کیا آپ نے کبھی یہ سوچا ہے کہ انسان کی زندگی میں ایک ایسا ساتھی بھی ہو سکتا ہے جسے وہ عام نگاہ سے نہیں دیکھتا، مگر جس کا ذکر رسولِ اکرم ﷺ نے خود فرمایا ہو؟ یہ سوال کسی پراسرار حکایت سے نہیں، ایک صحیح حدیث سے پیدا ہوتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت کے مطابق نبی کریم ﷺ نے صحابۂ کرام کو بتایا کہ ہر شخص کے ساتھ جنات میں سے ایک قرین مقرر ہے۔ صحابہ نے حیرت سے پوچھا کہ کیا حضور ﷺ کے ساتھ بھی؟ اس سوال کا جواب بھی حدیث میں موجود ہے۔
لیکن اس موضوع کی اصل حیرت وہاں ختم نہیں ہوتی۔ قرآنِ کریم ایک ایسے ساتھی کا ذکر کرتا ہے جو گمراہی کے راستے کو خوش نما بنا دیتا ہے، پھر روزِ قیامت اپنے پیروکار کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کر دیتا ہے۔ ایک دوسری جگہ اللہ تعالیٰ اپنے ذکر سے غفلت اور شیطانی رفاقت کے تعلق کو واضح فرماتا ہے۔ ان آیات کو سمجھنے کے بعد قرین کا مسئلہ محض خوف ناک قصہ نہیں رہتا؛ یہ انسان کے باطن، اختیار، توبہ اور انجام سے متعلق ایک سنجیدہ ایمانی سبق بن جاتا ہے۔
اس مضمون میں ہم قرآن، صحیح مسلم، صحیح بخاری اور معتبر تفسیری توضیحات کی روشنی میں معاملہ سمجھیں گے۔ جہاں نص صریح ہے، وہاں بات واضح کریں گے؛ اور جہاں کسی مخلوق کے نام، صورت، طاقت یا طریقۂ ملاقات کا ثبوت نہیں، وہاں اپنی طرف سے غیب کی کہانیاں نہیں گھڑیں گے۔
سب سے پہلے اصل جواب: کیا واقعی ہر انسان کے ساتھ قرین ہوتا ہے؟
جی ہاں۔ صحیح مسلم کی حدیث نمبر ۲۸۱۴ الف میں رسول اللہ ﷺ سے منقول ہے کہ تم میں کوئی شخص ایسا نہیں جس کے ساتھ جنات میں سے اس کا قرین مقرر نہ کیا گیا ہو۔ صحابہ نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ، کیا آپ کے ساتھ بھی؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میرے ساتھ بھی، البتہ اللہ تعالیٰ نے اس پر میری مدد فرمائی اور وہ مجھے خیر ہی کا حکم دیتا ہے۔ اصل روایت یہاں صحیح مسلم میں ملاحظہ کیجیے۔
اسی حدیث کی دوسری روایت میں جن کے قرین کے ساتھ فرشتے کے ایک ساتھی کا بھی ذکر آیا ہے۔ اس لفظی اضافے کو صحیح مسلم ۲۸۱۴ ب میں دیکھا جا سکتا ہے۔ لہٰذا اس بنیادی سوال کا جواب گمان پر نہیں بلکہ مستند روایت پر قائم ہے۔
تاہم یہاں ایک حد بھی یاد رکھنی ضروری ہے۔ حدیث میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ہر شخص اپنے قرین کا نام معلوم کر سکتا ہے، اس کی آواز شناخت کر سکتا ہے، اس کی شکل کا نقشہ بنا سکتا ہے یا کسی خاص عمل سے اس کو سامنے بلا سکتا ہے۔ قرین کا وجود ثابت ہونا اور قرین کے متعلق ہر مشہور دعویٰ درست ہونا دو الگ باتیں ہیں۔
| عام سوال | مستند متن سے معلوم بات | بے دلیل اضافہ |
|---|---|---|
| کیا ہر شخص کا جناتی قرین ہے؟ | صحیح مسلم ۲۸۱۴ میں صراحت ہے۔ | ہر پریشانی اسی کی پیدا کردہ ہے۔ |
| کیا فرشتے کا ساتھی بھی مذکور ہے؟ | صحیح مسلم کی دوسری روایت میں ذکر ہے۔ | دونوں کے تمام کام ایک جیسے ہیں۔ |
| کیا قرین کو دیکھا جا سکتا ہے؟ | حدیث کوئی طریقۂ مشاہدہ نہیں بتاتی۔ | کوئی آزمائش لازماً اس کی صورت دکھاتی ہے۔ |
| کیا قرین انسان کو گناہ پر مجبور کرتا ہے؟ | قرآن ترغیب اور انسانی جواب دہی بتاتا ہے۔ | انسان اپنے اعمال کا ذمہ دار نہیں۔ |
| حفاظت کا راستہ کیا ہے؟ | اللہ کی پناہ، ذکر اور ثابت شدہ تلاوت۔ | خفیہ عملیات کے بغیر نجات ممکن نہیں۔ |
لفظ «قرین» کا حقیقی مفہوم کیا ہے؟
