرف ر کی قدر 200 اور حرف غ کی قدر 1000 ہے۔

ان قدروں کو مختصر کرنے کے بجائے مکمل استعمال کیا جاتا ہے۔

3۔ ابجدِ کبیر کے تمام 28 حروف

مشرقی ابجدِ کبیر کی معروف جدول درج ذیل ہے۔

ایک سے نو تک

حرفعدد
ا1
ب2
ج3
د4
ہ5
و6
ز7
ح8
ط9

دس سے نوے تک

حرفعدد
ی10
ک20
ل30
م40
ن50
س60
ع70
ف80
ص90

ایک سو سے ایک ہزار تک

حرفعدد
ق100
ر200
ش300
ت400
ث500
خ600
ذ700
ض800
ظ900
غ1000

یہاں اردو رسم الخط کی متعلقہ شکلیں استعمال ہوئی ہیں۔ اصل عربی جدول میں ہ، ی اور ک کی تحریری شکلیں مختلف ہو سکتی ہیں۔

یہ جدول مشرقی ابجد کے مطابق ہے۔ مغربی اسلامی دنیا میں رائج تاریخی ابجدی ترتیب میں بعض حروف کی عددی قدریں مختلف بھی رہی ہیں۔

4۔ ابجدِ کبیر سے کسی نام کا حساب کیسے نکالتے ہیں؟

اس کا طریقہ بہت آسان ہے۔

  1. نام صحیح املا کے ساتھ لکھیں۔
  2. ہر حرف الگ کریں۔
  3. جدول سے ہر حرف کا عدد معلوم کریں۔
  4. تمام اعداد جمع کر دیں۔

پہلی مثال: محمد

لفظ ہے:

محمد

اس کے حروف اور اعداد یہ ہیں:

حرفعدد
م40
ح8
م40
د4

اب جمع کریں:

40 + 8 + 40 + 4 = 92

اس لیے ابجدِ کبیر کے مطابق محمد کا عدد 92 ہے۔

دوسری مثال: نور

لفظ:

نور

اس کے حروف ہیں:

  • ن = 50
  • و = 6
  • ر = 200

حساب:

50 + 6 + 200 = 256

یعنی نور کے اعداد 256 ہیں۔

تیسری مثال: علی

لفظ:

علی

  • ع = 70
  • ل = 30
  • ی = 10

حساب:

70 + 30 + 10 = 110

اس طرح علی کا عدد 110 ہے۔

یہ تمام نتائج مقررہ ابجدی جدول اور لکھی ہوئی املا کی بنیاد پر حاصل ہوئے ہیں۔

5۔ ابجدِ کبیر کہاں استعمال ہوتا رہا ہے؟

اب سوال یہ ہے کہ قدیم زمانے میں اس حساب کی ضرورت کیوں پیش آتی تھی؟

اس کے کئی استعمال تھے۔

پہلا استعمال: حروف کے ذریعے اعداد لکھنا

جدید عددی علامتوں کے وسیع استعمال سے پہلے حروف بھی عدد ظاہر کرنے کے لیے استعمال ہوتے تھے۔

ابجدِ کبیر کی مدد سے مخصوص حروف کسی عدد کی نمائندگی کر سکتے تھے۔

دوسرا استعمال: قدیم کتابوں اور علمی جدولوں میں

تاریخی طور پر بعض علمی کتابوں، مخطوطات اور فلکیاتی جدولوں میں ابجدی اعداد استعمال ہوتے رہے ہیں۔

ان تحریروں کو پڑھنے کے لیے ابجدی حروف کی قدریں جاننا مفید ہے۔

تیسرا استعمال: مادۂ تاریخ

قدیم فارسی اور اردو شاعری میں ایک دلچسپ طریقہ مادۂ تاریخ کہلاتا ہے۔

اس میں کوئی ایسا فقرہ یا مصرع بنایا جاتا تھا جس کے حروف کے اعداد جمع کرنے سے کسی واقعے کا سال نکل آئے۔

