فرض کریں آپ کے سامنے لفظ کتاب لکھا ہوا ہے۔
اب آپ اس لفظ کے حروف الگ الگ کر لیتے ہیں:
ک — ت — ا — ب
اس کے بعد آپ ان حروف کی جگہیں ایک خاص اصول کے مطابق بدلتے ہیں۔
حروف وہی رہتے ہیں، لیکن ان کی ترتیب بدل جاتی ہے۔
یہ چھوٹی سی مثال ہمیں علمِ تکسیر کے ایک بنیادی تصور کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔
علمِ تکسیر کا تعلق حروف پر کیے جانے والے بعض روایتی حسابی اور ترتیبی طریقوں سے ہے۔ مختلف کتابوں اور مکاتبِ فکر میں اس کے الگ الگ طریقے بیان ہوئے ہیں۔
لیکن اگر کوئی شخص پہلی مرتبہ اس علم کا نام سن رہا ہو تو اسے کہاں سے شروع کرنا چاہیے؟
اس مضمون میں ہم سادہ الفاظ میں جانیں گے کہ علمِ تکسیر کیا ہے، بسط کسے کہتے ہیں، حروف کی ترتیب کیسے بدلی جاتی ہے اور سطرِ زمام کیا ہوتی ہے۔
ساتھ ہی عملی مثالیں بھی حل کریں گے، تاکہ آپ قلم اور کاغذ کی مدد سے بنیادی طریقہ خود سمجھ سکیں۔
1۔ علمِ تکسیر کیا ہے؟
علمِ تکسیر حروف سے متعلق روایتی علوم کے بعض طریقوں کا نام ہے، جن میں حروف کو الگ کرنے، مخصوص ترتیب میں رکھنے یا مختلف اصولوں کے مطابق ان پر کام کرنے کا ذکر ملتا ہے۔
عربی زبان میں تکسیر کا تعلق توڑنے یا تقسیم کرنے کے مفہوم سے ہے۔
علم الحروف کی مختلف روایتوں میں یہ اصطلاح بعض اوقات حروف کی تقسیم، درجہ بندی یا نئی ترتیب بنانے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
ایک معروف قسم کی مشق میں لفظ کے حروف کو الگ کرکے مخصوص ترتیب سے نئی سطریں بنائی جاتی ہیں۔
مثلاً:
- پہلے کوئی لفظ لکھا جاتا ہے۔
- اس کے حروف الگ کیے جاتے ہیں۔
- ایک مقرر اصول سے نئی ترتیب بنائی جاتی ہے۔
- اسی اصول کو دوبارہ استعمال کیا جاتا ہے۔
- حاصل ہونے والی سطریں لکھی جاتی ہیں۔
یہ بات ضرور یاد رکھیں کہ علمِ تکسیر کی ہر کتاب میں ایک ہی طریقہ نہیں ملتا۔
اس لیے کسی ایک مثال کو پورے علم کا واحد یا حتمی قانون سمجھنا درست نہیں۔
2۔ علمِ تکسیر کا تاریخی پس منظر
حروف کی عددی اور رمزی اہمیت سے متعلق گفتگو اسلامی تاریخ کی مختلف علمی اور روحانی روایتوں میں ملتی ہے۔
مشہور مؤرخ ابنِ خلدون نے اپنی کتاب مقدمہ میں علم الحروف اور اس سے متعلق بعض طریقوں کا ذکر کیا ہے۔
انہوں نے ان روایتوں میں حروف کے اعداد، ان کی علامتی تقسیم اور تکسیر جیسے تصورات پر بھی گفتگو کی۔
اسی طرح احمد البونی سے منسوب مخطوطات اور ان کے اثرات پر جدید محققین نے کام کیا ہے۔
تحقیق سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ حروف سے متعلق روایتی طریقے ایک طویل تاریخی عمل سے گزرے ہیں اور مختلف کتابوں میں ان کی صورتیں بدلتی رہی ہیں۔
اس لیے کسی موجودہ کتاب میں درج طریقے کو بغیر تحقیق کے لازماً قدیم ترین یا تمام اساتذہ کا متفقہ طریقہ کہنا مناسب نہیں۔
یہ تاریخی معلومات ان علوم کی روایت کو سمجھاتی ہیں۔ اس سے کسی روحانی اثر یا غیبی دعوے کی سائنسی تصدیق نہیں ہوتی۔