عربی زبان میں قرین کا عمومی مفہوم ساتھ رہنے والا، ہم نشین یا قریب کا ساتھی ہے۔ لفظ اپنے آپ میں نہ ہر جگہ جن کے لیے مخصوص ہے اور نہ ہمیشہ کسی برے وجود کے لیے۔ اصل فیصلہ جملے کے سیاق و سباق سے ہوتا ہے۔ قرآن میں کبھی برا ساتھی مراد ہوتا ہے، کبھی کسی واقعے میں رفاقت کا ذکر ہوتا ہے اور کبھی قیامت کے منظر میں ایسا ساتھی مذکور ہوتا ہے جس کا کردار مفسرین نے الگ بیان کیا ہے۔
مثلاً سورۂ نساء ۴:۳۸ میں شیطان کو برا ہم نشین کہا گیا ہے۔ سورۂ صافات ۳۷:۵۱ میں ایک گفتگو کے اندر ساتھی کا ذکر ہے۔ سورۂ فصلت ۴۱:۲۵ میں ایسے ساتھیوں کا بیان ہے جو برے اعمال کو اچھا بنا کر دکھاتے ہیں۔ سورۂ زخرف ۴۳:۳۶ میں ذکرِ رحمان سے غفلت اور شیطانی رفاقت آتی ہے۔ پھر سورۂ ق ۵۰:۲۳ تا ۲۷ میں قیامت کے مختلف مراحل کے اندر قرین کا لفظ آتا ہے۔
یہ مقامات ایک دوسرے کے ساتھ پڑھنے چاہییں، مگر ان سب کا مطلب ایک ہی مخصوص جن بنا دینا درست نہیں۔ قرآنی الفاظ کی لغوی فہرست سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ قرین کا لفظ مختلف سیاق میں آیا ہے۔ دینی تحقیق کا پہلا ادب یہی ہے کہ لفظ کے ساتھ پوری آیت کو بھی دیکھا جائے۔
وہ حیران کن سوال جو صحابۂ کرام نے کیا
ذرا صحیح مسلم کی روایت کا منظر ذہن میں لائیے۔ نبی کریم ﷺ نے جناتی قرین کا ذکر فرمایا تو صحابہ نے فوراً اپنے محبوب رسول ﷺ کے بارے میں دریافت کیا۔ ان کا سوال محض تجسس نہیں تھا؛ وہ جاننا چاہتے تھے کہ اس عمومی حکم میں ذاتِ نبوی ﷺ کا معاملہ کیا ہے۔ جواب میں حضور ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی خصوصی اعانت کا ذکر فرمایا۔
یہاں عربی لفظ فَأَسْلَمَ / فَأَسْلَمُ کی قراءت اور توضیح پر اہلِ علم نے گفتگو کی ہے۔ ایک شرح کے مطابق قرین کا تابع یا مسلمان ہو جانا مراد لیا گیا، جبکہ دوسری توضیح میں آپ ﷺ کا اس کے شر سے محفوظ ہو جانا بیان ہوا۔ امام نوویؒ کی طرف منسوب اس اختلاف کی تفصیل اس شرحی خلاصے میں دیکھی جا سکتی ہے۔ اس لیے کسی ایک تعبیر کو ہر اختلاف سے بالاتر بنا کر پیش کرنا مناسب نہیں۔
دونوں صورتوں میں اتنی بات نمایاں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو خصوصی حفاظت عطا فرمائی اور حدیث کے مطابق اس ساتھی کی طرف سے خیر کے سوا حکم نہیں آتا تھا۔ لیکن اس واقعے سے یہ نتیجہ اخذ نہیں ہوتا کہ ہر شخص قرین کو مسلمان بنانے، اس سے سوال جواب کرنے یا اسے کسی کام میں لگانے کے لیے مخصوص عمل شروع کرے۔ حدیث نے عام امت کو ایسا کوئی طریقہ نہیں سکھایا۔
فرشتے کے ساتھی اور جناتی قرین میں کیا فرق ہے؟
صحیح مسلم کی دوسری روایت میں فرشتے کے ساتھی کا ذکر ایک اہم حقیقت کی طرف توجہ دلاتا ہے۔ اسلام انسان کو صرف شیطانی وسوسوں سے گھرا ہوا وجود نہیں دکھاتا؛ اس کی زندگی میں اللہ تعالیٰ کی ہدایت، ملائکہ، اعمال کی جواب دہی، دعا اور رحمت کے مضامین بھی ہیں۔ انسان کا دینی سفر خوف اور امید دونوں کے ساتھ آگے بڑھتا ہے۔
لیکن مختلف روایات اور آیات میں مذکور تمام فرشتوں کو بغیر دلیل ایک ہی شخصیت سمجھ لینا بھی درست نہیں۔ قرآنِ کریم میں اعمال لکھنے والے فرشتوں کا ذکر ایک الگ باب ہے۔ اسی طرح سورۂ ق کی آیت ۲۳ کے قرین اور آیت ۲۷ کے قرین کے بارے میں تفسیری فرق بیان کیا گیا ہے۔ معارف القرآن کی تفسیرِ سورۂ ق ۵۰:۲۷ میں اس کی وضاحت موجود ہے۔
اس باریکی سے ہم ایک بڑی غلطی سے بچتے ہیں: غیب کی دنیا کے متعلق ٹکڑوں میں ملنے والے بیانات کو اپنی طرف سے جوڑ کر ایسی مکمل تصویر بنا دینا جس کی تفصیل قرآن و حدیث نے خود نہیں دی۔ اہلِ ایمان کے لیے وہی بات کافی ہے جس کے اثبات کی دلیل موجود ہو۔