مثلاً کسی عمارت کی تعمیر، کسی کتاب کی تکمیل یا کسی شخصیت کی وفات کا سال ایک بامعنی عبارت میں ظاہر کیا جا سکتا تھا۔

یہ ایک ادبی اور حسابی مہارت تھی۔

چوتھا استعمال: ناموں اور الفاظ کے اعداد

ابجدِ کبیر کے ذریعے کسی نام یا لفظ کا مجموعی عدد نکالا جا سکتا ہے۔

یہ عددی حساب بعد کی بعض روایتی حرفی اور رمزی روایتوں میں بھی استعمال ہوا۔

پانچواں استعمال: دیگر روایتی حرفی طریقوں میں

علم الحروف، علمِ جفر اور بعض متعلقہ طریقوں کی تحریروں میں ابجدی اعداد کو ابتدائی حساب کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

البتہ محض کسی نام کے اعداد معلوم کرنا علمِ جفر کے تمام طریقوں کو سمجھ لینے کے برابر نہیں۔

6۔ ابجدِ صغیر کیا ہے؟

عربی میں صغیر کا مطلب چھوٹا ہے۔

ابجدِ صغیر کے نام سے ایسے طریقے ملتے ہیں جن میں حروف کی بڑی عددی قدروں کو کسی مقرر اصول کے مطابق چھوٹے اعداد میں ظاہر کیا جاتا ہے۔

لیکن اب ایک بہت اہم فرق سمجھیں۔

ابجدِ صغیر کے لیے تمام کتابوں میں ایک ہی متفقہ جدول استعمال نہیں ہوتا۔

بعض طریقوں میں نو کے حساب سے اعداد مختصر کیے جاتے ہیں۔

کچھ دوسرے طریقوں میں بارہ پر تقسیم کے باقی اعداد استعمال ہوتے ہیں۔

اور بعض مصادر میں 28 حروف کی ابجدی ترتیب کے مقامات کو بھی ایک الگ چھوٹے جدول کی بنیاد بنایا جاتا ہے۔

اس لیے اگر کوئی شخص صرف یہ کہے کہ کسی نام کا ابجدِ صغیر عدد 2 یا 20 یا 38 ہے تو پہلے پوچھنا چاہیے کہ حساب کس طریقے سے کیا گیا ہے۔

اس مضمون میں ہم ابتدا میں نو کے حساب سے عدد مختصر کرنے والا طریقہ سیکھیں گے۔

پھر دوسرے طریقوں کی مثالیں بھی دیکھیں گے۔

7۔ ابجدِ صغیر کا آسان طریقہ: نو کے حساب سے تخفیف

یہ ایک مختصر عددی طریقہ ہے جسے بعض جدید ابجدی اور عددی روایتوں میں ابجدِ صغیر سے منسلک کیا جاتا ہے۔

اس میں پہلے لفظ کا ابجدِ کبیر عدد نکالتے ہیں۔

پھر اس عدد کے ہندسے جمع کرتے ہیں، یہاں تک کہ ایک سے نو کے درمیان عدد حاصل ہو جائے۔

مثال: 92 کو مختصر کرنا

ہم جانتے ہیں:

محمد = 92

اب اس عدد کے ہندسے الگ دیکھیں۔

  • پہلا ہندسہ: 9
  • دوسرا ہندسہ: 2

انہیں جمع کریں:

9 + 2 = 11

اب 11 کے ہندسے جمع کریں:

1 + 1 = 2

نتیجہ:

92 → 11 → 2

اس مخصوص مختصر طریقے کے مطابق محمد کا حاصل شدہ عدد 2 ہے۔

یہاں 92 ابجدِ کبیر کا مکمل مجموعہ ہے، جبکہ 2 اس مجموعے کو مختصر کرنے سے حاصل ہوا ہے۔

