وَعَلَّمْنَاهُ مِن لَّدُنَّا عِلْمًا — اور ہم نے اسے اپنی جانب سے ایک خاص علم عطا فرمایا۔ (سورۂ کہف، ۱۸:۶۵)
علمِ لدنی کا ذکر آتے ہی بہت سے لوگوں کے ذہن میں پوشیدہ راز، باطنی معرفت اور اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ بندوں کا تصور پیدا ہوتا ہے۔ بعض لوگ اسے ایسا علم سمجھتے ہیں جس سے ہر آنے والی بات معلوم ہو جاتی ہے، اور بعض کے نزدیک یہ مخصوص وظائف سے حاصل ہونے والی کوئی غیر معمولی قوت ہے۔ لیکن اس لفظ کی اصل حقیقت سمجھنے کے لیے سب سے پہلے اُس مقام کی طرف رجوع ضروری ہے جہاں قرآنِ کریم نے اسے بیان فرمایا: حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت خضر علیہ السلام کا واقعہ۔
اس واقعے کی بنیاد نہ کسی انسان کی ذاتی بڑائی ہے اور نہ غیب دانی کا دعویٰ۔ یہاں اللہ تعالیٰ کی رحمت، اس کی عطا، علم کی حدود، شاگردی کے آداب، صبر اور ایسی حکمت کا بیان ہے جس کا پورا رخ انسان کو ابتدا میں دکھائی نہیں دیتا۔ اہلِ تفسیر نے اس واقعے کو قرآن کے بیان کردہ حقائق کے ساتھ سمجھایا، جبکہ اہلِ تصوف نے اس سے بندے کے باطن، معرفتِ الٰہی اور تزکیۂ نفس کے بارے میں بھی لطیف اشارے اخذ کیے۔ دونوں پہلوؤں کو ان کی اپنی حیثیت میں سمجھنا اس مضمون کا مقصد ہے۔
علمِ لدنی کیا ہے؟ لفظ اور معنی
عربی میں علم جاننے اور سمجھنے کو کہتے ہیں۔ لَدُنْ کا تعلق کسی کی جانب یا اُس کے خاص حضور سے ہے۔ سورۂ کہف کی عبارت مِن لَّدُنَّا عِلْمًا میں اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک بندے کے متعلق فرمایا کہ اسے اپنی جانب سے علم عطا کیا۔ اسی سے علمِ لدنی کی اصطلاح مشہور ہوئی۔
آسان الفاظ میں، علمِ لدنی سے مراد ایسا خاص علم ہے جس کی عطا کو اللہ تعالیٰ کی جانب منسوب کیا جاتا ہے۔ قرآن کا قطعی بیان حضرت خضر علیہ السلام کو عطا کیے گئے علم کے بارے میں ہے۔ بعد کے روحانی لٹریچر میں یہی تعبیر کبھی باطن کی کشادگی، الہام یا ایسی فہم کے لیے بھی استعمال ہوئی جو بندہ اللہ کا فضل سمجھ کر اپنے دل میں پاتا ہے۔ البتہ دونوں استعمالات کا مرتبہ یکساں نہیں: قرآنی واقعہ وحی کے ذریعے معلوم شدہ حقیقت ہے، جبکہ کسی دوسرے انسان کا اپنے باطن کے بارے میں بیان اس کا ذاتی بیان ہی رہتا ہے۔
یہ بات بھی یاد رہے کہ کتاب پڑھنا، استاد سے سبق لینا، قرآن سمجھنا اور احکامِ دین سیکھنا اپنی جگہ عظیم نعمت ہے۔ علمِ لدنی کے ذکر سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ ظاہری تعلیم غیر ضروری ہے۔ خود حضرت موسیٰ علیہ السلام کا طویل سفر اور ان کی طلبِ علم اس کے خلاف روشن شہادت ہے۔
قرآنِ کریم میں علمِ لدنی کا اصل مقام
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
فَوَجَدَا عَبْدًا مِّنْ عِبَادِنَا آتَيْنَاهُ رَحْمَةً مِّنْ عِندِنَا وَعَلَّمْنَاهُ مِن لَّدُنَّا عِلْمًا