سورۂ زخرف: جب غفلت ایک خطرناک رفاقت بن جاتی ہے
سورۂ زخرف کی آیت ۳۶ میں ایک غیر معمولی مضمون بیان ہوا ہے: جو شخص رحمان کے ذکر سے غفلت اختیار کرتا ہے، اس کے لیے شیطان کو قرین کر دیا جاتا ہے۔ اگلی آیات میں اس رفاقت کا دھوکا سامنے آتا ہے۔ آیت ۳۸ میں ایسا شخص افسوس کرتا ہے کہ کاش میرے اور تیرے درمیان مشرق و مغرب جیسی دوری ہوتی۔
یہ منظر غور طلب ہے۔ دنیا میں جو قربت سہولت یا دوستی لگ رہی تھی، انجام کے سامنے وہی وبال دکھائی دینے لگتی ہے۔ قرآن یہاں کسی اندھیری گلی میں چلتے ہوئے سائے کی تفصیل نہیں دے رہا، بلکہ غفلت کے نتیجے، بری صحبت کے دھوکے اور آخرت کی ندامت کا نقشہ پیش کر رہا ہے۔ اس سے قاری کو اپنا حال جانچنے کی دعوت ملتی ہے۔
یہ بھی یاد رہے کہ سورۂ زخرف کے اس بیان کو صحیح مسلم کی عمومی حدیث کے ہر جزو کے ساتھ لفظ بہ لفظ یکساں قرار نہیں دینا چاہیے۔ حدیث ہر شخص کے ساتھ جن کے قرین کی خبر دیتی ہے، جبکہ یہاں آیت میں ذکر سے اعراض کے تناظر میں شیطانی رفاقت کا عذاب انگیز پہلو سامنے آتا ہے۔ دونوں میں تعلق ہے، مگر دونوں کے اپنے سیاق بھی ہیں۔
سورۂ فصلت: گناہ کا راستہ خوش نما کیسے بن جاتا ہے؟
سورۂ فصلت ۴۱:۲۵ میں بیان ہے کہ کچھ ساتھی لوگوں کو ان کے سامنے اور پیچھے کی باتیں خوش نما بنا کر دکھاتے ہیں۔ اس مقام میں دعوتِ گمراہی کا ایک نہایت لطیف انداز سامنے آتا ہے: گناہ ہمیشہ کھلی برائی کے لباس میں نہیں آتا، بعض اوقات اس کے لیے دلائل، بہانے اور خوب صورت نام تراشے جاتے ہیں۔
ایک شخص کسی کا حق دبا کر اسے اپنا حق سمجھنے لگے؛ دوسرا غصے میں سخت کلمات کہے اور خود کو مظلوم قرار دے؛ کوئی جھوٹ کو مصلحت کہہ کر دل مطمئن کر لے۔ یہ مثالیں روحانی خود احتسابی کو سمجھانے کے لیے ہیں، کسی شخص کے قرین کے بارے میں یقینی فیصلہ نہیں۔ آیت کا سبق یہ ہے کہ نفس اور عمل کا محاسبہ کیا جائے اور گناہ کی آرائش کو پہچانا جائے۔
قرآن نے ہمیں یہ نہیں سکھایا کہ ہر غلط خیال کے بعد فوراً کسی پوشیدہ مخلوق کا نام بتائیں۔ اس نے یہ سکھایا کہ حق و باطل میں فرق کریں، اللہ کے حکم کو ترجیح دیں اور اپنے کردار کو درست کریں۔ جو شخص قرآن پڑھتے ہوئے یہ سوال اپنے آپ سے کرتا ہے کہ میں کس غلطی کو درست کہہ رہا ہوں، وہ اس مضمون کے اصل مقصد سے قریب ہوتا ہے۔
سورۂ ق: قیامت میں قرین کا انکار
قرین کے موضوع پر سب سے لرزا دینے والا منظر سورۂ ق کی آیت ۲۷ میں آتا ہے۔ وہاں ایک ساتھی یہ کہتا ہے کہ اے ہمارے رب، میں نے اسے سرکشی پر مجبور نہیں کیا، بلکہ یہ خود بڑی دور کی گمراہی میں تھا۔ مفسرین نے اس مقام پر قرین کو شیطانی ساتھی قرار دیا ہے۔ یہ منظر قیامت کی عدالت اور بندے کی جواب دہی کا حصہ ہے۔
اس آیت کے ساتھ سورۂ ابراہیم ۱۴:۲۲ ضرور پڑھیے۔ وہاں شیطان کے اس اعتراف کا بیان ہے کہ اس کے پاس انسان کو مجبور کرنے کا اختیار نہ تھا، اس نے دعوت دی اور لوگوں نے قبول کیا۔ دونوں آیات کا حاصل نہایت واضح ہے: وسوسہ اور دعوت اپنی جگہ، مگر اپنے اختیار سے کیے ہوئے عمل کی ذمہ داری انسان پر ہے۔
یہاں سورۂ ق کی آیت ۲۳ کا فرق بھی قابلِ ذکر ہے۔ اس آیت کے قرین کو بعض معتبر تفاسیر میں فرشتے، بالخصوص اعمال کے ریکارڈ سے متعلق ساتھی، کے مفہوم میں لیا گیا ہے؛ جبکہ آیت ۲۷ کے قرین کے لیے شیطانی ساتھی کی توضیح ملتی ہے۔ معارف القرآن اس فرق کو واضح کرتی ہے۔ ایک ہی لفظ ہونے کی وجہ سے دونوں کو بلا تحقیق ایک ہی مخلوق قرار دینا معنی میں خلل پیدا کر سکتا ہے۔