3۔ بسط کیا ہوتی ہے؟
علمِ تکسیر کے بعض طریقوں میں ابتدا بسط سے ہوتی ہے۔
بسط کی ایک بنیادی صورت یہ ہے کہ کسی لفظ کے جڑے ہوئے حروف کو الگ الگ لکھ دیا جائے۔
آئیے مثال سے سمجھتے ہیں۔
مثال: نور
لفظ ہے:
نور
اب اس کے حروف الگ کریں:
ن — و — ر
یعنی:
- پہلا حرف نون
- دوسرا حرف واؤ
- تیسرا حرف رے
اب ہمارے سامنے لفظ کے تینوں حروف الگ الگ موجود ہیں۔
اس طرح ہمیں واضح طور پر معلوم ہو گیا کہ اس لفظ میں کتنے حروف ہیں اور ان کی اصل ترتیب کیا ہے۔
دوسری مثال: قلم
لفظ:
قلم
اس کے حروف:
ق — ل — م
یہاں بھی تین حروف ہیں۔
اس سادہ مشق میں حروف کو الگ لکھنا بسط کا ابتدائی تصور سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔
البتہ بعض روایتی کتابوں میں بسط کی دوسری قسمیں بھی بیان ہوئی ہیں، مثلاً حروف کے نام یا اعداد سے متعلق طریقے۔ انہیں اس بنیادی مثال کے برابر نہیں سمجھنا چاہیے۔
4۔ تکسیر میں حروف کی ترتیب کیسے بدلتے ہیں؟
اب اصل موضوع کی طرف آتے ہیں۔
بعض روایتی تدریسی طریقوں میں حروف کو دونوں سروں سے باری باری اٹھا کر نئی سطر بنائی جاتی ہے۔
ایک دستاویزی مثال کے مطابق اصول یہ ہے:
- سب سے آخر والا حرف لیجیے۔
- پھر سب سے پہلا حرف لیجیے۔
- پھر آخر سے دوسرا حرف لیجیے۔
- پھر شروع سے دوسرا حرف لیجیے۔
- اسی طرح درمیان کی طرف بڑھتے جائیں۔
جب تمام حروف استعمال ہو جائیں تو ایک نئی سطر مکمل ہو جاتی ہے۔
پھر یہی اصول نئی سطر پر دہرایا جا سکتا ہے۔
توجہ: یہ تکسیر کی ایک بیان شدہ تدریسی صورت ہے۔ مختلف روایات میں حروف اٹھانے کی ترتیب اور دوسرے قواعد مختلف ہو سکتے ہیں۔
اب ہم اسے ایک مکمل مثال سے سمجھتے ہیں۔
5۔ عملی مثال: لفظ کتاب کی تکسیر
ہمارا لفظ ہے:
کتاب
اس میں چار حروف ہیں:
ک — ت — ا — ب
ہم یہی چار حروف استعمال کریں گے۔
پہلا مرحلہ: اصل سطر لکھیں
سب سے پہلے لفظ کے حروف ان کی اصل ترتیب میں لکھیں:
پہلی سطر: ک — ت — ا — ب
یہ ہماری ابتدائی سطر ہے۔
دوسرا مرحلہ: حروف دونوں سروں سے اٹھائیں
اب طے شدہ اصول استعمال کرتے ہیں۔
پہلے آخری حرف اٹھائیں:
ب
پھر پہلا حرف اٹھائیں:
ک
اس کے بعد آخر سے دوسرا حرف:
ا
پھر شروع سے دوسرا حرف:
ت
اس طرح نئی ترتیب بنی:
دوسری سطر: ب — ک — ا — ت
غور کیجیے کہ اصل لفظ کے چاروں حروف موجود ہیں۔
نہ کوئی نیا حرف شامل ہوا ہے اور نہ کوئی حرف غائب ہوا ہے۔
صرف ترتیب بدلی ہے۔
تیسرا مرحلہ: نئی سطر پر دوبارہ یہی اصول لگائیں
اب ہمارے سامنے دوسری سطر ہے:
ب — ک — ا — ت
اسی ترتیب سے حروف اٹھائیں:
- آخری حرف: ت
- پہلا حرف: ب
- آخر سے دوسرا حرف: ا
- شروع سے دوسرا حرف: ک
نئی سطر بنے گی:
تیسری سطر: ت — ب — ا — ک
چوتھا مرحلہ: ایک بار پھر ترتیب بدلیں
اب تیسری سطر ہے:
ت — ب — ا — ک
اس پر دوبارہ یہی اصول استعمال کریں۔
نتیجہ ہوگا:
چوتھی سطر: ک — ت — ا — ب
یہ تو بالکل ہماری پہلی سطر جیسی بن گئی!