ترجمے کا مفہوم: پھر اُن دونوں نے ہمارے بندوں میں سے ایک ایسے بندے کو پایا جسے ہم نے اپنی طرف سے رحمت عطا کی تھی اور اپنی جانب سے خاص علم سکھایا تھا۔ سورۂ کہف، آیت ۶۵ ملاحظہ فرمائیں۔
غور کیجیے کہ آیت میں پہلے رحمت کا ذکر ہے، پھر علم کا۔ اس ترتیب میں اہلِ دل کے لیے بڑا سبق ہے۔ اللہ کی عطا کو بندے کی خود ساختہ بزرگی نہیں بنانا چاہیے۔ جو علم اللہ کی طرف سے ہو اس کا تذکرہ عاجزی پیدا کرے، تکبر نہیں۔
امام طبری رحمہ اللہ نے اس مقام پر «مِن لَّدُنَّا عِلْمًا» کی تشریح اس معنی میں فرمائی کہ اللہ تعالیٰ نے اُس بندے کو اپنی طرف سے علم سکھایا۔ امام ابن کثیر رحمہ اللہ نے صحیح احادیث کی روشنی میں اس بندے کی شناخت حضرت خضر علیہ السلام سے کی اور پورا واقعہ نقل کیا۔ یوں علمِ لدنی کا بنیادی حوالہ کوئی پوشیدہ کتاب یا عددی جدول نہیں، بلکہ قرآن اور سنت کا واضح بیان ہے۔ تفسیرِ طبری اور تفسیرِ ابن کثیر۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام علم کی تلاش میں کیوں نکلے؟
سورۂ کہف کی آیات ۶۰ تا ۶۴ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنے ایک نوجوان ساتھی کے ساتھ دو سمندروں کے ملنے کی جگہ کی طرف روانہ ہوئے۔ ایک مچھلی کے معاملے کو سفر کی نشانی بنایا گیا۔ جب انہیں اس نشانی کا علم ہوا تو وہ اپنے قدموں کے نشان دیکھتے ہوئے واپس لوٹے اور اللہ تعالیٰ کے اُس بندے تک پہنچے جس کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا تھا۔
صحیح بخاری کی روایت میں اس ملاقات کا پس منظر مزید وضاحت سے آیا ہے۔ یہاں ایک نہایت حسین بات سامنے آتی ہے: اللہ کے جلیل القدر نبی حضرت موسیٰ علیہ السلام حصولِ علم کے لیے سفر فرماتے ہیں، سوال کرتے ہیں، اور سیکھنے کی خواہش کا اظہار کرتے ہیں۔ صحیح بخاری، حدیث ۱۲۲۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا:
هَلْ أَتَّبِعُكَ عَلَىٰ أَن تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا
مفہوم: کیا میں آپ کے ساتھ رہ سکتا ہوں، تاکہ آپ کو جو ہدایت آموز علم عطا ہوا ہے اس میں سے مجھے بھی سکھائیں؟ سورۂ کہف، آیت ۶۶۔
یہاں قابلِ توجہ لفظ رُشد ہے؛ یعنی درست رہنمائی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کوئی کرشمہ دکھانے کا مطالبہ نہیں فرمایا، نہ یہ پوچھا کہ کون سا راز دوسروں کو حیران کر دے گا۔ انہوں نے علم اور ہدایت چاہی۔ حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا کہ جن باتوں کا پورا احاطہ آپ کے سامنے نہیں، اُن پر صبر کرنا دشوار ہوگا۔ پھر ساتھ رہنے کا ایک ادب مقرر ہوا کہ وضاحت سے پہلے سوال نہ کیا جائے۔ آیات ۶۷ تا ۷۰۔
کشتی، لڑکا اور دیوار: تین واقعات، تین حکمتیں
اس سفر میں تین ایسے واقعات پیش آئے جن کی ظاہری صورت دیکھ کر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بجا طور پر سوال فرمایا۔ بعد میں حضرت خضر علیہ السلام نے ان کی وہ حقیقت بتائی جس کا علم انہیں اللہ تعالیٰ کی عطا سے ہوا تھا۔ ان واقعات کا باطنی پہلو بیان کرتے وقت ضروری ہے کہ وہی حقیقت اصل سمجھی جائے جو خود قرآن نے بتائی ہے؛ محض اپنے خیال سے نئی بات اس میں شامل نہ کر دی جائے۔