قرین، جن، شیطان اور ابلیس ایک ہی چیز ہیں؟
عوامی گفتگو میں یہ الفاظ اکثر بدل بدل کر استعمال ہوتے ہیں۔ لیکن قرآنی اصطلاحات کا احترام یہی ہے کہ انہیں الگ سمجھا جائے۔ جن ایک مخلوق کی جنس ہے۔ شیطان سرکش اور گمراہ کرنے والے کے وصف کے طور پر بھی آتا ہے۔ ابلیس وہ خاص نافرمان شخصیت ہے جس کا ذکر حضرت آدم علیہ السلام کے واقعے میں ہے، اور سورۂ کہف ۱۸:۵۰ اسے جنات میں سے قرار دیتی ہے۔ قرین رفاقت کا لفظ ہے، جسے سیاق کے مطابق سمجھا جاتا ہے۔
| اصطلاح | بنیادی مفہوم | عام غلط فہمی |
|---|---|---|
| جن | قرآن میں مذکور مستقل مخلوق | ہر جن لازماً شیطان ہے۔ |
| شیطان | شر اور نافرمانی کی طرف بلانے والا | ہر جن کا ذاتی نام شیطان ہے۔ |
| ابلیس | قصۂ آدم میں مذکور مخصوص نافرمان | ہر انسان کا قرین وہی ابلیس ہے۔ |
| قرین | ساتھ رہنے والا یا ہم نشین | ہر آیت میں ایک ہی جن مراد ہے۔ |
| وسوسہ | دل میں ڈالے جانے والے برے خیال کی ترغیب | ہر خیال سے قرین کی شناخت ہو سکتی ہے۔ |
| نفس | انسان کی اپنی ذات اور اس کی اخلاقی کشمکش | نفس بھی کسی دوسرے جن کا نام ہے۔ |
سورۂ ناس میں اللہ تعالیٰ وسوسہ ڈالنے والے کے شر سے پناہ مانگنے کی تعلیم دیتا ہے اور انسانوں اور جنات دونوں کا ذکر آتا ہے۔ اس سورہ کا محور کسی پوشیدہ مخلوق کی ناموں والی فہرست نہیں؛ رب الناس، ملک الناس اور الٰہ الناس سے پناہ ہے۔
نفس اور قرین میں بنیادی فرق
تصوف و تزکیے کی تعلیم میں نفس سے انسان کی اپنی ذات اور اس کے اخلاقی میلانات مراد ہوتے ہیں۔ نفس کی اصلاح، خواہشات پر قابو، توبہ، توکل اور اخلاص ایک وسیع روحانی سفر کے عنوان ہیں۔ اس کے برعکس قرین کی حدیث ایک مقرر کردہ جناتی ساتھی کے متعلق خبر دیتی ہے۔ ان دونوں عنوانات کو یکساں سمجھنے سے کئی مسائل پیدا ہوتے ہیں۔
مثلاً ایک شخص کہتا ہے کہ میں نے غصے میں کسی کی دل آزاری کی، مگر یہ میرے قرین کا قصور تھا۔ ایسا جملہ اس کی اخلاقی ذمہ داری ختم نہیں کرتا۔ اسے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگنی، جس انسان کا حق مارا اسے حق لوٹانا اور اپنی زبان کی اصلاح کرنی ہو سکتی ہے۔ اسی طرح حسد، تکبر، ریا اور بدگمانی پر نظر رکھنا نفس کے محاسبے کا حصہ ہے۔ ہر کیفیت کو کسی غیر مرئی مخلوق کی کارروائی بنا دینا اصلاح کے راستے سے توجہ ہٹا سکتا ہے۔
اہلِ تصوف کے ہاں مراقبہ، محاسبۂ نفس اور مجاہدہ جیسے الفاظ انسان کو اپنے باطن کے سامنے کھڑا کرتے ہیں۔ اس مضمون کا مقصود یہ نہیں کہ قرین کے وجود کا انکار ہو؛ بلکہ یہ ہے کہ قرین پر ایمان رکھنے والا شخص بھی اپنے اعمال کی درستگی سے غافل نہ ہو۔
کیا قرین انسان کو زبردستی گناہ کروا سکتا ہے؟
قرآنِ کریم نے شیطانی اثر کے بیان کے ساتھ بندے کے اختیار اور اللہ تعالیٰ پر توکل کو بھی واضح رکھا ہے۔ سورۂ نحل ۱۶:۹۹–۱۰۰ میں ایمان اور توکل رکھنے والوں پر شیطان کے تسلط کی نفی اور اس کی ولایت اختیار کرنے والوں کے بارے میں الگ بیان ہے۔ سورۂ ابراہیم ۱۴:۲۲ میں شیطان خود اپنی دعوت اور انسان کے قبول کرنے کا ذکر کرتا ہے۔
اس سے یہ سمجھنا چاہیے کہ وسوسہ انسان کو برائی کی طرف راغب کر سکتا ہے، مگر اسے بے اختیار پُتلا قرار دینا قرآن کے اخلاقی پیغام کے خلاف جاتا ہے۔ کوئی شخص اپنے ظلم، بددیانتی یا وعدہ خلافی کا سارا الزام قرین پر منتقل نہیں کر سکتا۔ اللہ تعالیٰ نے خیر و شر میں فرق جاننے اور اپنے فیصلوں کی جواب دہی کا شعور عطا فرمایا ہے۔
