تصور کیجیے کہ ایک شخص کے سامنے ریت کی ہموار سطح یا کاغذ رکھا ہے۔ وہ اس پر بے شمار چھوٹے چھوٹے نقطے بناتا ہے، پھر ان نقطوں کو ایک خاص اصول سے گنتا ہے اور ان سے مختلف اشکال تیار کرتا ہے۔

ہر شکل کی چار سطریں ہوتی ہیں اور ہر سطر میں ایک یا دو نقطے ہوتے ہیں۔

ان اشکال کو مخصوص ترتیب سے ملایا جاتا ہے۔ پھر حاصل ہونے والے نقش کو اس سوال کے حوالے سے دیکھا جاتا ہے جس کے لیے یہ عمل کیا گیا تھا۔

یہ علمِ رمل کے معروف روایتی طریقے کی بنیادی صورت ہے۔

قدیم زمانے میں اس علم سے واقف لوگ سفر، روزگار، تجارت، رشتوں، جائیداد، اختلافات اور زندگی کے دوسرے معاملات سے متعلق سوالات کا جائزہ لینے کی کوشش کرتے تھے۔

لیکن یہ علم اصل میں ہے کیا؟ اسے رمل کیوں کہا جاتا ہے؟ اس کی سولہ اشکال کون سی ہیں؟ اور چند نقطوں سے ایک مکمل نقش کیسے تیار ہوتا ہے؟

ان باتوں کو سمجھنے کے لیے علمِ رمل کے مقصد، تاریخ، حسابی اصول اور روایتی تعبیر کو الگ الگ جاننا ضروری ہے۔

علمِ رمل کیا ہے؟

عربی زبان میں رمل کے معنی ریت کے ہیں۔

علمِ رمل ایک قدیم روایتی طریقہ ہے جس میں مخصوص نشانوں یا نقطوں سے اشکال تیار کی جاتی ہیں اور پھر ان کی ترتیب اور نسبتوں کی مدد سے مختلف سوالات کی تعبیر کی کوشش کی جاتی ہے۔

عربی تاریخی تحریروں میں اس کے لیے خط الرمل اور ضرب الرمل جیسی اصطلاحات بھی ملتی ہیں۔

اس طریقے کی بنیاد چند اہم مراحل پر ہے۔

سب سے پہلے نقطوں کی سطریں بنائی جاتی ہیں۔ پھر معلوم کیا جاتا ہے کہ ہر سطر میں نقطوں کی تعداد طاق ہے یا جفت۔

طاق تعداد کو ایک نقطے سے اور جفت تعداد کو دو نقطوں سے ظاہر کیا جاتا ہے۔

چار سطروں سے ایک شکل بنتی ہے۔

ایسی چار ابتدائی اشکال تیار کرنے کے بعد مخصوص حساب سے باقی اشکال نکالی جاتی ہیں۔

آخر میں حاصل ہونے والے نقش کو متعلقہ سوال اور روایتی تعبیر کے اصولوں کے مطابق پڑھا جاتا ہے۔

یہاں ایک ضروری فرق سمجھ لیجیے۔

رمل کا نقش بنانا ایک حسابی طریقہ ہے، جبکہ اس نقش سے کسی سوال کی تعبیر کرنا اس علم کی روایتی تشریح کا مرحلہ ہے۔

دونوں مراحل ایک دوسرے سے متعلق ضرور ہیں، لیکن ایک ہی چیز نہیں۔

علمِ رمل کیوں استعمال کیا جاتا ہے؟

اس علم کا بنیادی روایتی مقصد کسی مخصوص سوال یا معاملے کے بارے میں اشارات اور رہنمائی حاصل کرنے کی کوشش کرنا تھا۔

مثلاً کوئی شخص سفر کا ارادہ رکھتا ہے اور یہ جاننا چاہتا ہے کہ روایتی رمل کے مطابق اس سفر کی کیا کیفیت ظاہر ہوتی ہے۔

کسی دوسرے شخص کے سامنے کاروبار کا معاملہ ہے اور وہ اس بارے میں سوال کرتا ہے۔

کسی کو اپنے رشتے، جائیداد، اختلاف یا روزگار کے متعلق فکر ہے۔

قدیم اہلِ رمل ایسے سوالات کے لیے نقش تیار کرتے اور اس کے متعلقہ خانوں اور اشکال کا مطالعہ کرتے تھے۔

رمل کی ایک خاص بات یہ ہے کہ اس میں سوال کی نوعیت اہم ہوتی ہے۔

سفر کا سوال، شادی کا سوال اور تجارت کا سوال لازماً ایک ہی انداز میں نہیں پڑھا جاتا۔

سوال جس موضوع سے تعلق رکھتا ہے، اس کے مطابق متعلقہ اشکال اور خانے زیرِ غور لائے جاتے ہیں۔

اسی لیے علمِ رمل میں صرف سولہ اشکال کے نام یاد کرلینا کافی نہیں، بلکہ ان کی جگہ اور باہمی تعلق کو بھی سمجھنا ضروری ہے۔

علمِ رمل کا تاریخی پس منظر

علمِ رمل کی روایت قرونِ وسطیٰ کے اسلامی علمی ماحول میں نمایاں طور پر موجود تھی۔

اس کے قدیم عربی متون، بعد کے فارسی اور ترکی مخطوطات اور تاریخی آلات آج بھی اس روایت کے مطالعے کا اہم ذریعہ ہیں۔

وقت کے ساتھ یہ طریقہ دوسرے علاقوں میں بھی پہنچا، جہاں اس کے ناموں اور تعبیرات میں مختلف انداز سامنے آئے۔