مکمل حساب ایک جگہ
| سطر | حروف کی ترتیب |
|---|---|
| پہلی، اصل | ک — ت — ا — ب |
| دوسری | ب — ک — ا — ت |
| تیسری | ت — ب — ا — ک |
| چوتھی، واپسی | ک — ت — ا — ب |
اس مثال میں چاروں حروف نے مختلف جگہیں اختیار کیں اور پھر اصل ترتیب واپس آ گئی۔
اسی قسم کی سطری ترتیب کو سمجھنا علمِ تکسیر کی بعض روایتوں کے مطالعے میں مدد دیتا ہے۔
یہاں ضروری نہیں کہ درمیان میں بننے والی ترتیب کوئی بامعنی اردو یا عربی لفظ ہو۔
6۔ سطرِ زمام کیا ہوتی ہے؟
علمِ تکسیر کی بعض کتابوں میں سطرِ زمام کی اصطلاح آتی ہے۔
سادہ الفاظ میں، بعض سطری طریقوں کے مطابق جب حروف کی ترتیب بدلتے بدلتے وہی اصل ترتیب دوبارہ سامنے آ جائے تو واپس آنے والی اس سطر کو سطرِ زمام کہا جاتا ہے۔
ہماری پچھلی مثال دیکھیے۔
اصل سطر تھی:
ک — ت — ا — ب
پھر دوسری اور تیسری سطر بنی۔
آخر میں چوتھی سطر دوبارہ یہی بن گئی:
ک — ت — ا — ب
اس لیے ہماری استعمال کردہ مثال میں چوتھی سطر کو واپسی کی سطر، یعنی سطرِ زمام، سمجھا جا سکتا ہے۔
بعض روایتی طریقوں میں سطرِ زمام سے پہلے والی سطر کو بھی اہم سمجھا جاتا ہے۔
البتہ سطروں کی تعداد اور ان کی اصطلاحات متعلقہ کتاب کے اصولوں کے مطابق سمجھی جانی چاہییں۔
کیا ہر لفظ میں چار ہی سطریں بنتی ہیں؟
نہیں۔
سطروں کی تعداد کا تعلق حروف کی تعداد اور استعمال ہونے والے طریقے سے ہوتا ہے۔
اگر ترتیب بدلنے کا اصول تبدیل ہو جائے تو نتیجہ بھی مختلف ہو سکتا ہے۔
7۔ دوسری آسان مثال: لفظ نور
اب ہم ایک ایسا لفظ لیں گے جس میں صرف تین حروف ہیں۔
لفظ:
نور
اس کے حروف ہیں:
ن — و — ر
پہلی سطر
ن — و — ر
دوسری سطر
ہمارے مقرر اصول کے مطابق پہلے آخری حرف، پھر پہلا اور آخر میں درمیان والا حرف لیں گے۔
اس طرح ترتیب بنے گی:
ر — ن — و
تیسری سطر
اب دوسری سطر پر یہی اصول لگائیں:
و — ر — ن
چوتھی سطر
ایک مرتبہ پھر یہی عمل دہرائیں:
ن — و — ر
ہم دوبارہ پہلی سطر پر پہنچ گئے۔
نتیجہ
| سطر | حروف |
|---|---|
| پہلی | ن — و — ر |
| دوسری | ر — ن — و |
| تیسری | و — ر — ن |
| چوتھی | ن — و — ر |
اس مثال کو آپ خود کاغذ پر لکھ کر بھی آزما سکتے ہیں۔
یہ محض حروف کی ترتیب بدلنے کا قابلِ جانچ عمل ہے۔ اس سے کسی غیبی اثر یا مستقبل کی پیش گوئی کی سائنسی تصدیق نہیں ہوتی۔
8۔ بسط اور تکسیر میں بنیادی فرق
یہ دونوں اصطلاحات ایک ساتھ آتی ہیں، لیکن ہماری ابتدائی مثالوں میں ان کے کام الگ ہیں۔
بسط
لفظ کے حروف الگ کرنا۔
مثلاً:
قلم
اس کی بسط:
ق — ل — م
تکسیر
الگ کیے گئے حروف کو مقرر اصول کے مطابق نئی ترتیب میں رکھنا۔
ہمارے منتخب طریقے کے مطابق:
ق — ل — م
سے نئی ترتیب بنے گی:
م — ق — ل