پہلا واقعہ: کشتی میں عیب اور غریب لوگوں کا تحفظ
ایک کشتی کے مالکوں نے سفر میں مدد کی۔ حضرت خضر علیہ السلام نے کشتی کے ایک حصے میں عیب پیدا کر دیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فوراً اعتراض فرمایا کہ جن لوگوں نے احسان کیا، ان کی کشتی کیوں نقصان پہنچائی گئی؟ بعد میں بتایا گیا کہ کشتی چند غریب لوگوں کی تھی جو سمندر میں محنت کرتے تھے، اور آگے ایک بادشاہ اچھی کشتیوں پر زبردستی قبضہ کر لیتا تھا۔ اس عیب کی وجہ سے اُن کی کشتی بچ گئی۔ آیت ۷۱، آیت ۷۹۔
اہلِ معرفت یہاں یہ پہلو بیان کرتے ہیں کہ بندے کو کبھی واقعے کا ایک رخ دکھائی دیتا ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ کی حکمت اس سے وسیع ہوتی ہے۔ تاہم یہ کہنا درست نہیں کہ ہمیں ہر نقصان کا پوشیدہ سبب معلوم ہے یا ہم ہر مصیبت کی یقینی غیبی تعبیر بتا سکتے ہیں۔ اس کشتی کی وجہ ہمیں اس لیے معلوم ہے کہ قرآن نے خود واضح فرمائی ہے۔
دوسرا واقعہ: لڑکے کے معاملے کی غیر معمولی حقیقت
اگلے واقعے میں ایک لڑکے کی جان لینے کا ذکر آیا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس پر سخت اعتراض کیا؛ یہ اعتراض قرآن نے محفوظ فرمایا۔ بعد میں حضرت خضر علیہ السلام نے بتایا کہ اُس لڑکے کے والدین مومن تھے اور اللہ تعالیٰ نے ان کے حق میں مخصوص معاملے کی حکمت ظاہر فرمائی۔ آیت ۷۴، آیات ۸۰ تا ۸۱۔
یہ واقعہ کسی پیر، عامل یا عام انسان کے لیے ہرگز اجازت نہیں کہ وہ الہام یا علمِ لدنی کا دعویٰ کر کے کسی کو نقصان پہنچائے۔ حضرت خضر علیہ السلام کے اس فعل کی حیثیت اسی قرآنی بیان اور خصوصی الٰہی ہدایت کے ساتھ وابستہ ہے۔ کسی دوسرے شخص کے اندر پیدا ہونے والے خیال کو اس کے برابر رکھنا خطرناک غلطی ہوگی۔ انسان پر اللہ تعالیٰ کے معلوم احکام اور بندوں کے حقوق کی پابندی لازم رہتی ہے۔
تیسرا واقعہ: دیوار کے نیچے یتیموں کی امانت
دونوں ایک بستی میں پہنچے جہاں اہلِ بستی نے مہمان نوازی سے انکار کیا۔ وہاں ایک دیوار گرنے کو تھی۔ حضرت خضر علیہ السلام نے اسے درست کر دیا اور کوئی معاوضہ نہیں لیا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ اُس کے نیچے دو یتیم بچوں کا خزانہ تھا اور ان کا والد نیک تھا۔ اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ وہ بڑے ہو کر اپنا حق وصول کر لیں۔ آیت ۷۷ اور آیت ۸۲۔
اس واقعے میں یتیموں کی حفاظت، والد کی نیکی کے آثار اور بے غرض خدمت کا پہلو نمایاں ہے۔ سب سے اہم بات حضرت خضر علیہ السلام کا آخری ارشاد ہے:
وَمَا فَعَلْتُهُ عَنْ أَمْرِي
مفہوم: میں نے یہ کام اپنی طرف سے نہیں کیے۔ سورۂ کہف، آیت ۸۲۔