تیرہویں صدی کا ایک تاریخی آلہ

لندن کے برٹش میوزیم میں علمِ رمل سے متعلق ایک غیر معمولی تاریخی آلہ محفوظ ہے۔

اس پر ۶۳۹ ہجری کی تاریخ درج ہے، جو ۱۲۴۱ء سے ۱۲۴۲ء کے زمانے سے مطابقت رکھتی ہے۔

اس کے بنانے والے کا نام محمد بن ختلخ الموصلی درج ہے، اور غالب امکان ہے کہ یہ آلہ دمشق میں تیار ہوا تھا۔

یہ دھاتی آلہ سونے اور چاندی کی آرائش، گھومنے والے دائروں اور رمل کی اشکال سے متعلق تحریروں پر مشتمل ہے۔

اس کی اہمیت یہ ہے کہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اہلِ فن رمل کی اشکال بنانے کے لیے صرف ریت پر نقطے ہی نہیں بناتے تھے، بلکہ بعض اوقات مخصوص آلات بھی استعمال ہوتے تھے۔

آلے پر موجود تحریریں رمل کے مختلف خانوں اور ان سے متعلق سوالات کو بھی ظاہر کرتی ہیں۔

قدیم مخطوطات میں علمِ رمل

رمل کے تاریخی مخطوطات میں نقطے بنانے، اشکال نکالنے، انہیں مختلف خانوں میں رکھنے اور پھر تعبیر کرنے کے طریقے بیان کیے گئے ہیں۔

بعض روایات میں اشکال کے ساتھ سیاروں، عناصر اور نجومی گھروں کی نسبتیں بھی بیان ہوتی ہیں۔

امریکا کی جامعہ الینوائے کی مخطوطات کی لائبریری میں ۱۵۹۱ء کا ایک عثمانی ترکی مخطوطہ بھی محفوظ ہے، جو رمل کی تاریخی روایت کا ایک اور نمونہ ہے۔

یہ شواہد بتاتے ہیں کہ علمِ رمل مختلف خطوں اور زبانوں میں زیرِ مطالعہ رہا۔

علمِ رمل کی ابتدا سے متعلق روایات

بعض قدیم روایات میں اس علم کو حضرت ادریس علیہ السلام یا دوسری قدیم شخصیات سے منسوب کیا گیا ہے۔

ان روایات کا ذکر تاریخی کتابوں میں ملتا ہے، لیکن ہر نسبت کو قطعی تاریخی حقیقت یا مستند دینی روایت قرار دینا درست نہیں۔

ایسی روایات کو متعلقہ کتاب اور اس کی تاریخی حیثیت کے تناظر میں سمجھنا چاہیے۔

علمِ رمل کن کاموں کے لیے استعمال ہوتا تھا؟

علمِ رمل کے روایتی استعمالات کئی موضوعات سے متعلق تھے۔

سفر اور نقل و حرکت

اہلِ رمل سے سفر، دوسرے علاقے جانے یا کسی جگہ سے منتقل ہونے کے بارے میں سوال کیا جاتا تھا۔

ایسی صورت میں سفر سے متعلق خانے اور ان میں موجود اشکال دیکھی جاتی تھیں۔

کاروبار اور روزگار

کسی تجارت کے آغاز، خرید و فروخت، مالی معاملے یا روزگار کے متعلق سوالات بھی کیے جاتے تھے۔

شادی اور تعلقات

بعض روایتی استعمالات میں شادی، رشتے، باہمی تعلقات، اختلافات اور صلح کے معاملات شامل تھے۔

زمین اور جائیداد

زمین، مکان، مال و دولت اور بعض گم شدہ اشیا کے معاملات بھی رمل کے سوالات میں شامل ہوتے تھے۔

اختلافات اور مخالفین

کسی تنازع، مخالفت یا دو فریقوں کے درمیان معاملے سے متعلق سوال بھی کیا جاتا تھا۔

دوسرے ذاتی معاملات

قدیم روایات میں اولاد، سماجی حیثیت، امیدوں اور مختلف ذمہ داریوں سے متعلق سوالات بھی ملتے ہیں۔

ان مثالوں سے واضح ہوتا ہے کہ لوگ اس علم کی طرف کیوں رجوع کرتے تھے اور اہلِ فن کن معاملات کو سمجھنے کی کوشش کرتے تھے۔

البتہ کسی سوال کے لیے رمل کا نقش بنانا اس کے نتیجے کی قطعی ضمانت نہیں۔

علمِ رمل سے انسان کیا جان سکتا ہے؟

اس علم کا باقاعدہ مطالعہ کرنے والا شخص کئی چیزیں سیکھ سکتا ہے۔

سب سے پہلے وہ یہ جان سکتا ہے کہ نقطوں سے ابتدائی اشکال کیسے بنتی ہیں۔

پھر وہ ان اشکال سے مزید اشکال نکالنے کا حساب سیکھتا ہے۔

اسے معلوم ہوتا ہے کہ سولہ بنیادی شکلیں کون سی ہیں اور ان کے روایتی نام کیا ہیں۔

اس کے بعد وہ سمجھتا ہے کہ مکمل نقش میں مختلف اشکال کس مقام پر آتی ہیں۔

مزید مطالعے سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ قدیم اہلِ فن سفر، روزگار، شادی اور دوسرے سوالات کے لیے مختلف خانوں کو کیوں اہم سمجھتے تھے۔

اس طرح علمِ رمل کے طالبِ علم کے سامنے دو بنیادی جہتیں آتی ہیں:

حساب کی جہت: نقش میں کون سی اشکال حاصل ہوئی ہیں؟

تعبیر کی جہت: متعلقہ روایت ان اشکال اور ان کی جگہوں سے کیا معنی اخذ کرتی ہے؟

یہ فرق سیکھنے سے رمل کے حساب اور اس کی تعبیر دونوں کو زیادہ واضح انداز میں سمجھا جاسکتا ہے۔