اس کے برعکس قرین کے بارے میں ایسے جملے کہ وہ زندگی کے ہر فیصلے کا مالک ہے، یا فلاں تاریخِ پیدائش کے شخص پر اس کی طاقت دگنی ہوتی ہے، مذکورہ نصوص سے ثابت نہیں۔ غیب کی تفصیلات وہی بیان کی جائیں جو معتبر دلیل میں موجود ہوں۔
کیا قرین انسان کے راز اور مستقبل کو جانتا ہے؟
اس مضمون میں پیش کردہ قرآن و حدیث کے دلائل قرین کو علمِ غیب کا مستقل مالک نہیں بناتے۔ کسی کا نکاح کب ہوگا، موت کس دن آئے گی، امتحان یا کاروبار کا نتیجہ کیا نکلے گا، پوشیدہ نیت کیا ہے—ایسی باتیں کسی شخص کے قرین کے نام سے قطعی طور پر بتانا درست نہیں، جب تک اس خاص دعوے کی معتبر شرعی دلیل موجود نہ ہو۔
یہاں ایک عام دھوکا سمجھنے کی ضرورت ہے۔ کوئی شخص پہلے صحیح مسلم کی حدیث دکھاتا ہے کہ ہر انسان کا قرین ہے۔ پھر اچانک دعویٰ کرتا ہے کہ مجھے تمہارے قرین سے ملاقات ہوتی ہے، لہٰذا میں تمہیں تمہارا مستقبل بتا سکتا ہوں۔ پہلی بات حدیث سے ثابت ہے؛ دوسری بات خود اس شخص کا الگ دعویٰ ہے۔ پہلی دلیل کو دوسری بات کی سند نہیں بنایا جا سکتا۔
دین کی دعوت انسان کو اللہ کی طرف بلاتی ہے، نہ کہ کسی انسان کے ایسے غیر ثابت خصوصی اختیارات کی طرف جن کے لیے مسلسل خوف، رقم اور پراسرار پابندیاں لازم بنا دی جائیں۔ علمِ غیب کے معاملے میں مسلمان کو عاجزی اور احتیاط اختیار کرنی چاہیے۔
کیا ہر ڈراؤنا خواب، گھریلو جھگڑا یا بے چینی قرین کی علامت ہے؟
ایسا کوئی عمومی قاعدہ قرآن و حدیث کے ان حوالوں میں نہیں ملتا کہ ہر ناخوش گوار خواب یا ہر تلخ گفتگو قرین کی مخصوص حرکت ثابت ہو۔ خواب کے اپنے آداب ہیں، تعلقات کے اپنے حقوق ہیں اور انسان کے روزمرہ حالات میں اپنی ذمہ داریاں ہوتی ہیں۔ کسی واقعے کو فوراً کسی معین غیبی سبب سے جوڑ دینا اس کے حقیقی اخلاقی تقاضوں کو اوجھل کر سکتا ہے۔
اگر گھر میں جھگڑا ہوا ہے تو عدل، تحمل، معافی اور صلح کو اہمیت دیجیے۔ اگر کوئی پریشان کن خواب دیکھا ہے تو نبی کریم ﷺ سے منقول خواب کے آداب پر عمل کیجیے؛ مثلاً صحیح بخاری ۳۲۹۲ میں برے خواب کے شر سے اللہ کی پناہ مانگنے کا ذکر ملتا ہے۔ اگر گناہ ہوا ہے تو رجوع الی اللہ اور اس کی تلافی کا راستہ اختیار کیجیے۔
قرین کے وجود کا عقیدہ ضرور رکھیے، لیکن ہر حال کی تشریح میں بلا دلیل قرین کا نام شامل کرنا لازم نہ سمجھئے۔ صحیح ایمان غیب کے احترام کا نام ہے، غیب کی طرف ہر بات منسوب کر دینے کا نام نہیں۔
وسوسہ آئے تو قرآن کیا حکم دیتا ہے؟
سورۂ اعراف ۷:۲۰۰ میں تعلیم دی گئی ہے کہ شیطان کی طرف سے کوئی اکساہٹ آئے تو اللہ کی پناہ مانگو۔ آیت ۲۰۱ میں متقین کا ذکر ہے کہ جب انہیں شیطانی اثر چھوتا ہے تو وہ یادِ الٰہی کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور بصیرت حاصل کرتے ہیں۔ اس ترتیب میں اصلاح کی ایک مکمل سمت موجود ہے: وسوسے کو پہچاننا، اللہ کو یاد کرنا، پھر صحیح راستے کی طرف لوٹ آنا۔
اَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ کہنے کا مقصد کسی جن کو مخاطب کرنا نہیں، بلکہ اللہ رب العزت سے حفاظت طلب کرنا ہے۔ اسی طرح سورۂ ناس کی آیات بندے کو بار بار اللہ کی پناہ اور اس کے رب، بادشاہ اور معبود ہونے کی طرف متوجہ کرتی ہیں۔