یہ دونوں اعداد مختلف حسابی مراحل کی نمائندگی کرتے ہیں۔

8۔ دوسری مثال: نور کا مختصر عدد

اب لفظ نور لیتے ہیں۔

ہم اس کے ابجدِ کبیر اعداد پہلے نکال چکے ہیں:

نور = 256

اب ہندسوں کو جمع کریں:

2 + 5 + 6 = 13

اب 13 کے ہندسے جمع کریں:

1 + 3 = 4

نتیجہ:

256 → 13 → 4

اس طریقے کے مطابق نور کا مختصر عدد 4 ہوگا۔

ایک بات یاد رکھیں

اس طریقے میں ہم نے لفظ کے حروف تبدیل نہیں کیے۔

ہم نے پہلے ان کا مکمل ابجدی مجموعہ معلوم کیا، پھر اس مجموعے کو ایک چھوٹے عدد میں تبدیل کیا۔

یہ فرق بہت اہم ہے۔

9۔ تیسری مثال: علی کا عدد

لفظ:

علی

اس کا ابجدِ کبیر مجموعہ ہے:

70 + 30 + 10 = 110

اب 110 کے ہندسے جمع کریں:

1 + 1 + 0 = 2

نتیجہ:

110 → 2

اس طرح اس طریقے کے مطابق علی کا مختصر عدد بھی 2 نکلتا ہے۔

غور کیجیے:

  • محمد کا مکمل عدد 92 ہے۔
  • علی کا مکمل عدد 110 ہے۔

لیکن دونوں کا مختصر عدد 2 آ گیا۔

اس سے ایک اہم بات معلوم ہوتی ہے۔

مختصر عدد ایک سے زیادہ مختلف ناموں کے لیے ایک ہی ہو سکتا ہے۔

لہٰذا صرف چھوٹا عدد دیکھ کر یہ سمجھنا درست نہیں کہ دونوں نام یا ان سے متعلق افراد ایک جیسے ہیں۔

10۔ کیا ابجدِ صغیر کے لیے ہر حرف کو الگ مختصر بھی کیا جا سکتا ہے؟

جی ہاں۔ نو کے حساب سے تخفیف کو سمجھنے کا ایک دوسرا ریاضیاتی انداز بھی ہے۔

مثلاً محمد کے حروف دیکھیں:

  • م = 40
  • ح = 8
  • م = 40
  • د = 4

اب ہر عدد کو نو کے حساب سے مختصر کریں۔

40 کے ہندسے جمع کرنے سے 4 بنتا ہے۔

8 پہلے ہی ایک ہندسہ ہے۔

دوسرے میم کی قدر بھی 4 ہوگی۔

دال کی قدر بھی 4 ہے۔

اس طرح:

4 + 8 + 4 + 4 = 20

اب 20 کو مختصر کریں:

2 + 0 = 2

نتیجہ پھر 2 ہے۔

یعنی ہم پہلے تمام حروف کے مکمل اعداد جمع کرکے آخر میں مختصر کریں یا ہر عدد کو نو کے حساب سے مختصر کرکے مجموعے کو دوبارہ مختصر کریں، دونوں صورتوں میں آخری عدد ایک ہی آئے گا۔

یہ ریاضی کا ایک اصول ہے۔

اگر حساب میں 9 یا 18 آئے تو؟

ایک سے نو تک کا عدد مطلوب ہو تو:

  • 9 کا نتیجہ 9 ہوگا۔
  • 18 کا نتیجہ 9 ہوگا۔
  • 27 کا نتیجہ بھی 9 ہوگا۔

کیونکہ:

1 + 8 = 9

اور:

2 + 7 = 9

یہ وہ قاعدہ ہے جس میں صفر کے بجائے نو کو آخری عدد کے طور پر رکھا جاتا ہے۔

11۔ بعض دوسرے طریقوں میں بارہ کا حساب کیوں آتا ہے؟

اب ہم ابجدِ صغیر کے مختلف طریقوں کی طرف آتے ہیں۔

بعض روایتی جدولوں میں ابجدِ کبیر کی قدر کو بارہ پر تقسیم کرکے باقی عدد استعمال کیا جاتا ہے۔