رمل میں طاق اور جفت نقطوں کا اصول

رمل کے بنیادی حساب کو سمجھنا بہت آسان ہے۔

اس میں سب سے پہلے نقطوں کی تعداد دیکھی جاتی ہے۔

اگر تعداد طاق ہو تو نتیجہ ایک نقطہ ہوگا۔

اگر تعداد جفت ہو تو نتیجہ دو نقطے ہوں گے۔

مثلاً:

اصل نقطےتعداد کی نوعیترمل کا نتیجہ
۷طاق•
۸جفت••
۱۱طاق•
۱۴جفت••
۱۹طاق•
۲۲جفت••

فرض کریں آپ نے ایک سطر میں تیرہ نقطے بنائے۔

تیرہ ایک طاق عدد ہے۔

لہٰذا آخری نتیجے میں صرف ایک نقطہ لکھا جائے گا۔

اسی طرح اگر سطر میں اٹھارہ نقطے ہوں تو یہ جفت تعداد ہے اور نتیجے میں دو نقطے لکھے جائیں گے۔

رمل کے اس طریقے میں ابتدائی نقطوں کی مجموعی تعداد آخری شکل میں باقی نہیں رہتی، بلکہ اس کی طاق یا جفت حیثیت اہم ہوتی ہے۔

رمل کی ایک شکل کیسے بنتی ہے؟

رمل کی ہر بنیادی شکل چار سطروں پر مشتمل ہوتی ہے۔

ہر سطر میں ایک یا دو نقطے ہوتے ہیں۔

مثلاً:

• •• • ••

اس شکل کو عددی انداز میں یوں لکھ سکتے ہیں:

۱، ۲، ۱، ۲

ایک دوسری شکل دیکھیے:

•• • • ••

اس کی عددی ترتیب ہوگی:

۲، ۱، ۱، ۲

ان ترتیبوں کو ہمیشہ اوپر سے نیچے پڑھا جاتا ہے۔

اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ رمل میں سولہ اشکال ہی کیوں ہیں؟

اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر شکل میں چار سطریں ہوتی ہیں اور ہر سطر کے صرف دو امکانات ہیں۔

یعنی:

۲ × ۲ × ۲ × ۲ = ۱۶

اس طرح مجموعی طور پر سولہ مختلف بنیادی اشکال بن سکتی ہیں۔

یہ بات یاد رہے کہ سولہ بنیادی اشکال سے مراد سولہ مختلف قسم کی شکلیں ہیں۔

ایک مکمل نقش کے مختلف خانوں میں ایک ہی شکل دوبارہ بھی آسکتی ہے۔

رمل کی سولہ معروف اشکال اور ان کے معانی

قدیم عربی، فارسی اور یورپی روایات میں سولہ اشکال کے مختلف نام ملتے ہیں۔

ذیل میں ان کے معروف لاطینی ناموں کو اردو تلفظ میں لکھا گیا ہے۔ یہ نام بنیادی طور پر تاریخی پہچان کے لیے ہیں؛ مختلف عربی یا فارسی کتابوں میں ان کے متبادل نام مل سکتے ہیں۔

شکل کا معروف نامعمومی روایتی نسبت
ویاراستہ، سفر، حرکت
پوپولساجتماع، لوگوں کا اثر
فورچونا میجربڑی کامیابی، پائیدار ترقی
فورچونا مائنرمحدود یا عارضی کامیابی
ایکویزیشیوحصول، فائدہ
امیسیونقصان، کسی چیز کا چھوٹنا
لائٹیشیاخوشی، بلندی
ٹرسٹیشیاغم، بوجھ
پوئرجوش، قوت، مقابلہ
پوئیلانرمی، کشش، موافقت
البسوضاحت، سکون
روبیئسشدت، بے چینی
کنجنکشیوملاپ، اتصال
کارسررکاوٹ، پابندی
کیپٹ ڈراکونسابتدا، داخلہ
کاوڈا ڈراکونساختتام، روانگی

ان ناموں کے مختصر معانی صرف بنیادی تعارف کے لیے ہیں۔

کسی شکل کو ہر سوال میں لازماً سعد یا نحس قرار دینا درست نہیں، کیونکہ تعبیر میں سوال کی نوعیت اور شکل کی جگہ بھی اہم ہوتی ہے۔

مثلاً حرکت سے متعلق ایک شکل سفر کے سوال میں الگ معنی رکھ سکتی ہے، جبکہ کسی مستقل معاملے میں اسی شکل کو مختلف انداز میں دیکھا جاسکتا ہے۔

رمل کا مکمل نقش کن حصوں پر مشتمل ہوتا ہے؟

رمل کے ایک معروف طریقے میں مکمل نقش کئی مرحلوں سے بنتا ہے۔

ان مراحل کے روایتی نام درج ذیل ہیں:

امہات: چار ابتدائی اشکال

بنات: امہات سے نکلنے والی چار اشکال

حفیدات یا متولدات: اگلی چار اشکال

شاہدین: دو مزید اشکال

میزان یا حاکم: آخری بنیادی فیصلہ کن شکل

عاقبت العاقبہ: بعض طریقوں میں شامل کی جانے والی سولہویں شکل

یوں پندرہ بنیادی مقامات اور بعض روایات میں سولہواں اضافی مقام حاصل ہوتا ہے۔

اب ہم ایک ہی مکمل مثال سے ان تمام مراحل کا حساب سیکھتے ہیں۔

پہلا مرحلہ: چار امہات بنانا

سب سے پہلے سولہ سطروں میں نقطے بنائے جاتے ہیں۔

روایتی طریقے میں ابتدائی نقطے بناتے وقت ان کی تعداد کو جان بوجھ کر مقرر نہیں کیا جاتا۔

بعد میں ان کی گنتی کرکے طاق یا جفت معلوم کیا جاتا ہے۔

ہر چار سطروں سے ایک ابتدائی شکل بنتی ہے۔

اس طرح چار امہات تیار ہوجاتی ہیں۔

آسانی کے لیے فرض کریں کہ ہمیں یہ اعداد ملے:

امہاتاصل نقطوں کی تعدادحاصل ہونے والی شکل
پہلی۸، ۷، ۹، ۵۲، ۱، ۱، ۱
دوسری۱۱، ۶، ۱۳، ۱۰۱، ۲، ۱، ۲
تیسری۱۲، ۱۴، ۷، ۹۲، ۲، ۱، ۱
چوتھی۶، ۱۰، ۸، ۱۱۲، ۲، ۲، ۱

یہ چاروں ہماری ابتدائی اشکال ہیں۔

آگے پورا نقش انہی سے نکالا جائے گا۔

یہ فرضی تعلیمی اعداد ہیں تاکہ قاری ہر نتیجے کو خود بھی جانچ سکے۔

دوسرا مرحلہ: چار بنات نکالنا

اب امہات سے چار بنات تیار کی جاتی ہیں۔

اس کا طریقہ یہ ہے کہ پہلی بنت میں چاروں امہات کی پہلی پہلی سطر لی جائے۔

دوسری بنت میں چاروں امہات کی دوسری دوسری سطر لی جائے۔

تیسری بنت میں چاروں امہات کی تیسری سطر لی جائے۔

چوتھی بنت میں چاروں امہات کی چوتھی سطر لی جائے۔

اس اصول کے مطابق:

بناتطریقہنتیجہ
پہلی بنتچاروں امہات کی پہلی سطر۲، ۱، ۲، ۲
دوسری بنتچاروں امہات کی دوسری سطر۱، ۲، ۲، ۲
تیسری بنتچاروں امہات کی تیسری سطر۱، ۱، ۱، ۲
چوتھی بنتچاروں امہات کی چوتھی سطر۱، ۲، ۱، ۱

یہاں کوئی نئے نقطے نہیں بنائے گئے۔

صرف امہات کی موجودہ سطروں کو ایک نئی ترتیب دی گئی ہے۔

تیسرا مرحلہ: اشکال کو جمع کرنے کا اصول

اب ہم رمل کے ایک اہم حسابی اصول کی طرف آتے ہیں۔

دو اشکال کو ملانے کے لیے ان کی پہلی پہلی سطر، پھر دوسری دوسری سطر اور اسی طرح باقی سطریں ملائی جاتی ہیں۔

لیکن یہاں عام جمع کے بعد حاصل ہونے والے عدد کو براہِ راست نہیں لکھا جاتا۔

بلکہ دیکھا جاتا ہے کہ اس کا نتیجہ طاق ہے یا جفت۔

قاعدہ یہ ہے:

پہلا عدددوسرا عددرمل کا نتیجہ
۱۱۲
۱۲۱
۲۱۱
۲۲۲

مثلاً:

۱ + ۱ = ۲

چونکہ دو جفت ہے، اس لیے نتیجہ دو ہوگا۔

۱ + ۲ = ۳

چونکہ تین طاق ہے، اس لیے نتیجہ ایک ہوگا۔

۲ + ۲ = ۴

چونکہ چار جفت ہے، اس لیے نتیجہ دو ہوگا۔

یعنی آخری سطر میں ہمیشہ ایک یا دو نقطے ہی آئیں گے۔

اسی اصول کی مدد سے اگلی اشکال تیار ہوں گی۔

چوتھا مرحلہ: چار حفیدات نکالنا

اب چار امہات اور چار بنات سے اگلی چار اشکال بنائی جاتی ہیں۔

انہیں بعض روایات میں حفیدات یا متولدات کہا جاتا ہے۔

ترتیب یوں ہے:

پہلی حفیدہ = پہلی ام + دوسری ام

دوسری حفیدہ = تیسری ام + چوتھی ام

تیسری حفیدہ = پہلی بنت + دوسری بنت

چوتھی حفیدہ = تیسری بنت + چوتھی بنت

اب پچھلے قاعدے سے حساب کریں۔

حفیداتکن اشکال سے بنیںنتیجہ
پہلیپہلی اور دوسری ام۱، ۱، ۲، ۱
دوسریتیسری اور چوتھی ام۲، ۲، ۱، ۲
تیسریپہلی اور دوسری بنت۱، ۱، ۲، ۲
چوتھیتیسری اور چوتھی بنت۲، ۱، ۲، ۱

آئیے پہلی حفیدہ کا حساب دیکھتے ہیں۔

پہلی ام:

۲، ۱، ۱، ۱

دوسری ام:

۱، ۲، ۱، ۲

اب ہر سطر کو ملائیں۔

۲ + ۱ = ۳، لہٰذا نتیجہ ۱

۱ + ۲ = ۳، لہٰذا نتیجہ ۱

۱ + ۱ = ۲، لہٰذا نتیجہ ۲

۱ + ۲ = ۳، لہٰذا نتیجہ ۱

اس طرح پہلی حفیدہ ہوگی:

۱، ۱، ۲، ۱

باقی تین حفیدات بھی اسی اصول کے مطابق نکالی جائیں گی۔

پانچواں مرحلہ: دو شاہد نکالنا

اب چار حفیدات کو دو دو کرکے ملایا جاتا ہے۔

پہلا شاہد = پہلی حفیدہ + دوسری حفیدہ

دوسرا شاہد = تیسری حفیدہ + چوتھی حفیدہ

پہلی حفیدہ:

۱، ۱، ۲، ۱

دوسری حفیدہ:

۲، ۲، ۱، ۲

دونوں کو ملانے سے نتیجہ ہوگا:

پہلا شاہد = ۱، ۱، ۱، ۱

اب تیسری اور چوتھی حفیدہ کو ملائیں۔

تیسری حفیدہ:

۱، ۱، ۲، ۲

چوتھی حفیدہ:

۲، ۱، ۲، ۱

حاصل ہوگا:

دوسرا شاہد = ۱، ۲، ۲، ۱

یہ دونوں شاہد مکمل نقش کی اہم اشکال ہیں۔

روایتی تعبیر میں ان سے مختلف خلاصے اخذ کیے جاتے ہیں، لیکن ان کی دقیق تعبیر طریقے اور متعلقہ کتاب کے مطابق بدل سکتی ہے۔

چھٹا مرحلہ: میزان یا حاکم نکالنا

اب دونوں شاہدوں کو آپس میں ملایا جاتا ہے۔

پہلا شاہد:

۱، ۱، ۱، ۱

دوسرا شاہد:

۱، ۲، ۲، ۱

ہر سطر کا حساب ہوگا:

۱ + ۱ = ۲، نتیجہ ۲

۱ + ۲ = ۳، نتیجہ ۱

۱ + ۲ = ۳، نتیجہ ۱

۱ + ۱ = ۲، نتیجہ ۲

اس طرح:

میزان = ۲، ۱، ۱، ۲

یہ مکمل نقش کا پندرہواں بنیادی مقام ہے۔

بعض روایات میں اس شکل کو سوال کی مجموعی تعبیر کے لیے خاص اہمیت دی جاتی ہے۔

تاہم میزان کو پورے نقش اور سوال کی نوعیت سے الگ کرکے پڑھنا ہر طریقے میں مکمل تعبیر نہیں سمجھا جاتا۔

ساتواں مرحلہ: عاقبت العاقبہ نکالنا

بعض طریقوں میں ایک اضافی سولہویں شکل بھی نکالی جاتی ہے۔

اسے عاقبت العاقبہ یا نتیجے کا نتیجہ کہا جاتا ہے۔

اس کے لیے پہلی ام اور میزان کو ملایا جاتا ہے۔

پہلی ام:

۲، ۱، ۱، ۱

میزان:

۲، ۱، ۱، ۲

حاصل ہوگا:

عاقبت العاقبہ = ۲، ۲، ۲، ۱

یہ اضافی شکل بعض روایتی طریقوں میں مزید تعبیر کے لیے شامل کی جاتی ہے۔

ہماری مثال کا مکمل رمل نقش

اب پورے حساب کے نتائج ایک ہی جدول میں دیکھتے ہیں۔

مقامشکلعددی ترتیب
۱پہلی ام۲، ۱، ۱، ۱
۲دوسری ام۱، ۲، ۱، ۲
۳تیسری ام۲، ۲، ۱، ۱
۴چوتھی ام۲، ۲، ۲، ۱
۵پہلی بنت۲، ۱، ۲، ۲
۶دوسری بنت۱، ۲، ۲، ۲
۷تیسری بنت۱، ۱، ۱، ۲
۸چوتھی بنت۱، ۲، ۱، ۱
۹پہلی حفیدہ۱، ۱، ۲، ۱
۱۰دوسری حفیدہ۲، ۲، ۱، ۲
۱۱تیسری حفیدہ۱، ۱، ۲، ۲
۱۲چوتھی حفیدہ۲، ۱، ۲، ۱
۱۳پہلا شاہد۱، ۱، ۱، ۱
۱۴دوسرا شاہد۱، ۲، ۲، ۱
۱۵میزان۲، ۱، ۱، ۲
۱۶عاقبت العاقبہ۲، ۲، ۲، ۱

اس طرح ہمارا مکمل تعلیمی نقش تیار ہوگیا۔

اس نقش میں ہر شکل ایک واضح حسابی اصول کے تحت نکالی گئی ہے۔

البتہ اسے کسی مخصوص شخص کے سوال کی تعبیر نہیں سمجھنا چاہیے، کیونکہ یہاں ہم نے اصل مقصد حساب سکھانا رکھا ہے۔

رمل کے حساب کی درستگی کیسے جانچی جائے؟

رمل کے اس معروف طریقے میں میزان کی شکل ایک اہم حسابی جانچ فراہم کرتی ہے۔

درست طریقے سے بننے والے میزان میں ایک نقطے والی سطروں کی تعداد جفت ہوتی ہے۔

ہماری مثال میں میزان:

۲، ۱، ۱، ۲

اس میں ایک نقطے والی دو سطریں ہیں۔

دو جفت عدد ہے، لہٰذا ہمارا نتیجہ اس حسابی جانچ پر پورا اترتا ہے۔

اگر اسی طریقے سے کسی نقش کا میزان ایسا بنے جس میں ایک نقطے والی سطروں کی تعداد ایک یا تین ہو، تو حساب یا نقل میں غلطی تلاش کرنی چاہیے۔

یہ اصول ہاتھ سے نقش بنانے والے طالبِ علم کے لیے مفید ہے۔

علمِ رمل کے بارہ گھر کیا ہیں؟

علمِ رمل کی بعض تفصیلی روایات میں پہلے بارہ مقامات کو زندگی کے مختلف موضوعات سے منسوب گھروں کی صورت میں بھی پڑھا جاتا ہے۔

یہ تقسیم تاریخی نجومی گھروں سے مشابہت رکھتی ہے۔

ان کے عمومی موضوعات درج ذیل ہیں:

گھرعمومی روایتی موضوع
پہلاسوال کرنے والا، ذاتی معاملات
دوسرامال، دولت، ملکیت
تیسرابہن بھائی، رابطے، قریبی معاملات
چوتھاوالدین، زمین، گھر
پانچواںاولاد، خوشی، تخلیقی امور
چھٹابیماری، مشکلات، خدمت
ساتواںشادی، شراکت، فریقِ مقابل
آٹھواںوفات، نقصان، دشوار تبدیلیاں
نواںسفر، دین، دور دراز معاملات
دسواںمرتبہ، اختیار، سماجی مقام
گیارہواںامیدیں، دوست، تعاون
بارہواںدشمن، پوشیدہ مخالفت، پابندیاں