بعض لوگ دینی تحفظ کی بات سن کر فوراً ایسا وظیفہ تلاش کرتے ہیں جس میں نامعلوم حروف، خفیہ اجازت، مخصوص بخور یا کسی پوشیدہ مخلوق کو حکم دینے کا دعویٰ ہو۔ جبکہ قرآن کا بنیادی اسلوب نہایت واضح ہے: اپنے رب کی طرف رجوع کیجیے۔ عبادت، دعا اور ذکر اسی کے لیے ہیں۔
صحیح احادیث کی روشنی میں حفاظت کے اعمال
اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے، قرآن پڑھنے اور مسنون اذکار کا اہتمام کرنے کی تعلیم متعدد معتبر روایات میں ملتی ہے۔ یہ اعمال قرین کو سامنے بلانے یا اس سے معاہدہ کرنے کے طریقے نہیں، بلکہ عبادت اور اللہ کی حفاظت طلب کرنے کے اعمال ہیں۔ ان میں چند اہم مثالیں درج ذیل ہیں۔
| مسنون یا قرآنی عمل | حوالہ | اصل سبق |
|---|---|---|
| سونے سے پہلے آیت الکرسی | صحیح بخاری ۳۲۷۵ | رات کے لیے اللہ کی حفاظت کا ذکر۔ |
| گھر میں سورۂ بقرہ کی تلاوت | صحیح مسلم ۷۸۰ | ایسے گھر سے شیطان کے بھاگنے کا بیان۔ |
| گھر میں داخل ہوتے اور کھاتے وقت اللہ کا ذکر | صحیح مسلم ۲۰۱۸ الف | ذکر کے ساتھ گھر اور کھانے کے آداب۔ |
| شیطانی اکساہٹ پر استعاذہ | سورۂ اعراف ۷:۲۰۰ | فوراً اللہ تعالیٰ سے پناہ طلب کرنا۔ |
| سورۂ ناس کی تلاوت | سورۂ ناس ۱۱۴ | وسوسہ ڈالنے والے کے شر سے پناہ۔ |
صحیح بخاری ۳۲۷۵ کی روایت کا پس منظر خاص طور پر دلچسپ ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس رمضان کے صدقے کے مال سے متعلق ایک شخص کا واقعہ پیش آیا۔ اس نے سونے سے پہلے آیت الکرسی پڑھنے کی بات بتائی۔ رسول اللہ ﷺ نے اس خاص بات کی تصدیق فرمائی اور اس شخص کی حقیقت بھی واضح فرمائی۔ اس سے آیت الکرسی کی برکت اور اللہ کی حفاظت کا سبق ملتا ہے۔
لیکن اس واقعے کو یہ کہنے کی دلیل نہیں بنانا چاہیے کہ ہر انسان اپنے ذاتی قرین کو پکڑ کر سوال کر سکتا ہے۔ ایک مخصوص واقعے سے غیر ثابت عمومی عملیات نہیں نکالے جا سکتے۔ اسی طرح گھر میں سورۂ بقرہ پڑھنے کی فضیلت کو اس دعوے سے نہ جوڑیے کہ فلاں رات لازماً قرین چیخ کر اپنا نام بتائے گا۔
گھر میں ذکر اور تلاوت کیوں اہم ہیں؟
صحیح مسلم ۷۸۰ میں نبی کریم ﷺ نے گھروں کو قبروں کی طرح نہ بنانے اور سورۂ بقرہ کی تلاوت کی فضیلت بیان فرمائی کہ شیطان اس گھر سے بھاگتا ہے جس میں یہ سورت پڑھی جاتی ہے۔ اس ارشاد کی روح یہ ہے کہ گھر عبادت، تلاوت اور زندہ دینی ماحول سے آباد ہو۔
صحیح مسلم ۲۰۱۸ الف میں گھر میں داخل ہوتے اور کھانا کھاتے وقت اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے کی اہمیت سامنے آتی ہے۔ اس روایت کے مطابق ذکر نہ کرنے کی صورت میں شیطان کو قیام اور کھانے کے موقع ملنے کی گفتگو بیان ہوئی ہے۔ مسلمان کو ان تعلیمات سے روزمرہ زندگی میں بسم اللہ، شکر اور عبادت کے آداب اپنانے چاہییں۔
یہاں ایک خوب صورت بات سمجھ میں آتی ہے: قرآن کا ذکر صرف غیر معمولی حالات کے لیے نہیں۔ اس کی روشنی گھر میں داخل ہونے، دسترخوان پر بیٹھنے، سونے اور بیدار ہونے جیسے عام لمحات میں بھی مطلوب ہے۔ روحانی حفاظت کی بنیاد مستقل تعلق باللہ ہے، نہ کہ وقتی خوف سے پیدا ہونے والی پراسرار جستجو۔
کیا کوئی عامل قرین کو قابو، قید یا ختم کر سکتا ہے؟
صحیح مسلم ۲۸۱۴ اور یہاں زیرِ بحث قرآنی آیات میں ایسی کوئی عمومی تعلیم نہیں دی گئی کہ انسان اپنے قرین کو قتل کرے، کسی برتن میں بند کرے، اس سے خزانے کی خبر لے یا اسے خدمت پر مامور کر دے۔ اگر کوئی شخص اپنے عمل کو «قرین بیداری»، «تسخیرِ قرین»، «قرین کی شادی» یا «قرین کا مکمل خاتمہ» جیسے نام دے، تو محض دل چسپ اصطلاح کافی نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ قرآن اور صحیح سنت سے اس مخصوص دعوے کی دلیل کیا ہے؟