یہ الفاظ علمِ لدنی کو سمجھنے میں بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ حضرت خضر علیہ السلام اپنے آپ کو غیب کا خودمختار مالک نہیں بتا رہے بلکہ معاملے کو اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹا رہے ہیں۔
| واقعہ | سامنے آنے والی صورت | قرآن میں بیان کردہ حکمت | روحانی سبق |
|---|---|---|---|
| کشتی | کشتی کو عیب پہنچا | غریب مالکان بادشاہ کے قبضے سے بچ گئے | ظاہری نقصان کے پیچھے کبھی مخصوص رحمت ہوتی ہے |
| لڑکا | ایک انتہائی سخت واقعہ | اس معاملے کی خصوصی حقیقت بتائی گئی | کوئی عام شخص اس بنا پر کسی کو نقصان نہیں پہنچا سکتا |
| دیوار | بلا معاوضہ مرمت | دو یتیموں کا خزانہ محفوظ رہا | بے غرض خدمت اور اللہ کی رحمت |
حدیثِ مبارک سے علمِ لدنی کا ایک بڑا اصول
صحیح بخاری میں حضرت خضر علیہ السلام کا حضرت موسیٰ علیہ السلام سے یہ مفہوم نقل ہوا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے اپنے علم میں سے ایک ایسا حصہ سکھایا ہے جسے آپ نہیں جانتے، اور آپ کو ایک ایسا علم عطا ہوا ہے جسے میں نہیں جانتا۔ صحیح بخاری ۱۲۲۔
یہ گفتگو نہایت گہری ہے۔ اس میں کسی نبی کی شان کم نہیں کی گئی، بلکہ واضح ہوا کہ علم کی عطا اور اس کے مختلف پہلو اللہ تعالیٰ کی مشیت سے متعلق ہیں۔ ایک شخص کی خاص معلومات کو تمام علم کا احاطہ سمجھ لینا اسی سبق کے خلاف ہے۔
ایک دوسری روایت میں آیا ہے کہ ایک چڑیا نے سمندر سے اپنی چونچ میں تھوڑا پانی لیا۔ حضرت خضر علیہ السلام نے اس کی مثال دے کر بتایا کہ اللہ تعالیٰ کے علم کے مقابلے میں انسانوں کا علم کس قدر محدود ہے۔ صحیح بخاری ۳۴۰۱۔
اس حدیث کا اثر دل میں عجز و انکسار پیدا کرنا ہے، نہ کہ دوسروں کے سامنے اپنے لیے غیر معمولی مرتبہ ثابت کرنا۔
علمِ لدنی اور معرفتِ الٰہی کا تعلق
تصوف کی زبان میں معرفت کا تعلق اللہ تعالیٰ کی عظمت، صفات، رحمت اور بندے کی اپنی محتاجی کے ادراک سے ہے۔ محض الفاظ میں اللہ کی رحمت بیان کرنا ایک بات ہے، اور اپنی زندگی میں اس رحمت کے سبب بندوں کے ساتھ نرمی اختیار کرنا دوسری بات۔ یہی فرق باطن کی تربیت کا موضوع بنتا ہے۔
علمِ لدنی کی نسبت سے اہلِ تصوف کبھی فتحِ قلب، نورِ بصیرت یا باطن میں کسی دینی حقیقت کے واضح ہونے کا ذکر کرتے ہیں۔ اس سے ان کی مراد عموماً یہ ہوتی ہے کہ بندے کو کسی معروف حق کا اثر اپنے اندر زیادہ گہرائی سے محسوس ہوا۔ ایسے بیانات کو قرآن کے حضرت خضر علیہ السلام والے قطعی واقعے سے خلط ملط نہیں کرنا چاہیے۔ کسی صاحبِ حال کی ذاتی کیفیت ایک محترم تجربہ ہو سکتی ہے؛ لیکن اس سے دوسروں کے لیے نیا شرعی حکم قائم نہیں ہوتا۔
علم کا حسن یہ ہے کہ وہ بندے کو اللہ کی طرف متوجہ کرے۔ اگر کسی معرفتی دعوے سے تکبر، خوف پھیلانا، دوسروں کی تذلیل یا لوگوں پر غیر معمولی تسلط قائم کرنا پیدا ہو تو اسے روحانی بلندی کی یقینی علامت نہیں کہا جا سکتا۔
علمِ لدنی، الہام، کشف اور وحی میں کیا فرق ہے؟