یعنی بسط میں ہم حروف کو الگ دیکھتے ہیں، جبکہ اس تکسیر کی مشق میں ان کی جگہیں تبدیل کرتے ہیں۔
یہ ابتدائی وضاحت ہے۔ بعض روایات میں بسط اور تکسیر کی مزید اقسام اور طریقے بھی بیان ہوتے ہیں۔
9۔ علمِ ابجد اور علمِ تکسیر میں کیا فرق ہے؟
چونکہ ہم نے پہلے علمِ ابجد پر بھی مضمون لکھا ہے، اس لیے یہ فرق سمجھنا آسان ہوگا۔
علمِ ابجد میں حروف کو مخصوص عدد دیے جاتے ہیں۔
مثلاً مشرقی ابجدِ کبیر کے مطابق:
- ن = 50
- و = 6
- ر = 200
اگر ہم ان اعداد کو جمع کریں:
50 + 6 + 200 = 256
اس لیے نور کے اعداد 256 ہیں۔
لیکن ہماری تکسیر کی مثال میں ہم نے انہی حروف کی ترتیب بدلی:
ن — و — ر
سے:
ر — ن — و
ہو گئی۔
کیا اس سے حروف کے مجموعی اعداد بدل گئے؟
نہیں۔
کیونکہ حروف وہی ہیں، اس لیے ان کے مجموعی ابجدی اعداد بھی 256 ہی رہیں گے۔
یہ بات ذہن میں رکھیں:
علمِ ابجد میں ہم حروف کی عددی قدریں معلوم کرتے ہیں۔
تکسیر کی اس مثال میں ہم حروف کی ترتیب تبدیل کرتے ہیں۔
علمِ ابجد کو ابتدا سے سیکھنے کے لیے ہمارا مضمون دیکھیے:
علمِ ابجد کیا ہے؟ حروف کے اعداد معلوم کرنے کا آسان طریقہ
10۔ کیا تکسیر کے مختلف طریقے بھی ہوتے ہیں؟
جی ہاں۔
تاریخی اور بعد کی روایتی تحریروں میں حروف کے ساتھ کام کرنے کے مختلف اصول ملتے ہیں۔
مثلاً بعض طریقوں میں:
- حروف اٹھانے کی ابتدا مختلف جگہ سے ہوتی ہے۔
- ترتیب بدلنے کا اصول الگ ہوتا ہے۔
- بار بار آنے والے حروف کے متعلق خاص قواعد ہوتے ہیں۔
- حروف کے اعداد بھی شامل کیے جاتے ہیں۔
- حروف کی مخصوص علامتی جماعتیں بنائی جاتی ہیں۔
- سطروں کی تعداد اور اختتام کا اصول مختلف ہوتا ہے۔
ابنِ خلدون نے علم الحروف کے بعض قدیم تصورات بیان کرتے ہوئے حروف کو آگ، ہوا، پانی اور مٹی سے منسوب علامتی جماعتوں کا بھی ذکر کیا ہے۔
لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ کسی حرف کے اندر واقعی آگ یا پانی جیسی ثابت شدہ طبیعی خاصیت موجود ہے۔
یہ تاریخی اور روایتی علامتی نسبتیں ہیں۔
لہٰذا اگر کسی استاد یا کتاب میں تکسیر کا طریقہ ہماری مثال سے مختلف ہو تو پہلے دونوں طریقوں کے اصولوں کو دیکھنا چاہیے۔
ضروری نہیں کہ ہر مختلف طریقہ صرف اسی وجہ سے غلط ہو کہ اس کی ترتیب دوسری کتاب جیسی نہیں ہے۔
11۔ علمِ تکسیر سیکھتے وقت عام غلطیاں
پہلی غلطی: کسی حرف کو بھول جانا
اگر اصل لفظ کے چار حروف ہیں تو صرف ترتیب بدلنے والی اس مشق میں ہر نئی سطر میں وہی چار حروف رہنے چاہییں۔
دوسری غلطی: اضافی حرف شامل کر دینا
اگر مقررہ طریقے میں صرف حروف کی ترتیب بدلنی ہے تو بغیر اصول کے کوئی نیا حرف شامل نہیں کرنا چاہیے۔
تیسری غلطی: درمیان میں طریقہ بدل دینا