اسے بعض مصادر میں ابجدِ صغیر سے منسلک کیا گیا ہے، جبکہ بعض دوسرے مصادر اس طرح کے مختصر حساب کو الگ نام، مثلاً ابجدِ وسیط، سے بھی بیان کرتے ہیں۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ صرف نام سے طریقہ متعین نہیں کیا جا سکتا۔

مثال: حرف م

ابجدِ کبیر میں:

م = 40

اگر 40 کو 12 پر تقسیم کریں:

40 = 12 × 3 + 4

باقی عدد 4 ہے۔

مثال: حرف ر

ابجدِ کبیر میں:

ر = 200

اب:

200 = 12 × 16 + 8

باقی عدد 8 ہے۔

لفظ محمد کا حساب

اسی بارہ والے طریقے میں:

حرفکبیر12 پر تقسیم کا باقی
م404
ح88
م404
د44

اب باقی اعداد جمع کریں:

4 + 8 + 4 + 4 = 20

اس جدول کے مطابق حروف کے مختصر اعداد کا مجموعہ 20 ہے۔

اگر اس مجموعے کو بھی 12 پر تقسیم کرکے آخری باقی عدد لیا جائے تو:

20 = 12 × 1 + 8

حاصل شدہ باقی عدد 8 ہوگا۔

اس لیے یہاں دو باتیں الگ رکھنی ضروری ہیں:

  • حروف کے مختصر اعداد کا مجموعہ: 20
  • اس مجموعے کا 12 پر باقی عدد: 8

جس کتاب میں جو مرحلہ مطلوب ہو، اسی کے مطابق نتیجہ لیا جائے گا۔

اور یہ نتیجہ نو والے طریقے سے حاصل ہونے والے عدد 2 سے مختلف ہے۔

12۔ کیا 28 حروف کی ترتیب سے بھی چھوٹے اعداد نکالے جاتے ہیں؟

کچھ جدید حرفی اور جفری طریقوں میں عربی کے 28 حروف کو ان کی ابجدی ترتیب کے مطابق ایک سے اٹھائیس تک نمبر دیے جاتے ہیں۔

اس میں ہر حرف کی بڑی قدر استعمال کرنے کے بجائے اس کا ترتیب وار مقام لیا جاتا ہے۔

مثلاً معروف ابجدی ترتیب میں:

  • ا پہلے مقام پر ہے۔
  • ب دوسرے مقام پر ہے۔
  • ح آٹھویں مقام پر ہے۔
  • م تیرہویں مقام پر ہے۔
  • ر بیسویں مقام پر ہے۔
  • غ اٹھائیسویں مقام پر ہے۔

مثال: محمد

اس ترتیب کے مطابق:

  • م = 13
  • ح = 8
  • م = 13
  • د = 4

اب جمع کریں:

13 + 8 + 13 + 4 = 38

اس طرح ترتیب وار مقامات کے حساب سے محمد کا مجموعہ 38 ہوگا۔

غور کیجیے کہ اب ایک ہی نام کے لیے تین الگ نتائج سامنے آئے:

  • ابجدِ کبیر کا مکمل عدد: 92
  • نو والے مختصر طریقے کا آخری عدد: 2
  • اٹھائیس مقامات والے طریقے کا مجموعہ: 38

بارہ کے باقی اعداد والا طریقہ اس سے الگ ہے۔

اس کا مطلب حساب کی خرابی نہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہر نظام کا قاعدہ مختلف ہے۔