روحانی کتابوں میں یہ الفاظ قریب قریب استعمال ہوتے ہیں، لیکن ان کی حیثیت ایک نہیں۔ لفظی مشابہت کی وجہ سے ہر باطنی احساس کو وحی یا قطعی علم سمجھ لینا درست نہیں۔
| اصطلاح | بنیادی مفہوم | ضروری امتیاز |
|---|---|---|
| علمِ لدنی | اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ خاص علم | قرآن میں حضرت خضر علیہ السلام کا واقعہ اصل حوالہ ہے |
| الہام | دل میں کسی بات کا القا یا خیال پیدا ہونا | ذاتی الہام دوسروں کے لیے وحی یا لازمی حکم نہیں |
| کشف | بعض صوفیانہ تعبیرات میں پردے کا اٹھنا یا بات کا منکشف ہونا | ہر دعویٰ درست یا قابلِ اتباع ہونا لازم نہیں |
| معرفت | اللہ تعالیٰ کی پہچان، عظمت اور بندگی کا باطنی ادراک | اس کا اثر عاجزی اور عمل میں ظاہر ہونا چاہیے |
| وحیِ نبوت | اللہ تعالیٰ کا انبیائے کرام کو وحی فرمانا | اس کا مقام عام انسان کے احساس و الہام سے الگ ہے |
اس جدول کا مقصد روحانی روایت کو کم کرنا نہیں بلکہ ہر لفظ کی حرمت اور اس کے صحیح مقام کو محفوظ رکھنا ہے۔ نبی کے ذریعے ملنے والی وحی اور عام شخص کی باطنی کیفیت برابر نہیں ہو سکتیں۔
امام طبری، امام ابن کثیر اور اہلِ تصوف کی تعبیرات
مفسرین کے نزدیک آیت کی بنیاد
امام طبری رحمہ اللہ نے آیت کے الفاظ کو اللہ تعالیٰ کی جانب سے عطا کیے گئے علم کے معنی میں لیا۔ امام ابن کثیر رحمہ اللہ نے حدیث کی روشنی میں حضرت خضر علیہ السلام کا ذکر کیا اور کشتی، لڑکے اور دیوار کے واقعات کی شرح بیان کی۔ ان تفاسیر کا فائدہ یہ ہے کہ پڑھنے والا پہلے آیت کے اصل معنی، سیاق اور نبوی روایت سے واقف ہوتا ہے، پھر دوسرے روحانی مباحث کی طرف بڑھتا ہے۔
امام غزالی اور اصلاحِ قلب کی روایت
امام ابو حامد غزالی رحمہ اللہ کی فکر میں دل کی اصلاح، نیت کی پاکیزگی، اخلاص، ذکر اور اللہ تعالیٰ کی معرفت کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ ان کے فکری ماحول میں تعلیم و تحصیل کے ساتھ ایسے باطنی ادراک پر بھی گفتگو ملتی ہے جو دل کی اصلاح اور اللہ کی عطا سے متعلق سمجھا جاتا ہے۔ اس سے یہ دعویٰ اخذ نہیں کرنا چاہیے کہ ہر شخص کا ہر اندرونی خیال لازماً درست ہے، یا کسی کیفیت کے ذریعے وہ احکامِ شریعت سے آزاد ہو جاتا ہے۔
اہلِ سلوک کے ہاں باطنی کشادگی
سلوک سے مراد اللہ تعالیٰ کی بندگی میں نفس کی تربیت کا سفر ہے۔ تزکیہ دل کو بری خصلتوں سے پاک کرنے کی کوشش، مراقبہ اللہ کی حضوری کے احساس سے وابستہ توجہ، اور ذکر اللہ کی یاد سے قلب و زبان کو آباد کرنا ہے۔ اس ماحول میں کبھی فتح یا انوارِ معرفت جیسی تعبیریں استعمال ہوتی ہیں۔ یہ الفاظ روحانی روایت کا حصہ ہیں، مگر ہر سلسلے اور ہر مصنف کے نزدیک ان کی تفصیل یکساں نہیں۔ انہیں کسی لازمی، خودکار اور تضمین شدہ طریقے کی صورت نہیں دینا چاہیے۔
حضرت خضر علیہ السلام نبی تھے یا ولی؟