تاریخی یا عوامی قصوں میں غیر معمولی مخلوقات کے متعلق بہت کچھ بیان ہو سکتا ہے۔ ہر قصے کا درجہ ایک جیسا نہیں؛ حکایت، کسی فرد کا دعویٰ، مفسر کا احتمال اور صحیح مرفوع حدیث الگ الگ حیثیت رکھتے ہیں۔ انہیں ایک دوسرے کے برابر رکھنا دیانت دارانہ تحریر نہیں۔
خاص طور پر حضور ﷺ کو ملنے والی خصوصی اعانت کا واقعہ عام لوگوں کے لیے کسی خفیہ ریاضت کا نسخہ نہیں بنانا چاہیے۔ مسلمان کی اپنی ذمہ داری اللہ کی اطاعت، شریعت کی حدود کی پابندی، مسنون اذکار اور جائز دعاؤں سے تعلق ہے۔
قرین کا اصل راز خوف نہیں، جواب دہی ہے
سوچیے کہ ایک شخص برسوں برائی کو اچھا سمجھ کر اختیار کرتا رہا، مگر قیامت کے دن جس ساتھی کے بہکانے کو وہ اپنا عذر بنانا چاہتا تھا وہی کہہ دے کہ میں نے اسے مجبور نہیں کیا۔ سورۂ ق ۵۰:۲۷ کے منظر کی شدت اسی اخلاقی حقیقت میں ہے۔ سورۂ ابراہیم ۱۴:۲۲ میں شیطان کا اعتراف بھی اسی رخ کو مضبوط کرتا ہے۔
دنیا کی زندگی میں یہ سبق بار بار سامنے آتا ہے۔ کسی کا حق تلف کیا گیا، نماز میں غفلت برتی گئی، کسی کی عزت پر حملہ ہوا، رشتوں میں بددیانتی ہوئی—تو محاسبے کا سوال صرف یہ نہیں کہ میرے اردگرد کون سا پوشیدہ ساتھی تھا؛ اہم سوال یہ ہے کہ میں نے اللہ کے حکم کے مقابلے میں کیا منتخب کیا؟
اس خوف کے ساتھ امید کی بنیاد بھی موجود ہے۔ سورۂ نحل ۱۶:۹۹ ایمان اور توکل کا مقام بیان کرتی ہے، اور سورۂ اعراف ۷:۲۰۱ ذکر کے ذریعے متوجہ ہونے کا منظر پیش کرتی ہے۔ شیطانی ترغیب کو زندگی کا آخری فیصلہ نہیں بنا دینا چاہیے۔ بندے کے لیے توبہ، عملِ صالح اور رجوع الی اللہ کا دروازہ اہم ہے۔
قرین کے بارے میں سات عام غلط فہمیاں
- «قرین میرے اندر دوسری روح ہے»۔ صحیح حدیث میں جنات سے ایک ساتھی کے تقرر کا بیان ہے، انسان کے اندر دوسری انسانی روح کا نہیں۔
- «قرآن میں جہاں قرین آیا ہے، وہی ایک شیطان مراد ہے»۔ مختلف آیات کے سیاق اور تفسیری توضیحات الگ ہیں۔
- «قرین لازماً میرا مستقبل جانتا ہے»۔ یہاں پیش کردہ معتبر نصوص میں ایسے علمِ غیب کا ثبوت نہیں۔
- «ہر خواب میں دکھائی دینے والا سایہ قرین ہے»۔ خواب سے یہ شناخت ثابت کرنے کا کوئی عمومی شرعی اصول پیش نہیں کیا گیا۔
- «قرین گناہ کروا دے تو میں ذمہ دار نہیں»۔ قرآن انسانی انتخاب اور آخرت کی جواب دہی کو برقرار رکھتا ہے۔
- «قرین کا نام معلوم کرنے کے لیے عامل ضروری ہے»۔ صحیح حدیث میں ایسا کوئی طریقہ بیان نہیں ہوا۔
- «خفیہ عملیات مسنون ذکر سے زیادہ طاقت ور ہیں»۔ ثابت شدہ دینی رہنمائی اللہ کی پناہ اور عبادت کی طرف بلاتی ہے، بے سند تجربوں کی طرف نہیں۔
ان غلط فہمیوں کی اصلاح کا مقصد غیب کے وجود کو جھٹلانا نہیں، بلکہ غیب کے بارے میں اتنی ہی بات کہنا ہے جتنی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے بتائی ہے۔ علم اور تجسس کے درمیان یہی حد ہمیں بے بنیاد حکایات سے محفوظ رکھتی ہے۔
قارئین کے اہم سوالات
کیا چھوٹے بچوں کے ساتھ بھی قرین ہوتا ہے؟
صحیح مسلم میں بیان عمومی ہے۔ لیکن اس روایت میں بچے کے ساتھ قرین کے تقرر کے عین لمحے، اس کی عمر کے حساب سے خصوصی مراحل یا نومولود کے قرین کی شناخت کا کوئی طریقہ نہیں بتایا گیا۔ ایسی تفصیل گھڑ کر حدیث کا حصہ نہیں بنانی چاہیے۔
کیا انسان کے مرنے کے بعد اس کا قرین بھی مر جاتا ہے؟