اسی لیے کسی بھی حساب کے ساتھ اس کا طریقہ لکھنا ضروری ہے۔

13۔ ابجدِ کبیر اور صغیر میں اصل فرق کیا ہے؟

اب تک کی وضاحت کو ایک جگہ سمجھتے ہیں۔

پہلوابجدِ کبیرابجدِ صغیر کے طریقے
بنیادی تصورحروف کی مکمل عددی قدریںچھوٹی یا تبدیل شدہ قدریں
اعداد کی حد1 سے 1000 تکمنتخب قاعدے کے مطابق
معروف طریقہمکمل قدروں کو جمع کرنانو، بارہ یا دوسرے قواعد
جدول کی یکسانیتمشرقی معروف جدول مستحکم ہےمختلف روایتوں میں فرق ہے
نتیجہلفظ کا مکمل مجموعہمختصر عدد یا متبادل مجموعہ
بنیادی احتیاطاملا اور جدول واضح ہومختصر کرنے کا قاعدہ بھی واضح ہو

یہاں ایک بات یاد رکھنی چاہیے کہ چھوٹا عدد لازماً زیادہ درست یا زیادہ طاقتور عدد نہیں ہوتا۔

وہ صرف ایک مختلف عددی نمائندگی ہے۔

14۔ ابجدِ کبیر کا استعمال کب کرنا چاہیے؟

اگر آپ کا مقصد کسی لفظ یا نام کا مکمل معروف مشرقی ابجدی عدد نکالنا ہو تو ابجدِ کبیر مناسب نقطۂ آغاز ہے۔

مثلاً:

کسی نام کا مکمل عدد

محمد = 92

کسی لفظ کا مکمل عدد

نور = 256

کسی تاریخی شعر کا مادۂ تاریخ

اس کے لیے اصل تاریخی ماخذ میں استعمال ہونے والی ابجدی جدول کے مطابق حساب کرنا ہوگا۔

کسی پرانے حساب کی جانچ

اگر کتاب میں کسی لفظ کے اعداد لکھے ہوں تو آپ حروف کو الگ کرکے مجموعہ دوبارہ نکال سکتے ہیں۔

ابجدِ کبیر کا واضح فائدہ یہی ہے کہ اس کے مقررہ حروف کی قدروں کے مطابق حساب کو جانچا جا سکتا ہے۔

15۔ ابجدِ صغیر کا استعمال کب کیا جاتا ہے؟

ابجدِ صغیر کے مختلف طریقوں کو بعض بعد کی عددی اور رمزی روایتوں میں استعمال کیا گیا ہے۔

ان کے مقاصد میں شامل ہو سکتے ہیں:

  • کسی بڑے عدد کو مختصر کرنا۔
  • ناموں یا الفاظ کے چھوٹے عددی نتائج حاصل کرنا۔
  • مخصوص روایتی جدولوں میں اعداد استعمال کرنا۔
  • علم الحروف کے بعض طریقوں میں مزید حساب کرنا۔
  • مختلف حسابی نظاموں کے نتائج کا موازنہ کرنا۔

لیکن ان استعمالات کے لیے ایک اہم شرط ہے۔

پہلے یہ معلوم ہونا چاہیے کہ متعلقہ کتاب یا استاد ابجدِ صغیر سے کون سا طریقہ مراد لے رہا ہے۔

مثلاً اگر کسی کتاب میں بارہ والے اعداد درکار ہوں تو نو والے طریقے کا نتیجہ اس کی جگہ رکھنا درست نہیں ہوگا۔

اسی طرح اگر کسی جدول میں حروف کے ایک سے اٹھائیس تک مقامات مطلوب ہوں تو ابجدِ کبیر کا مجموعہ خودبخود اس کا متبادل نہیں بن جاتا۔

16۔ ابجدِ کبیر اور صغیر سیکھنے کے فائدے

ان دونوں طریقوں کی سمجھ سے چند واضح فائدے حاصل ہو سکتے ہیں۔

پہلا فائدہ: حسابی اصطلاحات سمجھنا

آپ جان سکتے ہیں کہ کسی کتاب میں کبیر، صغیر یا وسیط جیسے الفاظ کس معنی میں استعمال ہوئے ہیں۔