اس سوال پر اہلِ علم کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔ بہت سے مفسرین نے حضرت خضر علیہ السلام کے لیے نبوت کو راجح سمجھا، خصوصاً ان افعال اور «وَمَا فَعَلْتُهُ عَنْ أَمْرِي» کے تناظر میں جن کا ذکر قرآن میں ہے۔ بعض اہلِ علم نے ان کی ولایت اور خاص بندگی کی حیثیت پر گفتگو کی۔ اس اختلاف کا ذکر دیانت کا تقاضا ہے؛ کسی ایک تعبیر کو تمام علما کا متفقہ قول بنا کر پیش نہیں کرنا چاہیے۔ آیت ۶۵ کی تفسیری توضیح۔
البتہ اختلاف کے باوجود اس داستان کا ایک اصول واضح رہتا ہے: حضرت خضر علیہ السلام کے خصوصی قرآنی واقعات کسی بعد کے عامل، مرشد یا شخص کو شریعت کی حدود توڑنے کا اختیار نہیں دیتے۔
کیا علمِ لدنی حاصل کرنے والا غیب جان لیتا ہے؟
قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ کے لیے عَالِمُ الْغَيْبِ کی صفت آئی ہے۔ سورۂ جن کی آیات ۲۶–۲۷ میں علمِ غیب کا اصل مالک اللہ تعالیٰ کو بتایا گیا ہے اور جن رسولوں کو وہ پسند فرمائے ان کے لیے مخصوص اظہار کا ذکر ہوا ہے۔ آیات ملاحظہ فرمائیں۔
اس لیے علمِ لدنی کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی بھی شخص اپنے ارادے سے ہر چھپی ہوئی بات جان سکتا ہے، کسی کی تقدیر قطعی طور پر پڑھ سکتا ہے یا مستقبل کے تمام واقعات کی خبر دے سکتا ہے۔ حضرت خضر علیہ السلام کے بارے میں قرآن جس بات کو بیان کرتا ہے وہ اپنی جگہ حق ہے۔ لیکن کسی دوسرے شخص کا یہ کہنا کہ مجھے بھی ایسا ہی قطعی علم حاصل ہے، اپنے دعوے کے لیے قرآن جیسی سند نہیں رکھتا۔
یہ فرق ماننے سے روحانیت کی قدر کم نہیں ہوتی؛ بلکہ اللہ تعالیٰ کے علم، وحی کی حرمت اور انسان کے محدود مرتبے کو درست مقام ملتا ہے۔
کیا علمِ لدنی کسی مخصوص وظیفے سے ملتا ہے؟
لوگ اکثر پوچھتے ہیں کہ علمِ لدنی حاصل کرنے کے لیے کون سا اسم پڑھا جائے، کتنی بار ورد کیا جائے، یا کتنے دن کسی مخصوص عمل کو انجام دیا جائے۔ سورۂ کہف میں ایسی کوئی تعداد، چلہ یا قطعی ضمانت بیان نہیں کی گئی کہ اسے پورا کرتے ہی حضرت خضر علیہ السلام جیسا علم حاصل ہو جائے گا۔
ہاں، دین نے اپنے بندوں کو دعا، ذکر، توبہ، نماز، تلاوتِ قرآن، اخلاص اور علمِ نافع کی طلب سکھائی ہے۔ یہ اعمال اللہ کی بندگی اور قرب کے لیے ہیں؛ کسی چھپی ہوئی قوت کا حق حاصل کرنے کا سودا نہیں۔ روحانی تربیت میں شیخ کی صحبت، ادب، خدمت، حلال روزی اور اخلاق کی درستگی جیسے موضوعات کا ذکر بھی ہوتا ہے، مگر کسی انسان کی ہر بات کو بلا دلیل ماننا یا اسے غیب کا خودمختار جاننے لگنا ان کا لازمی نتیجہ نہیں۔
حضورِ اکرم ﷺ کو قرآن میں یہ دعا سکھائی گئی:
رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا
ترجمہ: اے میرے رب! میرے علم میں اضافہ فرما۔ سورۂ طٰہٰ، آیت ۱۱۴۔
یہ ہر طالبِ علم کے لیے نہایت خوبصورت قرآنی دعا ہے۔ اسے کسی متعین گنتی میں پڑھ کر غیب کی خبر حاصل ہونے کی یقینی ترکیب قرار دینا اس آیت کا دعویٰ نہیں۔
علم کے ساتھ رحمت اور ادب کا تعلق