مثلاً پہلے آخری اور پھر پہلا حرف اٹھانے کا اصول شروع کیا، لیکن اگلی سطر میں اپنی مرضی سے کوئی دوسرا طریقہ اپنا لیا۔
ایسی صورت میں حساب ایک ہی مقرر اصول کے مطابق نہیں رہے گا۔
چوتھی غلطی: ابجدی عدد اور حروف کی ترتیب کو ایک سمجھنا
صرف حروف کی جگہ بدلنے سے ان کا مجموعی عدد نہیں بدلتا۔
پانچویں غلطی: ہر سطر کا بامعنی لفظ ہونا ضروری سمجھنا
نئی ترتیب کے حروف کا کوئی لغوی معنی ہونا ضروری نہیں۔
چھٹی غلطی: ایک ہی طریقے کو تمام روایات پر لاگو کرنا
ہر کتاب کے اپنے اصول معلوم کرنا ضروری ہے۔
12۔ کیا علمِ تکسیر سے پوشیدہ باتیں معلوم ہو سکتی ہیں؟
بعض روایتی کتابوں میں حروف کی ترتیب اور دیگر حسابی طریقوں کے ساتھ روحانی یا رمزی اثرات کے دعوے بھی ملتے ہیں۔
لیکن صرف کسی لفظ کے حروف کو مخصوص ترتیب سے لکھنے سے یہ سائنسی طور پر ثابت نہیں ہوتا کہ کسی شخص کا مستقبل معلوم کیا جا سکتا ہے، بیماری کا علاج ہو سکتا ہے یا زندگی کے واقعات بدلے جا سکتے ہیں۔
یہاں دو باتوں میں فرق ہے۔
پہلی بات: کسی مقرر اصول کے مطابق حروف کی ترتیب بدلنا۔
اس عمل کو دوسرا شخص بھی دہرا کر دیکھ سکتا ہے کہ ترتیب درست بنی ہے یا نہیں۔
دوسری بات: اس ترتیب سے کسی پوشیدہ یا روحانی نتیجے کا دعویٰ کرنا۔
اس دعوے کی حقیقت کو محض حروف کی ترتیب سے ثابت نہیں کیا جا سکتا۔
کسی خاص عمل کی شرعی حیثیت کے بارے میں مستند اہلِ علم سے رہنمائی لینی چاہیے۔
اسی طرح صحت، مالیات اور زندگی کے اہم فیصلوں کے لیے قابلِ اعتماد معلومات اور متعلقہ ماہرین کی رائے ضروری ہے۔
13۔ اب آپ خود ایک مثال حل کریں
اب تک ہم نے کتاب اور نور کی مثالیں دیکھیں۔
آئیے ایک اور مختصر لفظ لیتے ہیں۔
علم
اس کے حروف ہیں:
ع — ل — م
ہمارے منتخب اصول کے مطابق آخری، پہلے اور پھر درمیان والے حرف کو اٹھائیں۔
اس طرح نئی سطر بنے گی:
م — ع — ل
اب اسی اصول سے دوبارہ ترتیب بدلیں:
ل — م — ع
ایک بار پھر ترتیب بدلنے سے حاصل ہوگا:
ع — ل — م
یعنی ہم اپنی اصل سطر پر واپس آ گئے۔
اگر آپ نے یہ مثال سمجھ لی ہے تو حروف کی ترتیب بدلنے کا وہ بنیادی طریقہ سمجھ گئے ہیں جو اس مضمون میں سکھایا گیا ہے۔
مشق کے لیے کسی دوسرے مختصر لفظ پر بھی یہی اصول آزما کر دیکھ سکتے ہیں۔
14۔ اکثر پوچھے جانے والے سوالات
سوال: علمِ تکسیر کیا ہے؟
یہ حروف سے متعلق بعض روایتی طریقوں کا نام ہے جن میں حروف کو تقسیم، ترتیب یا مخصوص اصولوں کے مطابق استعمال کیا جاتا ہے۔
سوال: کیا علمِ تکسیر اور علمِ ابجد ایک ہی چیز ہیں؟
نہیں۔ علمِ ابجد میں حروف کی عددی قدریں بنیادی اہمیت رکھتی ہیں، جبکہ یہاں بیان کردہ تکسیر کی مشق میں حروف کی ترتیب بدلی جاتی ہے۔
سوال: بسط کسے کہتے ہیں؟