دوسرا فائدہ: مختلف نتائج کی وجہ سمجھنا

اگر دو ابجدی کیلکولیٹر ایک نام کے مختلف اعداد دکھائیں تو آپ ان کے حساب کا طریقہ معلوم کرکے فرق سمجھ سکتے ہیں۔

تیسرا فائدہ: حساب کی غلطی پکڑنا

آپ دیکھ سکتے ہیں کہ کسی لفظ کا مکمل مجموعہ درست ہے یا نہیں، اور عدد مختصر کرنے کا قاعدہ صحیح استعمال ہوا ہے یا نہیں۔

چوتھا فائدہ: قدیم اور جدید روایتوں کا موازنہ

آپ مختلف کتابوں میں استعمال ہونے والی جدولوں کو سمجھ سکتے ہیں۔

پانچواں فائدہ: علم الحروف کی مزید تعلیم

ابجدی حساب کی اچھی سمجھ بعض تاریخی حرفی، جفری اور متعلقہ مباحث کو پڑھنے میں مدد دے سکتی ہے۔

البتہ یہ سب تعلیمی اور حسابی فوائد ہیں۔

ان سے کسی غیبی طاقت یا مستقبل کی یقینی پیش گوئی کا ثبوت نہیں ملتا۔

17۔ کیا ابجدِ صغیر سے قسمت یا شخصیت معلوم ہو سکتی ہے؟

بعض روایتی عددی طریقوں میں ناموں کے مختصر اعداد کے ساتھ مخصوص مزاج، سیارے، عناصر یا شخصی خصوصیات منسوب کی جاتی ہیں۔

لیکن یہ نسبتیں ان روایتوں کے تعبیراتی قواعد ہیں۔

موجودہ سائنسی شواہد سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ کسی شخص کے نام کا مختصر عدد اس کی شخصیت، شادی، دولت، صحت یا مستقبل کے واقعات کی قابلِ اعتماد پیش گوئی کر سکتا ہے۔

مثلاً ہم نے دیکھا:

محمد → 92 → 2

اور:

علی → 110 → 2

دونوں ناموں سے ایک ہی مختصر عدد حاصل ہوا۔

لیکن اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ان ناموں والے افراد کا مزاج یا مستقبل بھی ایک جیسا ہوگا۔

یاد رکھیے: حساب کا درست ہونا اور اس سے اخذ کی گئی شخصی تعبیر کا درست ہونا دو الگ باتیں ہیں۔

18۔ ایک ہی نام کے مختلف اعداد کیوں آ سکتے ہیں؟

اس کی چند اہم وجوہات ہیں۔

نام کی املا میں فرق

اگر نام کا ایک حرف بھی بدل جائے تو مجموعہ تبدیل ہو سکتا ہے۔

ابجدِ مشرقی اور مغربی کا فرق

تاریخی طور پر دونوں جدولوں میں چند حروف کی قدریں مختلف رہی ہیں۔

صغیر کے مختلف قواعد

نو، بارہ یا ترتیب وار مقامات کے حساب سے الگ نتائج نکل سکتے ہیں۔

اردو اور فارسی کے اضافی حروف

پ، چ، ژ، گ، ٹ اور ڈ جیسے حروف اصل عربی 28 حرفی جدول میں شامل نہیں تھے۔

بعد کی مختلف روایتوں میں انہیں شمار کرنے کے قواعد یکساں نہیں رہے۔

ہمزہ اور دوسری تحریری شکلیں

الف، ہمزہ، ہائے مختلف شکلیں، ی اور بعض دوسری علامات کے بارے میں حسابی اصول مختلف ہو سکتے ہیں۔

آخری مختصر عدد یا درمیانی مجموعہ

ایک کیلکولیٹر مختصر حروف کا مجموعہ دکھا سکتا ہے، جبکہ دوسرا اسی مجموعے کو مزید مختصر کرکے صرف آخری عدد دکھائے۔