آیت میں «رحمت» اور «علم» کا یکجا ذکر ہمیں ایک معیار دیتا ہے: علم کا تعلق محض اطلاع سے نہیں، بندگی کے اخلاق سے بھی ہے۔ کشتی کے غریب مالک، لڑکے کے مومن والدین اور دیوار کے نیچے موجود یتیم بچے—تینوں واقعات میں اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ مخصوص حکمت سامنے آتی ہے۔ انسان کا دل اگر اس سے کمزوروں کا خیال، اللہ کے فیصلے پر بھروسہ اور اپنے علم کے بارے میں احتیاط سیکھے تو اس نے واقعے کی ایک بڑی تربیتی جہت پا لی۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام کا انداز بھی دیکھنے کے قابل ہے: علم حاصل کرنے کے لیے اجازت طلب کرنا، سوال کرنے کی حرمت برقرار رکھنا، اور سچائی تک پہنچنے کی خواہش رکھنا۔ طالبِ معرفت کے لیے ضروری نہیں کہ وہ اپنے بارے میں غیر معمولی باتیں مشہور کرے۔ بعض اوقات «اللہ بہتر جانتا ہے» کہنا بہت بڑی عبادتِ قلبی بن جاتا ہے۔
روزمرہ زندگی میں اس واقعے سے کیا سمجھا جائے؟
ہر دکھ کا پوشیدہ سبب جاننے کا دعویٰ نہ کریں
کشتی والے واقعے سے اللہ کی حکمت پر اعتماد پیدا ہوتا ہے، لیکن کسی دکھی انسان سے یہ کہنا کہ اس کے ساتھ پیش آنے والی ہر تکلیف کا مخصوص باطنی سبب ہمیں معلوم ہے، درست رویہ نہیں۔ قرآن نے جن واقعات کی حقیقت بتائی ہے وہ اپنی جگہ ہیں؛ ہماری زندگی کے تمام واقعات کا پردہ ہمارے سامنے نہیں اٹھایا گیا۔
صبر اور ظلم کے درمیان فرق باقی رکھیں
حضرت خضر علیہ السلام کے واقعے کو کسی انسان کی زیادتی، مالی دھوکے یا جبر کے جواز کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ خصوصی الٰہی ہدایت والا قرآنی واقعہ اور ایک عام شخص کا اپنے لیے پوشیدہ اجازت کا دعویٰ دو الگ چیزیں ہیں۔
خاموش خدمت بھی معرفت کی علامت ہو سکتی ہے
دیوار کی مرمت پر فوری معاوضہ نہ لینا اور یتیموں کے حق کا محفوظ ہونا ایک خوبصورت یاد دہانی ہے: بندہ ہر نیکی کا صلہ انسانوں سے نہیں مانگتا۔ تاہم اس سے کسی کے واجب حق کو روکنا یا خدمت کرنے والوں کا استحصال درست نہیں ہو جاتا۔
علمِ لدنی، استخارہ اور خواب کی تعبیر میں فرق
تینوں موضوعات روحانی رہنمائی سے متعلق ہونے کے باعث کبھی ایک دوسرے میں مل جاتے ہیں، مگر ان کے اصل سوال الگ ہیں۔ استخارہ اللہ تعالیٰ سے خیر طلب کرنے کی مسنون دعا اور نماز ہے۔ تعبیرِ خواب قرآن و حدیث کی روشنی میں خواب اور اس کی تعبیر کے آداب کا باب ہے۔ علمِ لدنی سورۂ کہف میں اللہ کی طرف سے ایک خاص علم کی عطا کا ذکر ہے، جس سے بعد کے اہلِ سلوک نے معرفتی پہلو بھی اخذ کیے۔ کوئی ذاتی خواب، قلبی میلان یا تاثر محض ان ناموں کی وجہ سے وحی کا درجہ نہیں پا جاتا۔ مزید مطالعے کے لیے ہمارا علمِ تعبیرِ خواب کا مضمون ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔
علمِ لدنی کے بارے میں عام سوالات
کیا علمِ لدنی کا ذکر قرآن میں صاف الفاظ میں ہے؟
قرآنِ کریم میں «مِن لَّدُنَّا عِلْمًا» سورۂ کہف، آیت ۶۵ میں موجود ہے۔ «علمِ لدنی» اسی تعبیر سے ماخوذ مشہور اصطلاح ہے۔