یہ مختلف روایات میں ملنے والے عمومی عنوانات ہیں۔ ان کی تفصیلات اور تعبیر میں اختلاف ہوسکتا ہے۔

اس تقسیم کو سمجھنے سے واضح ہوتا ہے کہ علمِ رمل میں ایک ہی نقش سے مختلف موضوعات کا جائزہ لینے کی کوشش کس بنیاد پر کی جاتی تھی۔

عملی مثال: سفر کے متعلق سوال

فرض کریں کوئی شخص سوال کرتا ہے:

کیا میرے مجوزہ سفر کے متعلق رمل میں کوئی موافق یا غیر موافق اشارہ ملتا ہے؟

گھروں کی بنیاد پر تعبیر کرنے والا اہلِ فن سفر سے متعلق خانے کو دیکھ سکتا ہے۔

اس نظام میں عموماً نواں گھر سفر سے منسوب ہوتا ہے۔

اب اس خانے میں موجود شکل کی روایتی خصوصیات دیکھی جائیں گی۔

اگر وہاں حرکت سے وابستہ شکل آئے تو اسے سوال کی نوعیت کے مطابق سمجھنے کی کوشش ہوگی۔

اگر پابندی یا رکاوٹ سے متعلق شکل آئے تو اس کی دوسری تعبیر زیرِ غور آسکتی ہے۔

لیکن مکمل مطالعے میں صرف ایک شکل نہیں بلکہ سوال کرنے والے سے متعلق خانہ، دوسرے متعلقہ مقامات اور میزان بھی دیکھے جاسکتے ہیں۔

اس مثال کا مقصد یہ سمجھانا ہے کہ علمِ رمل میں کسی سوال کی تعبیر نقش کی اشکال اور ان کے مقامات کے تعلق سے کی جاتی ہے۔

صرف سفر کا خانہ دیکھ کر کسی حقیقی سفر کے نتیجے کی قطعی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔

عملی مثال: روزگار اور کاروبار کا سوال

اب فرض کریں کسی شخص کو کاروبار شروع کرنا ہے۔

وہ اس معاملے کے متعلق رمل کی روایتی تعبیر جاننا چاہتا ہے۔

گھروں کی بنیاد پر کام کرنے والا اہلِ فن مالی معاملات کے لیے دوسرا گھر اور مرتبے یا پیشے سے متعلق معاملات میں دسواں گھر بھی دیکھ سکتا ہے۔

اگر کسی متعلقہ مقام پر حصول یا فائدے سے منسوب شکل موجود ہو تو اسے اس سوال کے تناظر میں زیرِ غور لایا جاسکتا ہے۔

لیکن اس کی حتمی روایتی تعبیر دوسرے متعلقہ مقامات اور اختیار کردہ طریقے کے مطابق ہوگی۔

اس لیے ایک سنجیدہ تعبیر میں یہ واضح ہونا چاہیے کہ کون سی شکل کہاں آئی ہے اور اس سے مخصوص معنی کس اصول کے تحت اخذ کیے گئے ہیں۔

ایک ہی شکل کے مختلف سوالات میں معنی کیوں بدل سکتے ہیں؟

یہ علمِ رمل کو سمجھنے کا نہایت اہم پہلو ہے۔

فرض کریں کسی شکل کے ساتھ روانگی یا تبدیلی کی نسبت بیان ہوتی ہے۔

اگر سوال کسی نئے سفر سے متعلق ہے تو یہ نسبت ایک خاص معنوی پہلو رکھ سکتی ہے۔

لیکن اگر سوال کسی موجودہ چیز کے برقرار رہنے سے متعلق ہے تو وہی نسبت دوسرے انداز میں دیکھی جاسکتی ہے۔

اسی طرح پابندی یا ٹھہراؤ کی نسبت بعض معاملات میں رکاوٹ کا تاثر دے سکتی ہے، جبکہ کسی مستقل انتظام کے سوال میں اس کی تعبیر مختلف ہوسکتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ قدیم رمل کی کتابوں میں صرف اشکال کے نام ہی نہیں، بلکہ خانوں، سوالات اور باہمی نسبتوں کے تفصیلی اصول بھی بیان کیے گئے ہیں۔

علمِ رمل کے روایتی فوائد کیا ہیں؟

۱۔ اوقات اور حالات سے متعلق سوالات کی روایت سمجھنا

یہ علم بتاتا ہے کہ قدیم اہلِ فن غیر یقینی معاملات سے متعلق سوالات کو کس انداز میں مرتب کرتے اور ان کے جواب کے لیے کن علامتی طریقوں سے کام لیتے تھے۔

۲۔ ایک مکمل حسابی طریقہ سیکھنا

نقطوں کی طاق و جفت تقسیم، اشکال کی تشکیل اور مزید اشکال کا اخراج باقاعدہ اصولوں پر قائم ہے۔

طالبِ علم ان اصولوں کو سیکھ کر پورا نقش خود تیار کرسکتا ہے۔

۳۔ روحانی اور تاریخی علوم کی سمجھ

رمل کا مطالعہ ان قدیم علمی روایات کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے جن میں اشکال، اعداد، عناصر اور علامتی نسبتوں کو اہمیت دی جاتی تھی۔

۴۔ مختلف انسانی معاملات کی درجہ بندی

اس علم کے تاریخی نظام میں سفر، مال، تعلقات، گھر، اولاد اور دوسرے امور کے الگ الگ خانے موجود ہیں۔

اس سے قاری کو معلوم ہوتا ہے کہ روایتی اہلِ فن سوالات کو کن عنوانات کے تحت دیکھتے تھے۔

۵۔ قدیم مخطوطات کو سمجھنا

علمِ رمل کا بنیادی حساب سیکھنے کے بعد اس سے متعلق پرانے نقش، جدول اور آلات زیادہ آسانی سے سمجھے جاسکتے ہیں۔