اس لیے صرف نتائج دیکھ کر فیصلہ نہ کریں۔

پہلے دونوں کے اصل قواعد دیکھیں۔

19۔ اب خود چار مشقیں حل کریں

اب ہم مکمل عدد کے ساتھ نو والے مختصر طریقے کی مشق کرتے ہیں۔

مشق نمبر 1: علم

لفظ:

علم

ابجدِ کبیر:

70 + 30 + 40 = 140

اب مختصر کریں:

1 + 4 + 0 = 5

نتیجہ:

  • کبیر: 140
  • نو والے طریقے کا آخری مختصر عدد: 5

مشق نمبر 2: قلم

لفظ:

قلم

ابجدِ کبیر:

100 + 30 + 40 = 170

اب:

1 + 7 + 0 = 8

نتیجہ:

  • کبیر: 170
  • مختصر عدد: 8

مشق نمبر 3: نور

لفظ:

نور

کبیر:

50 + 6 + 200 = 256

اب:

2 + 5 + 6 = 13

پھر:

1 + 3 = 4

نتیجہ:

  • کبیر: 256
  • مختصر عدد: 4

مشق نمبر 4: محمد

لفظ:

محمد

کبیر:

40 + 8 + 40 + 4 = 92

اب:

9 + 2 = 11

پھر:

1 + 1 = 2

نتیجہ:

  • کبیر: 92
  • مختصر عدد: 2

اگر آپ نے یہ مشقیں سمجھ لی ہیں تو اب آپ مکمل عدد نکالنے اور نو کے حساب سے اسے مختصر کرنے کا بنیادی فرق سمجھ گئے ہیں۔

20۔ علمِ ابجد، علمِ جفر اور علمِ تکسیر سے ان کا کیا تعلق ہے؟

یہ موضوع ہمارے دوسرے تعلیمی مضامین سے بھی جڑا ہوا ہے۔

علمِ ابجد ہمیں حروف کی عددی قدریں سکھاتا ہے۔

علمِ تکسیر کی بعض روایتوں میں حروف کو الگ کرنے، ان کی ترتیب بدلنے یا ان پر دوسرے مقرر اعمال کرنے کے طریقے ملتے ہیں۔

علمِ جفر کی بعض تاریخی صورتوں میں حروف اور اعداد کی مدد سے رمزی تعبیرات اخذ کرنے کی کوششیں ملتی ہیں۔

کچھ روایتی طریقوں میں ابجدِ کبیر یا مختلف چھوٹے حسابی نظام ابتدائی مرحلے کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔

لیکن ہر جفری یا تکسیری طریقہ ایک جیسا نہیں ہوتا۔

ان تینوں علوم کا تفصیلی فرق جاننے کے لیے ہمارا مضمون پڑھیں:

علمِ ابجد، علمِ جفر اور علمِ تکسیر میں کیا فرق ہے؟

21۔ اکثر پوچھے جانے والے سوالات

سوال: ابجدِ کبیر اور صغیر میں سب سے بڑا فرق کیا ہے؟

ابجدِ کبیر میں حروف کی معروف مکمل عددی قدریں استعمال ہوتی ہیں، جبکہ صغیر کے مختلف طریقوں میں مختصر یا متبادل عددی قدریں حاصل کی جاتی ہیں۔

سوال: کیا ابجدِ صغیر کا ایک ہی مستند جدول ہے؟

مختلف روایتی مصادر میں اس نام سے مختلف طریقے ملتے ہیں۔ اس لیے متعلقہ کتاب یا طریقے کی وضاحت ضروری ہے۔