کیا ہر ولی اللہ کے پاس علمِ لدنی ہوتا ہے؟
کسی فرد کے لیے لازماً اس خاص علم کا حامل ہونا قرآن کی اس آیت سے ثابت نہیں ہوتا۔ بزرگی، تقویٰ اور معرفت کے بارے میں گفتگو اور کسی مخصوص شخص کے قطعی غیبی مرتبے کا اعلان الگ باتیں ہیں۔
کیا اسے استاد کے بغیر حاصل کیا جا سکتا ہے؟
بندہ اللہ سے فہم اور رحمت مانگ سکتا ہے، لیکن اس بنا پر قرآن، حدیث اور دینی تعلیم کو چھوڑ دینا درست نہیں۔ خود حضرت موسیٰ علیہ السلام نے علم کے لیے سفر کیا اور سیکھنے کی درخواست فرمائی۔
کیا کشف یا الہام ہمیشہ صحیح ہوتا ہے؟
نہیں، کسی شخص کا باطنی تاثر اس کے لیے ذاتی کیفیت ہو سکتا ہے، مگر وہ لازماً قطعی حجت نہیں۔ اس کی وجہ سے وحی کے ثابت شدہ احکام تبدیل نہیں ہوتے۔
کیا کوئی عامل علمِ لدنی سے میرے مستقبل کی پکی خبر دے سکتا ہے؟
کسی انسان کے دعوے کو محض «علمِ لدنی» کا نام دینے سے اسے مستقبل کا یقینی علم حاصل نہیں ہو جاتا۔ کامل علمِ غیب اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے۔
حضرت خضر علیہ السلام کے واقعے میں اصل روحانی سبق کیا ہے؟
اللہ تعالیٰ کی رحمت پر اعتماد، علم میں عاجزی، تعلیم کے آداب، صبر، انسانوں کے حقوق کی حفاظت اور اُس چیز کے متعلق بے جا یقین سے پرہیز جس کا علم ہمیں نہیں دیا گیا۔
کیا علمِ لدنی اور معرفت ایک ہی چیز ہیں؟
دونوں میں تعلق ہو سکتا ہے، مگر اصطلاحات مکمل طور پر مترادف نہیں۔ علمِ لدنی کے قرآنی استعمال کی ایک خاص بنیاد ہے، جبکہ معرفت کا لفظ بندے کے باطنی ادراک اور اللہ تعالیٰ کی پہچان کے لیے زیادہ وسیع طور پر استعمال ہوتا ہے۔
مصادر و مراجع
۱۔ قرآنِ کریم، سورۂ کہف، آیات ۶۰ تا ۸۲: حضرت موسیٰ و خضر علیہما السلام کا مکمل واقعہ اور اس کی وضاحت۔ آیات ملاحظہ فرمائیں۔
۲۔ سورۂ کہف، آیات ۶۵–۶۶: «مِن لَّدُنَّا عِلْمًا» اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی درخواستِ علم۔ آیات پڑھیں۔
۳۔ صحیح بخاری، حدیث ۱۲۲ اور ۳۴۰۱: حضرت موسیٰ و خضر علیہما السلام کی ملاقات، دونوں کو عطا کردہ علم اور سمندر و چڑیا کی مثال۔ حدیث ۱۲۲؛ حدیث ۳۴۰۱۔
۴۔ تفسیرِ طبری، سورۂ کہف ۱۸:۶۵: «مِن لَّدُنَّا عِلْمًا» کی تشریح۔ اصل تفسیر۔
۵۔ تفسیرِ ابن کثیر، سورۂ کہف ۱۸:۶۵: حضرت خضر علیہ السلام کی شناخت اور روایت کی تفصیل۔ اصل تفسیر۔
۶۔ سورۂ جن، آیات ۲۶–۲۷: علمِ غیب کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف۔ آیات پڑھیں۔
۷۔ سورۂ طٰہٰ ۲۰:۱۱۴ اور سورۂ بقرہ ۲:۳۲: علم میں اضافے کی دعا اور ہر علم کے حقیقی عطا کرنے والے کا اقرار۔ ۲۰:۱۱۴؛ ۲:۳۲۔
ادارتی وضاحت: اس مضمون میں قرآن و حدیث کے قطعی بیان، مفسرین کی توضیح اور بعد کی روحانی و صوفیانہ اصطلاحات کی حیثیت الگ الگ رکھی گئی ہے۔ مقصد علمِ لدنی کی معرفتی اہمیت سمجھانا ہے، کسی فرد کی غیب دانی، خاص ولایت یا قطعی پیش گوئی کی تصدیق کرنا نہیں۔