یہاں بیان کیے گئے مستند دلائل سے ہر انفرادی قرین کی عمر یا موت کے متعلق مکمل تفصیل سامنے نہیں آتی۔ قرآن آخرت میں شیطانی ساتھی کی گفتگو بیان کرتا ہے؛ مگر قرین کی دنیاوی موت، قبر یا بعد کے تمام حالات کے بارے میں قطعی کہانی سنانا زائد دعویٰ ہوگا۔
کیا قرین خواب میں کسی رشتے دار کی شکل اختیار کرتا ہے؟
صرف قرین کا وجود ثابت ہونے سے کسی مخصوص خواب کی تعبیر یہ نہیں ہو جاتی کہ اس میں لازماً اسی قرین نے رشتے دار کی صورت بنائی تھی۔ خواب اور غیبی امور کے باب میں بے دلیل قطعیت سے پرہیز کرنا چاہیے۔ خواب کے مسنون آداب الگ موضوع ہیں۔
کیا قرآن میں قرین کا لفظ موجود ہے؟
جی ہاں۔ مثلاً سورۂ زخرف ۴۳:۳۶ اور سورۂ ق ۵۰:۲۷ میں اس کا ذکر ہے۔ جبکہ ہر شخص کے جناتی قرین کے عمومی تقرر کی صریح خبر صحیح مسلم ۲۸۱۴ میں ملتی ہے۔ ان حوالوں کو سیاق کے ساتھ پڑھنے سے بات زیادہ درست سمجھ میں آتی ہے۔
کیا حضور ﷺ کے قرین نے اسلام قبول کیا تھا؟
حدیث کے عربی الفاظ کی تشریح میں اہلِ علم کے ہاں دو مشہور قراءتی و معنوی توضیحات مذکور ہیں؛ ایک میں قرین کا اسلام یا تابع ہونا، دوسری میں حضور ﷺ کا اس کے شر سے محفوظ ہونا بیان کیا گیا۔ اصل روایت اور شرحی گفتگو ساتھ دیکھنا بہتر ہے۔
کیا قرین ہونا ایمان کی کمزوری کی نشانی ہے؟
نہیں۔ صحیح مسلم میں اس کے تقرر کو عمومی انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ کسی شخص کی دینی قدر کا معیار اس عنوان کے تحت قرین کا وجود یا عدمِ وجود نہیں۔ ایمان، تقویٰ، اعمال، توبہ اور اللہ تعالیٰ سے تعلق اصل توجہ کے مستحق ہیں۔
روزانہ کون سا ذکر شروع کیا جائے؟
سب سے پہلے فرض عبادات، سچی توبہ اور اللہ تعالیٰ پر اعتماد کو اہمیت دیجیے۔ وسوسہ آئے تو استعاذہ کیجیے، قرآن کی تلاوت کیجیے اور سونے سے پہلے آیت الکرسی جیسے مستند اذکار کا اہتمام کیجیے۔ ان اعمال کو کسی جن سے گفتگو کرانے کا ذریعہ نہ بنائیے؛ ان کا اصل مقصد بندگی ہے۔
نتیجہ: پوشیدہ ساتھی سے زیادہ اہم اپنا راستہ ہے
اب اصل سوال کا جواب واضح ہو چکا ہے: صحیح مسلم ۲۸۱۴ کے مطابق ہر انسان کے ساتھ جنات میں سے ایک قرین مقرر ہے۔ قرآنِ کریم شیطانی رفاقت، غفلت، وسوسے، آخرت کے انجام اور انسان کی جواب دہی کا گہرا سبق دیتا ہے۔ لیکن انہی نصوص میں قرین کا ذاتی نام، خاص چہرہ، پسندیدہ جگہ، مستقبل بتانے کی صلاحیت یا اسے قابو کرنے کا کوئی عمومی خفیہ عمل موجود نہیں۔
اس موضوع کو پڑھنے کے بعد اگر دل میں قرآن سے قریب ہونے، اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے، روزمرہ ذکر کی پابندی کرنے اور اپنے اعمال کا محاسبہ کرنے کا جذبہ پیدا ہو تو قرین کی بحث کا حقیقی روحانی فائدہ سامنے آتا ہے۔ غیب کے بارے میں ایمان رکھیے، بے سند خوف نہ پھیلائیے، اور یاد رکھیے کہ شیطانی دعوت انسان کا مقدر نہیں بن جاتی۔ اللہ کی طرف رجوع اور حق پر قائم رہنے کی کوشش ہمیشہ اصل راستہ ہے۔
بنیادی مآخذ اور مزید مطالعہ
- صحیح مسلم ۲۸۱۴ الف — جناتی قرین کی روایت
- صحیح مسلم ۲۸۱۴ ب — فرشتے کے ساتھی کا اضافہ
- سورۂ زخرف ۴۳:۳۶ تا ۳۸ — شیطانی رفاقت
- سورۂ فصلت ۴۱:۲۵ — برائی کی آرائش
- سورۂ ق ۵۰:۲۳ تا ۲۷ — قرین اور قیامت
- معارف القرآن، تفسیر سورۂ ق ۵۰:۲۷
- سورۂ ابراہیم ۱۴:۲۲ — شیطان کا اعتراف
- سورۂ اعراف ۷:۲۰۰ تا ۲۰۱ — استعاذہ اور ذکر
- سورۂ ناس — حفاظت کی قرآنی دعا
- صحیح بخاری ۳۲۷۵ — آیت الکرسی کی فضیلت
- صحیح مسلم ۷۸۰ — سورۂ بقرہ کی تلاوت
- صحیح مسلم ۲۰۱۸ الف — گھر میں داخلے اور کھانے کا ذکر