۶۔ دیگر روایتی علوم سے تعلق

بعض تاریخی طریقوں میں رمل کی اشکال کا تعلق علمِ نجوم، عناصر یا علم الحروف سے بھی بیان کیا گیا ہے۔

اس لیے متعلقہ علوم کے مطالعے میں رمل کی واقفیت فائدہ مند ہوسکتی ہے۔

ان علمی فوائد کے علاوہ روایتی اہلِ فن مخصوص معاملات میں اشارات اور رہنمائی حاصل کرنے کے لیے بھی رمل استعمال کرتے تھے۔

اس مقصد کو سمجھنا اس علم کی تاریخ کا بنیادی حصہ ہے، لیکن کسی مخصوص تعبیر کو ہر حال میں یقینی نتیجہ قرار دینا الگ دعویٰ ہے۔

علمِ رمل اور علمِ جفر میں کیا فرق ہے؟

علمِ رمل اور علمِ جفر دونوں روایتی تعبیراتی علوم سے متعلق ہیں، لیکن ان کے بنیادی طریقے مختلف ہیں۔

علمبنیادی طریقہ
علمِ رملطاق اور جفت نقطوں سے اشکال بنانا
علمِ جفرحروف، اعداد اور ان سے متعلق تعبیراتی طریقے
علمِ ابجدحروف کی عددی قدریں معلوم کرنا
علمِ تکسیرحروف کی تفریق، ترتیب اور تبدیلی
علم الحروفحروف کی ساخت، آواز، عددی اور روحانی نسبتوں کا مطالعہ
علمِ ساعتدن اور رات کی سیاروی ساعات معلوم کرنا

مثلاً لفظِ نور کے ابجدی اعداد نکالنا علمِ ابجد کا حساب ہے۔

اس کے برعکس سولہ نقطوں کی سطروں سے چار امہات اور پھر مکمل نقش بنانا علمِ رمل کا طریقہ ہے۔

اسی طرح کسی مخصوص گھڑی کا سیاروی حاکم معلوم کرنا علمِ ساعت سے تعلق رکھتا ہے۔

ان علوم میں بعض تاریخی روابط ضرور موجود ہیں، مگر ان سب کا بنیادی حساب ایک جیسا نہیں۔

متعلقہ مطالعے کے لیے علمِ جفر کیا ہے؟ اور علم الحروف کیا ہے؟ بھی ملاحظہ کریں۔

علمِ رمل سیکھتے وقت عام غلطیاں

اصل نقطوں کو آخری شکل میں جوں کا توں رکھنا

اگر کسی سطر میں تیرہ نقطے بنے ہیں تو رمل کی بنیادی شکل میں ان کی جگہ ایک نقطہ آئے گا۔

عام جمع کے بعد تین یا چار نقطے لکھ دینا

اشکال کو ملانے کے بعد حاصل شدہ تعداد کو طاق یا جفت کے مطابق دوبارہ ایک یا دو نقطوں میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔

بنات نکالنے کا طریقہ غلط سمجھنا

بنات کے لیے چاروں امہات کی متعلقہ سطریں لی جاتی ہیں۔ نئے نقطے نہیں بنائے جاتے۔

اشکال کو غلط جوڑنا

حفیدات، شاہدین اور میزان کی تشکیل میں مخصوص ترتیب استعمال ہوتی ہے۔

سولہ اشکال اور سولہ مقامات کو ایک سمجھنا

سولہ مختلف بنیادی اشکال ہوتی ہیں، لیکن ایک نقش کے مختلف مقامات پر کوئی شکل دوبارہ بھی آسکتی ہے۔

مختلف مکاتب کی تعبیرات کو بلا فرق جمع کردینا

ہر قدیم مصنف کے طریقے کو ایک جیسا نہیں سمجھنا چاہیے۔

کسی بزرگ سے بلا تحقیق طریقہ منسوب کرنا

مشہور تاریخی نسبت اور مستند حوالہ ایک ہی چیز نہیں۔

نقش سے ہر معاملے کا قطعی نتیجہ فرض کرلینا

رمل کا حساب اشکال اور ان کی ترتیب فراہم کرتا ہے۔ ان کی تعبیر اختیار کردہ روایت اور سوال کی نوعیت سے متعلق ہوتی ہے۔

علمِ رمل کے متعلق عام سوالات

علمِ رمل کا لفظی مطلب کیا ہے؟

علمِ رمل کا مطلب ریت کا علم ہے۔ یہ نام ریت پر نقطے اور نشان بنانے کی قدیم روایت سے متعلق ہے۔

کیا رمل صرف ریت پر ہی کیا جاتا ہے؟

نہیں۔ تاریخی طریقوں میں کاغذ اور دوسری سطحیں بھی استعمال ہوتی رہی ہیں، جبکہ بعض قدیم آلات سے بھی اشکال تیار کی جاتی تھیں۔

رمل کی بنیادی اشکال کتنی ہیں؟

سولہ۔ ہر شکل چار سطروں پر مشتمل ہوتی ہے اور ہر سطر میں ایک یا دو نقطے ہوتے ہیں۔

مکمل نقش میں کتنے مقامات ہوتے ہیں؟

معروف طریقے میں پندرہ بنیادی مقامات ہوتے ہیں، جبکہ بعض طریقوں میں سولہواں اضافی مقام بھی استعمال ہوتا ہے۔

امہات اور بنات کیا ہوتی ہیں؟

امہات ابتدائی چار اشکال ہیں۔ انہی کی متعلقہ سطروں سے اگلی چار اشکال بنائی جاتی ہیں جنہیں بنات کہا جاتا ہے۔

کیا رمل کا حساب کرنے کے لیے تاریخِ پیدائش ضروری ہے؟

اس مضمون میں بیان کردہ بنیادی طریقے کے لیے نہیں۔ اس میں ابتدائی نقطوں سے امہات تیار کی جاتی ہیں۔