ہماری ابتدائی مثال میں بسط سے مراد لفظ کے حروف الگ الگ لکھنا ہے۔ بعض روایتی کتابوں میں اس کی دوسری قسمیں بھی ہیں۔
سوال: سطرِ زمام کیا ہوتی ہے؟
بعض سطری طریقوں میں جب حروف کی اصل ترتیب دوبارہ ظاہر ہو جائے تو اس واپس آنے والی سطر کو سطرِ زمام کہا جاتا ہے۔
سوال: کیا تکسیر میں ہمیشہ آخری حرف پہلے لیا جاتا ہے؟
نہیں۔ مختلف روایتوں میں حروف اٹھانے کے اصول الگ ہو سکتے ہیں۔ اس مضمون کی مثال میں آخری حرف سے ابتدا کی گئی ہے۔
سوال: کیا حروف کی ترتیب بدلنے سے ان کے ابجدی اعداد بدل جاتے ہیں؟
اگر حروف وہی رہیں اور صرف ترتیب بدلے تو مجموعی ابجدی عدد نہیں بدلتا۔
سوال: کیا تکسیر کے نتیجے میں لازماً کوئی بامعنی لفظ بنتا ہے؟
نہیں۔ نئی سطر محض حروف کی ایک ترتیب بھی ہو سکتی ہے۔
سوال: کیا علمِ تکسیر سے مستقبل کی یقینی پیش گوئی ہو سکتی ہے؟
اس قسم کے دعووں کی قابلِ اعتماد سائنسی تصدیق موجود نہیں۔
خلاصہ
علمِ تکسیر حروف سے متعلق روایتی علوم کے ایک اہم موضوع کے طور پر زیرِ بحث آتا ہے۔
اس کی بعض صورتوں میں پہلے حروف کو الگ کیا جاتا ہے اور پھر مقررہ اصول کے مطابق ان کی نئی ترتیب بنائی جاتی ہے۔
ہم نے اس مضمون میں کتاب، نور اور علم جیسے عام الفاظ سے ایک تدریسی طریقہ سمجھا۔
ہم نے یہ بھی دیکھا کہ بعض سطری طریقوں میں حروف کی اصل ترتیب دوبارہ سامنے آنے پر سطرِ زمام کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ علمِ تکسیر کی مختلف روایتوں میں حساب کے اصول مختلف ہو سکتے ہیں۔
اس لیے کسی بھی طریقے کا مطالعہ کرتے وقت اس کے اصل ماخذ، استعمال ہونے والے قواعد اور تاریخی پس منظر کو سمجھنا ضروری ہے۔
RohaniGuide پر ہماری کوشش ہے کہ علمِ ابجد، علمِ تکسیر اور دوسرے روایتی علوم کو آسان اردو، عملی مثالوں اور ذمہ دارانہ وضاحت کے ساتھ پیش کیا جائے۔
حروف کی ترتیب کا درست حساب ایک قابلِ جانچ عمل ہے، لیکن اس کے ساتھ منسوب روحانی یا غیبی دعوے الگ نوعیت کے ہیں اور انہیں محض حساب کی بنیاد پر ثابت شدہ حقیقت نہیں سمجھنا چاہیے۔
حوالہ جات اور مزید مطالعہ
- ابنِ خلدون — مقدمہ، علم الحروف کے اسرار سے متعلق بحث
- محقق نوح گارڈنر — احمد البونی اور مخطوطات کی تاریخی تحقیق
- حروف کی ترتیب بدلنے کے ایک بعد کے روایتی طریقے کی عربی مثال
- انسائیکلوپیڈیا ایرانیکا — علمِ جفر اور علم الحروف کا تاریخی تعلق
حوالوں سے متعلق وضاحت: تاریخی مصادر علم الحروف اور متعلقہ روایتوں کا پس منظر بیان کرتے ہیں۔ مضمون میں سمجھایا گیا آخری اور پہلے حرف والا طریقہ ایک درج شدہ عملی روایت کی مثال ہے؛ اسے تمام تاریخی مکاتب کا متفقہ قانون یا کسی روحانی تاثیر کا مصدقہ طریقہ نہیں کہا جا رہا۔