سوال: محمد کے ابجدِ کبیر اعداد کتنے ہیں؟

مشرقی ابجدِ کبیر کے مطابق محمد کے اعداد 92 ہیں۔

سوال: محمد کا مختصر عدد کیا بنتا ہے؟

نو کے حساب سے آخری مختصر عدد 2 ہے۔ دوسرے طریقوں میں نتیجہ مختلف ہو سکتا ہے۔

سوال: نور کے ابجدِ کبیر اعداد کتنے ہیں؟

لفظ نور کے اعداد 256 ہیں۔

سوال: نو والے طریقے سے نور کا مختصر عدد کیا ہے؟

256 کے ہندسے جمع کرکے 13 اور پھر 4 حاصل ہوتا ہے۔

سوال: کیا ابجدِ صغیر ہمیشہ نو کے حساب سے ہوتا ہے؟

نہیں۔ بعض کتابوں اور روایتوں میں دوسرے قواعد بھی استعمال ہوتے ہیں۔

سوال: کیا ابجدِ صغیر، ابجدِ کبیر سے زیادہ درست ہے؟

یہ کہنا مناسب نہیں۔ دونوں کے مقصد اور قواعد مختلف ہو سکتے ہیں۔ کسی حساب کی درستگی اسی کے مقررہ اصول کے مطابق جانچی جاتی ہے۔

سوال: کیا نام کے مختصر عدد سے شادی یا دولت کا فیصلہ ہو سکتا ہے؟

ایسے شخصی نتائج کی قابلِ اعتماد سائنسی حیثیت ثابت نہیں ہے۔

سوال: پہلے کون سا طریقہ سیکھنا چاہیے؟

ابتدا میں ابجدِ کبیر کا معروف جدول اور عام جمع کا حساب سمجھنا مفید ہے۔ اس کے بعد دوسرے مختصر طریقے سیکھے جا سکتے ہیں۔

خلاصہ

ابجدِ کبیر اور ابجدِ صغیر دونوں حروف اور اعداد کے حساب سے متعلق اصطلاحات ہیں۔

ابجدِ کبیر میں عربی حروف کی مکمل معروف عددی قدریں استعمال ہوتی ہیں۔

ابجدِ صغیر کے نام سے مختلف روایات میں ایسے طریقے ملتے ہیں جن میں اعداد کو مختصر یا کسی دوسرے مقرر قاعدے کے مطابق ظاہر کیا جاتا ہے۔

ہم نے محمد، نور، علی، علم اور قلم کی مثالوں سے دیکھا کہ مکمل ابجدی عدد کیسے نکالا جاتا ہے اور نو کے حساب سے اسے کیسے مختصر کیا جا سکتا ہے۔

ہم نے یہ بھی سمجھا کہ بارہ کے باقی اعداد یا حروف کی ترتیب وار پوزیشن استعمال کرنے والے طریقے الگ نتائج دے سکتے ہیں۔

اس لیے سب سے ضروری اصول یہ ہے:

کسی بھی ابجدی حساب کے ساتھ اس کا اصل طریقہ، جدول اور نام کی درست املا واضح ہونی چاہیے۔

علمِ ابجد کے تاریخی اور حسابی پہلوؤں کو سمجھنا مفید ہے، مگر اس سے منسوب ہر شخصی یا غیبی تعبیر کو ثابت شدہ حقیقت نہیں سمجھنا چاہیے۔

RohaniGuide پر ہماری کوشش ہے کہ روایتی علوم کو آسان اردو، درست حساب، عملی مثالوں اور تاریخی حوالوں کے ساتھ پیش کیا جائے، تاکہ قاری خود بنیادی طریقے سمجھ سکے اور مختلف روایتوں کے درمیان فرق پہچان سکے۔

حوالہ جات اور مزید مطالعہ

اہم وضاحت: ابجدِ کبیر کے 28 حروف کا مشرقی جدول ایک معروف تاریخی نظام ہے۔ ابجدِ صغیر کے لیے یہاں بیان کردہ نو، بارہ اور ترتیب وار مقامات کے طریقے مختلف عملی روایتوں کی مثالیں ہیں؛ انہیں ایک ہی متفقہ تاریخی جدول نہیں سمجھنا چاہیے۔