کیا دو الگ سوالات میں ایک جیسی اشکال آسکتی ہیں؟

جی ہاں۔ ایک ہی شکل مختلف نقشوں میں یا ایک ہی نقش کے کئی مقامات پر بھی آسکتی ہے۔

کیا رمل سے شادی، روزگار یا سفر کے بارے میں سوال کیا جاتا تھا؟

جی ہاں۔ تاریخی روایت میں یہ موضوعات شامل رہے ہیں۔ ان کے لیے متعلقہ خانے اور اشکال دیکھی جاتی تھیں، لیکن محض حساب سے قطعی نتیجہ ثابت نہیں ہوتا۔

کیا علمِ رمل کسی نبی سے منسوب کیا گیا ہے؟

بعض تاریخی روایات میں ایسی نسبتیں ملتی ہیں۔ تاہم انہیں الگ سے مستند دینی روایت سمجھنے کے لیے متعلقہ سند اور ماخذ کی تحقیق ضروری ہے۔

کیا رمل کوئی فرض عبادت یا مقررہ دینی عمل ہے؟

نہیں۔ رمل کے تاریخی استعمال کو فرض عبادت یا قرآن و سنت سے ثابت مخصوص ذکر کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔ اس کے شرعی احکام کا مسئلہ الگ فقہی بحث ہے۔

علمِ رمل سیکھنے کا بہترین آغاز کیا ہے؟

سب سے پہلے طاق اور جفت نقطوں کا اصول سمجھیں۔ پھر چار امہات بنانا سیکھیں اور ان سے بنات، حفیدات، شاہدین اور میزان نکالنے کی مشق کریں۔

حاصلِ کلام

علمِ رمل ایک قدیم روایتی علم ہے جس میں نقطوں سے مخصوص اشکال بنائی جاتی ہیں اور پھر ان اشکال کی ترتیب اور نسبتوں کی مدد سے مختلف سوالات کی تعبیر کی کوشش کی جاتی ہے۔

اس علم کی خاص بات یہ ہے کہ چند بنیادی حسابی اصولوں کے ذریعے ایک مکمل نقش تیار ہوجاتا ہے۔

چار ابتدائی امہات سے بنات نکالی جاتی ہیں، پھر حفیدات، شاہدین اور میزان بنتے ہیں۔

بعض طریقوں میں ایک اضافی شکل عاقبت العاقبہ بھی شامل کی جاتی ہے۔

لیکن علمِ رمل کو صرف نقش بنانے تک محدود سمجھنا بھی درست نہیں۔

اس کی تاریخی روایت میں اشکال کے معانی، گھروں کی نسبتیں، سوال کی نوعیت اور مختلف تعبیراتی طریقے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔

اسی لیے اس علم کا سنجیدہ مطالعہ کرنے والے طالبِ علم کو حساب اور تعبیر دونوں کو الگ الگ اور ان کے صحیح تعلق کے ساتھ سمجھنا چاہیے۔

اس سے علمِ رمل کے تاریخی استعمالات، روایتی مقاصد اور اس کے طریقۂ کار کی بہتر پہچان حاصل ہوتی ہے۔

ماخذ اور مزید مطالعہ

۱۔ برٹش میوزیم — تیرہویں صدی کا رمل سے متعلق آلہ

۶۳۹ ہجری، مطابق ۱۲۴۱ء تا ۱۲۴۲ء، کا ایک تاریخی آلہ، جو غالباً دمشق میں تیار ہوا۔ اس میں اشکال، خانے اور رمل کے عملی استعمال سے متعلق تحریریں موجود ہیں۔

برٹش میوزیم کا اصل ریکارڈ

۲۔ ایمیلی سیویج سمتھ اور میریون بی سمتھ — اسلامی علمِ رمل اور تیرہویں صدی کا ایک تاریخی آلہ

۱۹۸۰ء میں شائع ہونے والی اہم تحقیقی تصنیف، جس میں علمِ رمل کے تاریخی طریقے اور اس سے متعلق آلات کا مطالعہ کیا گیا ہے۔

کتاب کا تحقیقی ریکارڈ

۳۔ ایمیلی سیویج سمتھ اور میریون بی سمتھ — اسلامی رمل کے تاریخی آلے کا دوبارہ جائزہ

یہ تحقیق ۲۰۰۴ء کے مجموعے Magic and Divination in Early Islam میں بھی شامل ہے۔

ناشر کی ویب سائٹ

۴۔ میتھیو میلون کوشکی — اسلامی دنیا میں علمِ رمل

اس تحقیقی مطالعے میں رمل کی اصطلاحات، اشکال، تاریخی روایت اور تعبیر کے طریقوں پر گفتگو کی گئی ہے۔

تحقیق کا مستقل حوالہ

۵۔ پرنسٹن یونیورسٹی — رمل کا مرحلہ وار طریقہ

ایک تعلیمی حوالہ جس میں امہات، بنات، حفیدات، شاہدین، میزان اور اضافی آخری شکل نکالنے کے اصول بیان کیے گئے ہیں۔

مرحلہ وار رہنمائی

۶۔ جامعہ الینوائے کی مخطوطات کی لائبریری — قدیم عربی و عثمانی مخطوطات

اس میں ۱۵۹۱ء کے ایک عثمانی ترکی مخطوطے کا تعارف بھی موجود ہے جو علمِ رمل سے متعلق ہے۔

مخطوطات کا تعارف

ادارتی وضاحت: اس مضمون میں رمل کا حساب ایک معروف تاریخی طریقے کے مطابق بیان کیا گیا ہے۔ اشکال اور گھروں سے منسوب معانی مختلف روایات میں بدل سکتے ہیں۔ کسی خاص سوال کی تعبیر کرتے وقت اصل طریقے، ماخذ اور سوال کی نوعیت کو واضح رکھنا ضروری ہے۔